مومن فیاض احمد غلام مصطفی
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا:
“قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ”
(سورۃ الزمر: 9)
ترجمہ: کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے، برابر ہو سکتے ہیں؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔” (ابن ماجہ)
یہ آیت اور حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ علم اور استاد کی حیثیت انسان کی زندگی میں کتنی بنیادی اور عظیم ہے۔
استاد کی عظمت اور مقام:
استاد انسان کی زندگی کا وہ معمار ہے جو ذہن کی تاریکیوں کو علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔ استاد صرف کتابوں کا علم نہیں دیتا بلکہ کردار سنوارتا ہے، اخلاق جگاتا ہے اور انسانیت کا سبق سکھاتا ہے۔ اسی لیے استاد کو معاشرے کا سب سے بڑا محسن کہا جاتا ہے۔
والدین ہمیں دنیا میں لاتے ہیں، لیکن استاد ہمیں دنیا کے قابل بناتا ہے۔ قوموں کی ترقی اور زوال کا راز ان کے اساتذہ کے کردار میں پوشیدہ ہے۔ جس سماج نے استاد کو عزت دی وہ بلند ہوا، اور جس نے استاد کی بے قدری کی وہ پستی میں جا گرا۔
استاد کی ذمہ داریاں:
استاد ایک چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔ اس پر ذمہ داری ہے کہ وہ شاگردوں کو صرف امتحان کے لیے تیار نہ کرے بلکہ زندگی کے ہر امتحان کے لیے ان کی تربیت کرے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ:
علم کے ساتھ اخلاق بھی عطا کرے۔
طلبہ میں ایمانداری، محنت اور خدمتِ خلق کے جذبات پیدا کرے۔
نئی نسل کو انسانیت، رواداری اور اخوت کا درس دے۔
کردار سازی کو تعلیم کا اصل مقصد بنائے۔
نبی کریم ﷺ: سب سے بڑے معلم:
دنیا کے سب سے عظیم استاد، سب سے بڑے رہنما اور سب سے بڑے معلم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ نے عرب کی جاہل قوم کو علم و ہدایت کی روشنی عطا کی، عدل، مساوات اور بھائی چارہ قائم کیا، عورتوں کو عزت دی، غلاموں کو آزادی کا سبق دیا، اور کمزوروں کو سہارا دیا۔ آپ ﷺ نے یہ واضح کر دیا کہ استاد کی حیثیت صرف علم دینے والے کی نہیں بلکہ انسانیت کے رہنما کی ہے۔
5 ستمبر کا خاص پیغام:
یہ کتنا حسین اتفاق ہے کہ 5 ستمبر کو ہندوستان میں یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے اور اسی تاریخ کو تقریباً 1500 برس پہلے دنیا کے سب سے بڑے استاد، نبی کریم ﷺ کی ولادت بھی ہوئی۔ گویا یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہمیں استاد کی اصل عظمت کو سمجھنا ہے تو ہمیں حضور ﷺ کی سیرت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔
یومِ اساتذہ مناتے وقت ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ استاد صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی سیرت کو اپنی تعلیم و تربیت کا معیار بنائے۔ کیونکہ وہی تعلیم زندہ رہنے والی ہے جو انسان کو انسانیت کا درس دے۔
یہ بھی پڑھیئے
فن اور ثقافت کے میدان میں بہترین کارکردگی کے اعتراف میں
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اساتذہ کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں میں علم کی محبت اور استاد کی عظمت کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اساتذہ کی محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے۔
آمین یا رب العالمین
����
مومن فیاض احمد غلام مصطفی
سپر وائزر
صمدیہ ہائی اسکول و جونئیر کالج، بھیونڈی
