ڈاکٹرمحمد یاسین گنائی
پرویز مانوس پیشہ کے لحاظ سے ایک معلم ہے لیکن ادبی دنیا میں ایک شاعر،افسانہ نگار،ناول نگار،ڈرامہ نویس،محقق وناقد کے ساتھ ساتھ تین زبانوں اردو،پہاڑی اور کشمیری میں طبع آزمائی کرنے والے سخن ساز کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ان کا ادبی سفر اسی کی دہائی میں شروع ہواتھا اور اکیسویں صدی کی تیسری دہائی ان کے عروج کی دہائی معلوم ہوتی ہے۔ ان کا فن ہر لحاظ سے سنجیدہ،معیاری اورادبی سطح کا نظر آتا ہے۔مانوسؔ کے افسانوں کا پہلا مجموعہ’’شکارے کی موت‘‘آج سے ٹھیک تیس سال پہلے ۱۹۹۵ میں شائع ہواتھا ۔یہ مجموعہ افسانچوں،مختصر افسانوں اور طویل افسانوں پر مشتمل ۲۱ کہانیوں کا مجموعہ ہے۔اکیسویں صدی کو فکشن بلکہ مائکرو فکشن یا افسانچہ نگاری کا صدی قرار دیا جاسکتا ہے۔آج کل ہر فکشن نگار اس فن میں مہارت دکھانے میں لگا ہے اورسوشل میڈیا یا ڈیجیٹل دنیا کی برق رفتاری کا جواب نثری ادب کے ذریعے افسانچہ سے ہی دیا جاسکتا ہے۔چھوٹی چھوٹی ریلز کے مدِمقابل انہیں افسانچوں کو رکھا جاسکتا ہے۔افسانچہ کے فن کو سمجھنے کے لیے عظیم راہی کی یہ رائے قابل ذکر معلوم ہوتی ہے:
’’افسانچہ ادب کی وہ نثری صنف ہے جس میں کم سے کم لفظوں میں کم سے کم سطروں میں ایک طویل کہانی کو مکمل کرلیں۔افسانچہ زندگی کے کسی چھوٹے سے لمحے کی تصویر دکھا کر ایک مکمل کہانی قاری کے ذہن میں شروع کردینے کا نام ہے۔‘‘(اردو میں افسانچہ کی روایت،عظیم راہی،ص:۵۹)
مانوسؔ کے افسانچوں میں عصری مسائل کی عکاسی ملتی ہے اور بالکل اس فن سے واقفیت کا ثبوت دیتے ہوئے چند لفظوں میں پوری کائنات بیان کی ہے اور آخری سطر رباعی کی طرح بڑی جاندار اور شاندارانداز میں رقم کی ہے۔جہاں تک اس مجموعے کی افسانچہ نگاری کی بات ہے تو ’’بھائو، ووٹ، دوست،سزا،احساس،ٹیوشن،پولیس،جہیز اور ایجی ٹیشن‘‘ کو افسانچوں کی صف میںرکھا جاسکتا ہے۔ان میںمختلف معاشی وسیاسی وسماجی وعصری مسائل کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔جہاں’’بھائو‘‘ میں شادی بیاہ میں لڑکی والوں کی پریشانی کو بیان کیا ہے، وہیلڑکوں کے بھائو بڑھنے جیسے سماجی ناسور کو چاک کیا ہے۔ ’’ووٹ‘‘ میں جعلی ووٹوں کا ذکر کیا ہے، ’’دوست‘‘ میں غم کو انسان کا اصلی اورپائدار دوست قرار دیا ہے،’’سزا‘‘ میں معاشی ونفساتی کشمکش کو موضوع بناتے ہوئے ایک خوبصورت جوان چورنی کے ساتھ حوالدار کی مارپیٹ اور عصمت دری کو موضوع بنایا ہے،’’احساس‘‘میں سماجی و قوم دشمن عناصرکو موضوع بنایا ہے کہ ان کا احساس تب جاگتا ہے جب ان کا کوئی اپنا مارا جاتا ہے اور ان کو زندگی،موت اور خون کا احساس اپنوں کی جدائی پر ہی ہوتا ہے،’’ٹیوشن‘‘ میں تعلیم کے نام پر دھوکہ بازی کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ دھوکے بازی عصرِ حاضر میں بھی جاری وساری نظرآتی ہے،’’پولیس‘‘ میں اُن غنڈوں کا پولیس میں تعینات ہونے پر سوالیہ نشان اُٹھایا ہے جو کل تک سڑکوں پر غنڈا گردی کرتے تھے۔سماجی مسائل کے پیش نظر’’جہیز‘‘ میں ساس کی بے رحمی کو موضوع بنایا ہے جو اپنی بہو کو جہیز کم لانے کے سبب زندہ جلاتی ہے اور’’ایجی ٹیشن‘‘ میں افسانچہ’’پولیس‘‘ کی طرح سوالیہ نشان کھڑاکیاہے کہ ایجی ٹیشن کرنے والوں کو نوکری ملتی ہے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔افسانچہ کو فکشن کی رباعی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں آخری سطر بڑی جاندار ہوتی ہے ۔مانوسؔ کے افسانچے اس فن پر کھرے اُترتے نظر آرہے ہیں۔ ان تیس سال میں مانوس ؔ نے تیس کے قریب تصانیف رقم کی ہیں اور ان میںافسانوں اور افسانچوں کے ساتھ تین ناول بھی شامل ہیں۔ان کو افسانچہ نگاری میں کمال کا ملکہ حاصل ہے لیکن تاحال ان کے افسانچوں کا مجموعہ منظر عام پر نہیں آیا ہے۔
اس مجموعے میںکل ۱۲؍ افسانے شامل ہیں جن میں’’پتھر کے صنم،زخمی ہل اور کچا گوشت‘‘کو طویل افسانوں کی فہرست میں رکھا جاسکتا ہے۔طویل افسانہ اتنا طویل ضرور ہوتا ہے کہ مختصر افسانے سے طویل اور ناولٹ سے مختصر ہوتا ہے۔ ان افسانوں کی ضخامت بیس صفحات سے زیادہ ہے۔بہرحال مانوسؔ کے ان بارہ افسانوں کا موضوعاتی مطالعہ کافی دلچسپ معلوم ہوتاہے۔’’شکارے کی موت‘‘ ایک علامتی افسانہ ہے اور اس میں ہائوس بوٹ کشمیر کی علامت اور نادان بچے کشمیرکے وہ لوگ ہیں، جو غیروں کی باتوں میں آکراپنوں اور اپنے ملک کا نقصان کرتے ہیں۔سیاح کو اُن بیرونی ایجنٹوں کی علامت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے جو باتوں،پیسوں اورہتھیار سے کشمیریوں کو بہکاتے ہیں۔اس میں ہائوس بوٹ میں رہنے والے غفارا اور اس کے اہل خانہ ’’پوشا، ساجد،ماجد،روشا،زونی اورشداد‘‘ کی روزمرہ کی زندگی کی کہانی ہے۔وہ ہاوس بوٹ میں سیاحوں کو سیر کراتے ہیں اور اس سے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں لیکن غیروں کے اشاروں پر شداد اور اس کے دوست ہائوس بوٹ میں سراخ کرتے ہیں اور یوں غفارا کا پورا خاندان جھیل ڈل میں ڈوب جاتا ہے۔’’چوتھا کونہ‘‘پہاڑوں پر ٹہارے یعنی مکان میں زندگی گزرنے والے دینو اور اس کے اہل خانہ ’’ریشما،پھولاں اورنوری‘‘کی کہانی ہے۔اس میں سرمایہ دارانہ نظام کی عکاسی ہے جو غریبوں اور ان کی چیزوں کواپنا زرخرید غلام سمجھتے ہیں ،گائوں کا سرپنچ قرض کے بدلے گائوں والوں کی بہوئوں، بیٹیوں اور بہنوں کو اپنی رخیل سمجھتا ہے اور جو کوئی سرپنچ کے خلاف آواز اُٹھاتا تو اس کو غائب کرواتا ہے۔پہلے دینو کی بڑی بیٹی’’بھولاں‘‘کو غائب کرواتا ہے اور آخر میں نوری کے ساتھ سرپنچ کے خلاف مباحثہ کرنے کے جرم میں دینو کو غائب کیا جاتا ہے۔اس میں ترقی پسند افسانے کی خوشبو ملتیہے۔ڈاکٹر عبدالسلیم نے کرشن چندر کے افسانوں میں کشمیر کی عکاسی کے حوالے سے جو باتیں لکھی ہیں اگر ان پر غور کیا جائے تو مانوسؔ کے یہاں بھی ایسی چیزوںکاذکر ملتا ہے۔ان کے فکری پہلو میں کشمیر کے تمام لوگوں کے مسائل کی عکاسی ملتی ہے،وہ جنگلوںکے مزدورپیشہ لوگوں کی زندگی کی عکاسی بھی کرتا ہے اور جھیل ڈل میں شکاروںمیں زندگی گزارنے والے ہانجیوں کی زندگی کو بھی موضوع بناتاہے۔ڈاکٹر عبدالسلیم لکھتے ہیں:
’’اس جنت ارضی کے مالک غیرکشمیری سیاح ہیں۔ان کا تصرف صرف انھیں مناظر پر نہیں بلکہ وہ یہاں کے محنت کش اور خدمت گزار لوگوں پر بھی متصرف ہیں۔یہی نہیں بلکہ ان غریبوں کی تمام چیزوں پر ان کا تصرف ہوتا ہے۔چاہے کھیت باغات ہوں یا ہائوس بوٹ،بیٹی،بہن ہو یا بہو غرض ہر چیز کو وہ بلا خوف جب چاہتے ہیں اپنے استعمال میں لے لیتے ہیں۔‘‘ (کرشن چندر کی افسانہ نگاری،، ص:۱۴۳)
اس رائے کو’’چوتھا کونہ‘‘کے حوالے سے دیکھا جائے یا مصنف کی فکر کے ضمن میں دیکھا جائے توحق بجانب رائے معلوم ہوتی ہے۔’’پانچ کا نوٹ‘‘ معاشرتی مسائل کی عکاسی کرتاہے ۔اس میں ایک اندھا بھکاری اور خوبصورت زن بھکارن کا موازنہ کیا گیا ہے کہ لوگ ضعیف اور ناتوان بھکاری کے بجائے ایک خوبصورت، حسین اور پٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس لڑکی کو اس وجہ سے بھیک دیتے ہیں کہ ان کو اس کے جسم سے حظ اُٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ایک کالج لڑکا پانچ روپے کے نوٹ کے بدلے اس کی عزت تار تار کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس بدکاری کے لئے تیار نہیں ہوتی ہے۔البتہ اس جدوجہد میں اس کا معصوم بچہ ہاتھوں سے گرکر مرجاتا ہے۔اس میں عریانیت اور منظرنگاری کا حسین سنگم ملتا ہے،اور یہاں مانوس ؔمنٹو کے قریب نظر آتے ہیں۔’’ریلیف‘‘ایک غریب دینو کی کہانی ہے جو ریلیف حاصل کرنے کیلئے روز تحصیل آفیس سے خالی ہاتھ لوٹ آتا ہے۔دینو کی بیوی’’مالی‘‘ بیٹا’’مقبول‘‘اور بیٹی’’کلاں‘‘ مرکزی کردارہیں۔اس افسانے میں اعلیٰ افسران کی رشوت خوری اورحوس پرستی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ایک طرف رشوت دینے والوں اور اثررسوخ رکھنے والوں کو ریلیف جلدی ملتا ہے۔دوسری طرف دینو کو اپنی غریبی کے سبب اپنی بیٹی’’کلاں‘‘کو شہر بھیجنا پڑتا ہے ،جہاں تحصیل دار اس کو اپنی حوس کا شکار بناتا ہے۔اس میں پریم چند کی معاشرتی عکاسی بھی ہے اور منٹو کی عریانیت ونفسیاتی کشمکش بھی ہے۔’’گوشت کا ٹکڑا‘‘ہندومسلم فسادات پر ایک مختصر مگر پُر تاثر و پُر کیف افسانہ ہے۔اس کا آغاز ہی نعرہ بازی ہوتا ہے:
’’گئو ہتھیا کرنے والوں کو گرفتار کرو۔۔۔۔گئو ہتھیا کرنے والوں کو سزا دو۔۔
جن اسباب کے سبب ۱۸۵۷ کی جنگِ آزادی شروع ہوئی تھی،کچھ ایسے ہی اسباب یعنی گائے اور سور کے گوشت کے ٹکڑے جو مسجد اور مندر میں پائے جاتے ہیں،ان کے سبب پنڈت جی اور مولوی صاحب کی قیادت میں دو دھرم آپس میں ایسے لڑتے ہیں اور ہزاروں جانیں آنا فاناً تلف ہوجاتی ہیں۔مصنف کا کمال یہ ہے کہ جس گوشت کے ٹکڑے پر ہندومسلم فسادشروع ہوتا ہے وہ دراصل ایک بزرگ کے بیٹے کا گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے جس کو دوسرے بیٹے نے جائداد کے بٹوارے کے سبب قتل کیا تھا۔یہ فسادات کے موضوع پر ایک الگ انداز کا افسانہ ہے اور مصنف یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اکثر فسادات ایسے ہی غلط معلومات اور شر پسند عناصر کی اشتعال انگیزی کے سبب ہوتے ہیں۔’’لہو کی کہانی‘‘ دو امیر گھرانوں بلکہ شہری زندگی کی عکاسی پر مشتمل افسانہ ہے۔ملہوترہ، شانتی اور ڈاکٹر وشال ملہوترہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ مہرہ اور ڈاکٹر کامنی دوسرے گھرانے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ایک طرف ایمانداری کے عوض زندگی سے ہاتھ دھونے کی طرف اشارہ ملتا ہے اور دوسری طرف دہشت کے ماحول میں کوئی امن کی اُمید نہیں کرسکتا ہے،اس کی عکاسی ملتی ہے۔مہرہ صاحب کی وکالت کے سبب جس دہشت گرد کو جیل ہوتی ہے اور ڈاکٹر وشال کے دستخط نہ کرنے کے سبب جس کا جیل سے اسپتال منتقل ہونا نا ممکن بن جاتا ہے،وہی دشت گرد جیل کے اندر سے ڈاکٹروشال کو قتل کرواتا ہے اور اس خبر سے ان کی ہونے والی بیوی اور ماں عین شادی کے دن خود کشی کرتے ہیں۔شادی کے دن ہی تین تین لاشیں یہی اشارہ کرتی ہیں کہ معاشرے پر ماحول کااثر کیسے پڑتا ہے!
’’سانجھی دھرتی‘‘دراصل دو قومی نظریہ،ملک کی تقسیم، ہندو مسلم فسادات اورہجرت کی داستان ہے۔خالدنوے کی دہائی میں گائوں سے سعودی عرب نوکری کرنے جاتا ہے اور اُس وقت گھروالوں کے ساتھ ہندو دوست اور پڑوسی ماما بھی خوشی کے موقع پر جمع ہوتے ہیں لیکن پانچ سا ل بعد جب وہ واپس آتا ہے تو نہ اپنا گھر اور گردونواح کے ہندو دوست وپڑوسی ملتے ہیں اور نہ وہ امن واستحکام کا ماحول نظر آتا ہے۔ہندو بھاگ گئے تھے اور مسلمان فسادات کی نظر ہوچکے تھے،اوران حالات کو دیکھ کووہ پاگلوں کی طرح چلانے لگتا ہے اور ایک نامعلوم گولی کا شکار ہوتا ہے اور یہ وہی نامعلوم گولی ہے جس کے سبب لاکھوں دفن ہوچکے ہیں۔‘‘طوائف‘‘ میں کوٹھوں میں رہنے والی طوائفوں اور اس دھندے کو چلانے والے ’’جگا‘‘جیسے لوگوں کے ذریعے یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بُرے ماحول اور بُرا کام کرکے ہم اپنے بچوں کو اس دلدل سے نہیں بچا سکتے ہیں۔سبزی منڈی کی ہیرا بائی کے پاس جگا لڑکیاں لاتا تھا اور اس کے بدلے پیسے لے جاتا تھا۔دوسری طرف شہر کا دادا دلاور ہیرا بائی کی بیٹی کسم سے پیار کرتا ہے اور اس کو بھگاکر لے جاتا ہے۔ایک دن اس کوشک ہوتا ہے کہ ’’کسم‘‘ ان کی غیر موجودگی میںکسی سے ملتی ہے ،تو وہ اس کو چھوڑ دیتا ہے۔کسم کو ایک بوڑھا بہلا پھسلا کراپنی ماں کے پاس پہنچانے کی غرض سے شہر لے جاکر طوائف سونا بائی کے ہاتھوں بھیج دیتا ہے۔مصنف یہی سمجھانا چاہتا ہے کہ ایک طوائف اپنے بچوں کو اپنے دھندے سے کتنابھی دور رکھیں وہ اس دلدل میںپھنس ہی جاتے ہیں۔’’پتھر کے صنم‘‘نالے کے کنارے آباد گائوں پتھریا میں رہنے والے سنگ تراش دینا ناتھ اور اس کے بیٹے گوپی کی کہانی ہے۔یہ علاقہ آزادی ملنے کے باوجود راجہ دلاور سنگھ کا غلام تھا۔گوپی کی بنائی ہوئی مورتی پر اس کو نہ صرف انعام ملتا ہے بلکہ راجہ اس کو اپنے محل خانے میں بھگوان کرشن کی ایسی مورتی بنانے کا حکم دیتا ہے کہ سب لوگ حیران ہوجائیں۔ وہاں راجہ کی بہن رادھا اس کو اپنے عشق میں گرفتار کرتی ہے اور اس کے چھپے ہوئے جذبات اور نفسیاتی خواہشات کو اُبھارتی ہے۔اسی عشق کے چکر میں گوپی کا دماغIllusionکا شکار ہوکر کرشن کی مورتی بنانے کے بجائے رادھا کی مورتی بنانے میں مصروف رہتا تھا۔جب پورے گائوں کے سامنے رادھا مورتی کی نقاب کشائی کرتی ہے تو رادھا کی مورتی دیکھ کر راجہ او رگائوں والوں کو غصہ آتا ہے اوروہ گوپی کو سنگ سار کرتے ہیں۔رادھا مورتی کی طرح بے جان سب کچھ دیکھتی ہے ۔مصنف نے سوالیہ نشان رادھا کے عشق پر لگایا ہے کہ جذبات پیدا کرنے کے باوجود وہ بھائی کے سامنے ایک لفظ بھی نہیں بول سکی اور ایک پتھر کی مورت بن کر عاشق کی موت دیکھتی رہی ۔پتھر کی مورت ایک استعارہ ہے اور مستعار کوئی اور نہیں بلکہ رادھا ہی ہے۔’’زخمی ہل‘‘تقسیم ہند،تقسیم پنجاب، پنجاب میں دہشت گردی کا دور اورسکھ مسلم بھائی چارے کی عکاسی کرتا ہے۔کرتار سنگھ اور رحیم کا بھائی چارہ افسانے میں برقرار رکھا گیا ہے اور ان کے بیٹوں ہرچرن سنگھ اور احسان کا مل جل کر پولٹری فارم چلنا بھی بھائی چارے کی مثال پیش کرتا ہے۔افسانے میں وطن پر قربان ہونے والے گورچرن کی شہادت کا بھی ذکر ہے جو چین کے حملے کے وقت ملک کی حفاظت کرتے کرتے شہید ہوتا ہے۔دوسرا موڑ تب آتا ہے جب ہرچرن کا بیٹا امن دیپ کھیت سے گولی ملنے پر باولا سا ہوجاتا ہے اور دیکھتے دیکھتے ملک دشمن شخص جندا سے جاملتا ہے اور اسلحہ کی خرید فروخت کرتے گرفتا رہوجاتا ہے۔و ہ جیل سے فرار ہوکر گھر پہنچ جاتا ہے جہاںدادا کرتار سنگھ اس کی معافی کے حق میںہوتا ہے جبکہ اس کا باپ ہرچرن اس دہشت گرد کو پولیس کے حوالے کرنے کی بات کرتا ہے ،اس دوران کھینچا تانی میں وہ نئے ہل پر گرکر مرجاتا ہے۔افسانے کا عنوان امن دیپ کے خون سے زخمی ہونے والے ہل پر رکھا گیا ہے۔امن دیپ کو ماں کا لاڈپیار برباد کرتا ہے اور پنجاب کا وہ ماحول بھی جہاں کچھ لوگ ملک دشمن عناصر سے مل کر اپنے ہی وطن کو برباد کرنے پر تلے ہوتے تھے۔
’’کچا گوشت‘‘کو اس مجموعے بلکہ مانوسؔ کا شہکار افسانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔اس افسانے میں مانوسؔ نے عریانیت کی وہ تصویر کشی کی ہے کہ منٹو کے’’ ٹھندا گوشت،دھواں،کھول دو،بو،کالی شلوار،پھاہا،شاردا‘‘وغیرہ کی یاد تازہ ہوتی ہے۔اس میں منظر نگاری بھی ہے اور اشتراکیت بھی۔ساوجیاں علاقے کا جاگیردار افضل خان لوگوں کو قرضہ دے کران کو اپنا غلام بناتا ہے۔یہ کہانی ایک طرف غفارا، زینہ اور زونی کی غریبی اورلاچاری کی ہے اوردوسری طرف افضل خان ، منشی ،ببلو اور ببلی کی امیری اورغنڈاگردی کی بھی بھی ہے۔افضل خان اپنے ناجائز کام نکالنے کے لئے شہر کے بڑے آفیسروں کے سامنے’’ کچا گوشت‘‘ یعنی کنواریں لڑکیاں پیش کرتا ہے۔پہلے دو آفیسر کے سامنے دو لڑکیوں کو پیش کیا جاتا ہے اور ص:۱۴۳ سے ص:۱۴۵ تک عریانیت کی ایسی تصویر کشی ملتی ہے کہ اقتباس پیش کرنا مشکل ہے۔دوسری بار ایک بڑے آفیسر کے سامنے غفارا کی بیٹی زونی کو پیش کیا جاتا ہے اور یہاں ص:۱۵۵ پر مانوسؔ کی شکل میں گویا منٹو جنم لیتا ہے۔افسانہ کا اختتام افضل خان کے لیے درد ناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ جس دم زونی کسی اجنبی آفیسر کی حوس کا شکار بن رہی تھی،عین اسی وقت منشی نہ صرف افضل خان کے بیٹے کو جھیل میں پھینک دیتاہے بلکہ اس کی بیٹی ببلی کو اپنے حوس کا شکار بناتا ہے اور اس کا’’ کچا گوشت‘‘ کتوں کی طرح نوچ لیتا ہے۔’’ادھورا موسم‘‘گھریلو حالت کے پیش نظر ایک عمدہ افسانہ ہے،خوشحال گھرانوں میں گھروالوں کی کثرت سے چہل پہل رہتی ہے جبکہ کم افراد خانہ کو گھر کی چار دیواریں کھانے کو دوڑتی ہیں۔اس میں والدین کی اس تڑپ کو بھی موضوع بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ آفیسر بنانا چاہتے ہیں لیکن بچے ڈاکٹر یا کوئی دوسرا پیشہ اختیار کرنے کے بعد ولایت میں ہی سکونت اختیار کرتے ہیں اور وہی شادی بھی رچاتے ہیں۔یوں والدین بہواور پوتا پوتی کو دیکھنے سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔اس میں ڈاکٹر یاسر، رابیہ ،عدنان اور کاشف کچھ اچھے کردار ملتے ہیں۔
’’شکارے کی موت‘‘صرف ایک غفارے کے’’ شکارے کی موت‘‘ نہیں ہے بلکہ یہ ہر مظلوم کی موت ہے۔یہ ہر افسانے کے کسی کردار بلکہ پورے خاندان کی موت ہے۔ یہ صرف غفارے کی موت نہیں بلکہ شداد اور امن دیپ جیسے کئی ملک دشمن عناصر کی موت بھی ہے،یہ زونی،جٹی،ریشما،مالی،شانتی،ہیرا بائی، زینہ، رابیہ جیسی مائوں کے لارڈ پیار کی بھی موت ہے جن کے لارڈ پیار سے کچھ مائوں کے بچے ملک دشمن عناصر بن جاتے ہیں ،کچھ مائوں کے غلط فیصلے سے ان کی بچیاں وحشی درندوں کی حوس کا شکار بنتی ہے اور کچھ مائوں کے شیرجیسے بچے ظالموں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں، لیکن موت تو سب مائوں کی ممتا کی ضرور ہوتی ہے۔شکارے کی موت ‘‘بلا شبہ اُن معصوم کلیوں اور محنت کش وجفا کش بہادروں کی بھی موت ہے جن کی ظالم کے سامنے ایک نہیں چلتی ہے،جن میں’’کچا گوشت‘‘کی زونی،’’زخمی ہل ‘‘کا گورچرن،’’پتھر کے صنم‘‘ کا گوپی، ’’طوائف‘‘ کی کسم،’’سانجھی دھرتی‘‘ کا خالد، ’’لہو کی مہندی‘‘ کا ڈاکٹر وشال،’’گوشت کا ٹکڑا ‘‘کے ہزاروں بے گناہ انسان،’’ریلیف ‘‘کی کلاں،’ ’پانچ کا نوٹ ‘‘کی بھکارن اور اس کا معصوم بچہ ،’’سزا ‘‘کی چورنی،’’چوتھا کونہ ‘‘کے دینو اور پھولاں اور’’شکارے کی موت‘‘ کے غفارا، ساجد اور ماجد جیسے باپ بیٹو ں کی موت بھی ہے۔کردار نگاری کے لحاظ سے کامیاب افسانے اور افسانچے تحریر کیے ہیں۔
مانوسؔ کے اس مجموعے میں جس تحریک کی بازگشت سنائی دیتی ہے وہ ترقی پسند تحریک ہے جس میں غریبوں اور مظلوم کی حمایت کرنے کو اولیں ترجیح دی گئی تھی اور ایسا کرنے پر لکھنے والوں کو قلمی مجاہد کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔مانوسؔ کا کمال یہ بھی ہے کہ وہ قاری کو آگے آگے بھاگنے کے بجائے اپنے پیچھے چلنے پر مجبور کرتا ہے۔ ’شکارے کی موت‘‘مانوسؔ کا ایک ایسا شاہکار افسانوی مجموعہ ہے کہ اس میںنہ صرف فکشن کی تین کڑیاں طویل افسانہ،مختصر افسانہ اور افسانچہ کی بوو باس ملتی ہے بلکہ اس میں ناسٹلجیا، خود کلامی،نفسیاتی کشمکش،منظر نگاری، دیہاتی زبان،لفظیات کی بہار،حلیہ نگاری کے ساتھ ساتھ کشمیری تہذیب وتمدن،کلچر وثقافت کی عکاسی میں اپنے تمام تر آب وتاب کے ساتھ ملتی ہے۔یہاں ہائوس بوٹ والے دریائوں، جھیلوں اور ندی نالوں سے روزی روٹی کمانے والوں کی عکاسی کرتے ہیں اور پہاڑ ی لوگ جنگلوں سے اپنا رزقِ حلال کمانے والوں کی عکاسی کرتے ہیں۔برف سے ڈھکے پہاڑ،فرن میں ملبوس کشمیری،لکڑی اور مٹی کے بنے گھر،کشمیریوںکی مہمان نوازی،سماوار اور نون چائے کاازلی رشتہ،مکی کی روٹی وغیرہ ایسی چیزوں جن کو ایک کشمیری ہی سمجھ سکتا ہے اور ان کو چیزوںکے بجائے کشمیرکی ورایث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔مانوسؔ کا یہ افسانوں مجموعے انسان کو ایک الگ ہی دنیا کی سیر کراتا ہے جو کبھی دیکھی اور کبھی انَ دیکھی دنیا معلوم ہوتی ہے۔
Mohd Yaseen Ganie
Babhara,Pulwama(J&K)
P/O: Rajpora,192306
mobile:7006108572

