اِرم اور کھویا ہوا رنگ 0

اِرم اور کھویا ہوا رنگ

تحریر: ڈاکٹر فیاض احمد

گاؤں پہاڑگڑھ کے دامن میں اِرم نام کی ایک ننھی سی لڑکی رہتی تھی۔ اِرم کو بارش سے بےحد محبت تھی۔ جب سب لوگ چھت کے نیچے بھاگتے تھے تو اِرم ننگے پاؤں کیچڑ میں دوڑتی، پانی میں چھپاک چھپاک کرتی اور بادلوں سے باتیں کرتی۔
اس کا پیارہ دوست ایک چھوٹا سا سفید خرگوش تھا، جسے وہ “روئی” کہتی تھی۔ روئی کے کان ایسے لگتے جیسے بادل کے دو ٹکڑے اُڑ کر اُس کے سر پر بیٹھ گئے ہوں۔
ایک شام، بارش رُکتے ہی اِرم نے آسمان کی طرف دیکھا اور چونک گئی: “روئی! دیکھو تو… آسمان کا نیلا رنگ کہاں گیا؟”
روئی نے ناک سکوڑی، پھر بولا، “شاید ہوا اپنے ساتھ اُڑا لے گئی ہو!” اِرم نے فیصلہ کیا، “ہم نیلا رنگ ڈھونڈ کر واپس لائیں گے!”
آسمان کے نیلے رنگ کو ڈھونڈھنے کے لئے سب سے پہلے وہ دونوں گاؤں کے اسکول پہنچے۔ اسکول میں بچے تصویریں بنا رہے تھے، مگر نیلا رنگ کسی کے پاس نہیں تھا۔ ایک لڑکے نے شرارت سے سورج کو نیلا رنگ دیا ہوا تھا۔ سب ہنس پڑے… مگر آسمان پھر بھی بےرنگ تھا۔
بارش دوبارہ تیز ہو گئی۔ کیچڑ پھسلن زدہ تھا۔ اِرم ایک بار گری بھی، مگر روئی نے اُسے سہارا دیا۔ پھر وہ گاؤں کے باہر سب سے بزرگ درخت کے پاس پہنچے۔ اس درخت پر ایک چھوٹی سی چڑیا بیٹھی بارش سے اپنے پر جھاڑ رہی تھی۔ اِرم نے پوچھا، “کیا تم نے آسمان کا نیلا رنگ دیکھا ہے؟”
چڑیا نے آہستہ سے کہا، “رنگ کبھی کھوتے نہیں… وہ جگہ بدل لیتے ہیں۔ تم نے اچھے سے دیکھا نہیں ہے!”
اِرم نے اپنے قدموں کی طرف دیکھا۔ کیچڑ میں جمع پانی میں اُس نے کچھ دیکھا، ایک چھوٹا سا نیلا عکس! آسمان جھک کر خود اُسے اشارہ دے رہا تھا۔ روئی نے خوشی سے چھلانگ لگائی، “رنگ یہی تو ہے! بس بدل گیا تھا!”
چڑیا ہنس کر بولی، “آسمان نے رنگ زمین کے حوالے کیا ہے، تاکہ تم جیسے بچے اسے تلاش کریں اور خوش ہوں!”
اِرم سمجھ گئی۔ رنگ کہیں گیا نہیں… بس ایک نئے دوست زمین کے پانی کے پاس چلا گیا تھا۔
‎شام کو اِرم نے ایک چمکیلا نیلا قطرہ والے پتے کو اپنی کھڑکی پر لگا دیا۔ بادل ہٹ گئے اور آسمان نے نیلا رنگ واپس سجا لیا۔ اِرم نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا، “جتنی چیزیں کھوئی ہوئی لگتی ہیں وہ اکثر ہمارے آس پاس ہی چھپی ہوتی ہیں۔”
اِرم کی بات پر روئی نے اپنے دونوں کانوں کو زور سے ہلایا مانو کہہ رہا ہو، “صحیح کہا اِرم!”
ڈاکٹر فیاض احمد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں