میرے پیارےبابا جان 0

میرے پیارےبابا جان

سید آبدو

اے میرے پیارے بابا یہ چند الفاظ آپ کے لیے۔ میرے پیارے بابا کا نام ثناء اللہ پیر ہے۔ جن سے میں بے حد محبت کرتی ہوں۔ لیکن میرے اندر اتنی ہمت ہی نہیں ہوتی کہ میں اُس سے کہوں کہ میں آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں۔ میں جب بھی اُسے دیکھتی ہوں مجھے اتنا پیار آتا ہےاُس پر میرا دل اتنا بے چین ہوتا ہے، میری آنکھیں نم ہوتی ہے کہ کاش میں ایک بار اپنے بابا کے ماتھے کو چوم لوں. جب اُس کے سامنے جاتی ہوں میں رکھ جاتی ہوں. میں اُس کے ماتھے کو چوم ہی نہیں پاتی۔ میں اپنے بابا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں نہیں لے پاتی ہوں۔ میں اُس کے ہاتھوں کو ہزار بار چومتی اُنہیں اپنے سر پر رکھتی۔ اُس کے پیروں کو چومتی۔ اُس کے پیر دھوکر پیتی۔اُس کے پیروں کو اپنے ماتھے سے لگاتی۔ اپنے بابا کے ہاتھوں کی وہ لکیریں جب بھی میری نظر اُن پر پڑتی تو ایک الگ ہی خوشی ملتی۔ کیونکہ اُن لکیروں میں میں ہوں۔ میں اپنے بابا کے پاؤں کی دھو ل کو اپنا رزق سمجھتی ہوں۔ جب میں بابا کی طرف دیکھتی ہوں تو ایک طرف خوشی تو دوسری طرف اُداسی ہو جاتے ہے کہ ایک دن میرے بابا مجھے چھوڑ کر جاینگے۔ میری بڑتی عمر کے ساتھ ساتھ میرے بابا بھی مجھ سے دور ہو رہے ہے اُس نے شادی کے بعد اپنے زندگی، عزت، دولت، خوشی سب کچھ اپنی بیٹوں کو دیا. جب بھی میرے بابا میرے سر پر ہاتھ رکھتے ہے مجھے دنیا کی ہر خوشی ملتی ہے۔ معنو کہ سب پا لیا ہو جیسے۔ میں اتنی خوش ہوتی ہوں جس کو میں بیاں ہی نہیں کرسکتی۔ میرے بابا جب مجھے آواز دیتے ہے دنیا کی سب سے خوبصورت آواز بنتی ہے وہ میرے لیے۔ میرے اندر ایک ریدم سا اُٹھتا ہے۔میں اللہ میاں سے ہمیشہ یہ مانگتی ہوں مجھے دنیا کا بہترین اولاد بنا دینا۔میں اپنے بابا کو دنیا کی ساری خوشیاں ، سکون، آرام، وہ سب جس کے وہ حق دار ہیں۔ میں اپنے بابا کو اپنی کمائی پر حج پر لے جاؤں۔ اللہ تعالٰی نے مجھے دنیا اور آخرت کی سب سے خوبصورت چیز عطا کی ہے۔ اور مجھے کیا ہی چاہیے۔ میرے بابا میرے لیے دُعا کرتے ہے اور میں اپنے بابا کے لیے۔ میری دعا خود کے لیے اتنی ہی ہے کہ اے میرے مالک میں اپنے بابا کے ماتھے کو ،اُس کے ہاتھوں کو ،اُس کے پیروں کو بس ایک بار دل میں بھر پور عزت اور بابا کے لیے پیار ، آنکھوں میں حیا اور آنسوں لے کر چوم لوں۔
اے پدرِ عزیز کہ جانم فدای تو
قربانِ مہربانی و لطف و صفای تو
اے میرے عزیز بابا! گر بود اختیارِ جہان با دستِ من
می‌ریختم تمامِ جہان را با پایِ تو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں