مادری زبان کا عالمی دن 0

مادری زبان کا عالمی دن

پلوامہ میں ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

پلوامہ/ندائے کشمیر/ تنہا ایاز/ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کی جانب سے مادری زبان کے عالمی دن کے موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں تنظیم سے وابستہ کئی شعراء نے شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق عالمی یوم مادری زبان کے موقع پر کئی مقامات پر ادبی تنظیموں کی جانب سے تقریبات کا انعقاد کیا گیا ادھر ضلع پلوامہ میں مادری زبان کے عالمی دن کی مناسبت سے ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی کی جانب سے ایک تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت تنظیم کے جنرل سیکرٹری غلام محمد دلشاد نے کی ۔جبکہ ضلع کے نامور، شاعر ،ادیب اور قلمکار عبدالرحمان فدا ایوان صدارت میں موجود تھے۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت زرگر عزیز کو حاصل ہوئی جبکہ محمد یوسف دلدار نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کے جنرل سیکرٹری غلام محمد دلشاد نے کہا کہ کشمیری زبان ہماری پہچان ہے اور ہمیں ہر حال میں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ دلشاد نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ ترقی یافتہ قوموں نے اپنی مادری زبان کو صحیح معنوں میں اپناکر اس کی حفاظت کرتے ہوئے نہ صرف اپنے ایوانوں تعلیمی اداروں میں رائج کیا بلکہ تمام دنیا پر اپنی زبان مسلط کی۔جبکہ ہم نے خود ہی گھروں میں اس کو بلاکر کافی نقصان پہنچایا۔دلشاد نے کہا کہ پچھلے لگ بھگ ایک دہائی سے اس میں ہمارے نامور شاعروں اور استادوں جن میں قابل ذکر پروفیسر شاد رمضان اور مرحوم رحمان راہی،ان سے پہلے نامور شاعروں شاعر کشمیر مہجور اور عبدالرحمن آزاد وغیرہ نے اس زبان کی مضبوط بنیاد رکھ کر ہمیں مستفید کیا اور آج اس کی مضبوط ہونے کی امید کی کرنیں نظر آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب خواتین، ماں، بہنیں استادوں کی شکل میں مختلف ادبی تنظیموں میں اپنا تعمیری رول نبھا رہی ہے جو اطمینان کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کشمیری زبان کو فروغ دینے کیلئے سرگرمی کے ساتھ اپنا رول ادا کررہی ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نامور شاعر ،ادیب اور قلمکار عبدالرحمان فدا نے اپنی ماردی زبان کشمیری کو زندہ جاوید رکھنے کی تلقین کی کیوں کہ یہ زبان ہماری پہچان اور شناخت ہے۔انہوں نے کہا کہ آج مادری زبان کے دن پر عہد کرلیں کہ ہم اپنی کشمیری زبان کو فخر کے ساتھ روزمرہ کی زندگی میں اپنے گھروں اور گھروں سے باہر بھی بول چال کے استعمال میں لائیں۔فدا نے سرکار سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس زبان کی ترویج کیلئے خصوصی دھیان دے۔ ساتھ ہی انہوں نے محکمہ تعلیم اور کلچرل اکیڈمی سے بھی گزارش کی کہ وہ حسب سابقہ کشمیری ادیبوں شاعروں کی کتابوں کو خریدلیں۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ کلچرل سوسائٹی پلوامہ کے صدر شمس سلیم نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ گھروں میں بچوں کے ساتھ کشمیری زبان میں ہی بات کیا کریں۔تقریب میں نظامت کے فرائض غلام محمد جنگلناری نے انجام دئے۔تقریب کی دوسری نشست میں ایک مخفل مشاعر منعقدہ ہوا جس میں روف جان،زرگر عزیز ،شمس سلیم ،شیخ گلزار، محمد یوسف دلدار، غلام محمد دلشاد اور عبدالرحمان فدا نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں