عورت کا مقام: اسلامی تعلیمات اور معاشرتی ذمہ داریاں 0

عورت کا مقام: اسلامی تعلیمات اور معاشرتی ذمہ داریاں

شاہد فاروق

اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے انسانیت کو عدل، رحمت اور احترام کی بنیاد پر کھڑا کیا۔ خاص طور پر عورت کے بارے میں اسلام کی تعلیمات نہایت روشن اور واضح ہیں۔ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ میں عورت کے احترام، اس کی عزت، اس کی حفاظت اور اس کے حقوق پر مستقل زور دیا گیا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے معاشروں میں وہ اعلیٰ مقام جو دین نے عورت کو دیا ہے، وہ اکثر عملی زندگی میں نظر نہیں آتا۔
تاریخ کے مختلف ادوار سے لے کر آج تک عورت کو مختلف معاشرتی رواجوں اور غلط روایات کا سامنا رہا ہے۔ ان میں سے کئی باتوں کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، مگر چونکہ وہ نسل در نسل چلی آ رہی ہیں، اس لیے لوگ انہیں مذہبی رنگ دے دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں احتیاط اور بصیرت کی ضرورت ہے کہ دین اور رواج میں فرق کو سمجھا جائے۔
اسلام نے عورت کو وہ عزت دی جو اس دور کی دنیا میں کہیں موجود نہیں تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو”، اور آپ ﷺ نے اپنی زندگی سے اس کی عملی مثال پیش کی۔ آپ ﷺ نے بیٹی کو رحمت قرار دیا، ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھی، اور بیوی کو گھر کی ملکہ کی حیثیت عطا کی۔اس کے باوجود، ہمارے گھروں میں ایسے رویّے پائے جاتے ہیں جن میں عورت کو کم اہم سمجھا جاتا ہے۔ اکثر بیٹی سے فرمانبرداری، برداشت اور خاموشی کی غیر ضروری توقع کی جاتی ہے، جبکہ بیٹے کو فیصلہ سازی کا حق بلاو جہ دیا جاتا ہے۔ یہ رویّے اسلامی نہیں بلکہ معاشرتی ہیں۔ دین ہمیں عدل کا حکم دیتا ہے، اور عدل یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انسانیت اور کردار کے مطابق حق دیا جائے، نہ کہ جنس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔
آج کی عورت کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کی قربانیوں اور جدوجہد کو معمولی سمجھ لیا گیا ہے۔ ہمارے گھروں میں ماؤں نے اپنی زندگی کے کئی دکھ چھپا کر گزارے، مگر یہ سمجھ کر کہ یہی ان کا فرض ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام عورت کو ظلم برداشت کرنے کا نہیں، بلکہ عزت کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہے۔ قرآن عورت اور مرد دونوں کو ایک دوسرے کا “لباس” کہتا ہے—یعنی تحفظ، سکون اور عزت فراہم کرنے والا۔
تاریخ میں بھی عورت کی جدوجہد اور کردار کو کم لکھا گیا۔ حالانکہ اسلام کی پہلی درسگاہیں، پہلی قربانیاں، پہلی ہجرتیں، اور پہلی ایمان کی مثالیں عورتوں سے وابستہ تھیں۔ حضرت خدیجہؓ کا کردار ہو، حضرت فاطمہؓ کا صبر، حضرت عائشہؓ کا علم، یا ام عمّارہؓ کی بہادری—یہ سب روشن مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام عورت کے مقام کو کتنی عظمت دیتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویّوں کو سیرتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالیں۔ عورت کے ساتھ گفتگو، رویّہ، اور فیصلہ سازی میں عدل و احترام ضروری ہے۔ اپنے گھروں میں دینی تعلیمات کو عملی شکل دینے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم عورت کو اسی مقام پر رکھیں جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے دیا ہے۔
آخر میں ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مضبوط معاشرہ صرف تب بنتا ہے جب عورت اور مرد دونوں کو برابر انسان سمجھا جائے، دونوں کے حقوق کو پہچانا جائے، اور دونوں کی عزت کی جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اسلام ہمیں دکھاتا ہے—رحمت، عدل اور احترام کا راستہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں