ناصر منصور شاز
لائیبریری میں علم کی روشنی سے منور تھا۔ موبائل کی گنٹی بجی۔ کسی نامعلوم نمبر سے کال تھی۔ کال رسیو کیا۔ دوسرے اطراف سے السلام علیکم جناب۔ کیا آپ ناصر منصور صاحب ہیں؟ وعلیکم السلام۔ جی ہاں جناب میں ہی ہوں۔ آپ کون اور کہاں سے ہیں۔ میں نوشہرہ سرینگر سے مرزا بشیر شاکر صاحب۔ اگر آپ کی مصروفیت آڑے نہ آئیں تو میں چند منٹ آپ سے علم و حکمت کی گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ جی کریں جناب… میری الماری میں چوبیس ستمبر دوہزار چوبیس کا ایک اخبار پڑا تھا جو مجھے پڑھنے سے رہ گیا تھا ، آج جب میں نے اسے پڑھا تو آپ کا مضمون کتاب میلہ اور کتب بینی کے شوقین چھپا پایا۔ میں نے پہلے آپ کے نام سے یہ سمجھا کہ کہیں آپ مشہور کشمیری شاعر پروفیسر علام نبی فراق صاحب مرحوم کے فرزند ناصر منصور سابقہ ڈائریکٹر دور درشن تو نہیں لیکن ایڈریس پڑھ کر معلوم ہوا کہ یقینی طور پر کوئی دوسرا ہم نام ہے۔ …میں نے کہا اتفاقاً ایک بار میری ملاقات فراق صاحب کے فرزند سے ہوئی، میرا نام سن کر ان کے اندر اتنی حیرانگی ظاہر ہوئی کہ مجھے اپنی شناخت دکھانی پڑی۔ تب جاکر انہیں یقین ہوا کہ میں واقعی ان کا ہم نام ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ میں سمجھتا تھا کہ شاید کشمیر تو کیا ہندوستان میں میرے نام کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے۔ اور میں نے کہا ‘ایسا گمان تو میرے اندر بھی تھا۔ ایک ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ آپ کے اخبار میں شائع ہونے والے مضامین کے حوالے سے کئی لوگوں نے فون پر بتایا کہ اخبار میں آپ کے مضامین چھپے ہوئے ہوتے ہیں لیکن میں کہہ دیتا ہوں نہیں جی یہ میرا ہم نام ہے میرا بیٹا جیسا ہی سمجھو۔ بہر کیف ان کے دولت خانہ پر آنا جانا رہتا ہے۔ یہ ایک علمی گھرانہ رہا ہے جو ہمیشہ علم اور حکمت کی روشنی سے جگمگاتا رہا ہے۔ ان کے والد صاحب مرحوم فراق صاحب انگریزی سبجیکٹ کے پروفیسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے۔ لیکن اس کے باوجود بھی آپ کشمیری زبان پر غیر معمولی مہارت کے حامل تھے، جو ان کی لگن اور محنت کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے پرسنل لائیبریری میں میں نے فراق صاحب کے کئی مخطوطات و مطبوعات کا دیدار بھی کیا ہے، جو ان کی علمی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور ان کے فرزند ناصر منصور صاحب نے مجھے کئی کتابیں تحفے کے طور پر دیں، جو ان کی مہمان نوازی اور علم کی قدر کا پرچم ہے۔۔۔۔۔ مرزا بشیر شاکر صاحب نے بتایا کہ اس اخبار میں چھپا جس بات نے آپ کو فون کرنے پر ابھارا وہ یہ تھا۔ پڑھو پڑھو لکھو لکھو، پڑھنے سے پڑھنا آتا ہے، لکھنے سے لکھنا آتا ہے۔ دراصل میں نے مولانا وحیدالدین خان صاحب مرحوم کے حوالے سے لکھا تھا کہ ایک بار ندوی کے کچھ طالب علم اپنے استاد کے ہمراہ خان صاحب سے ملاقات ان کے گھر تشریف لائے تھیں۔ کافی بات چیت کے بعد آخر میں ان کے استاد نے خان صاحب سے درخواست کی کہ وہ ندوی کے ان طلبا کو نصیحت کرے جو یہ عمر بھر یاد رکھ سکیں ۔ تو خان صاحب نے کہا، اچھا، لکھو، نوٹ کرو اپنے قرطاس پر۔ پڑھو پڑھو لکھو لکھو، پڑھنے سے پڑھنا آتا ہے، لکھنے سے لکھنا آتا ہے۔ یہی میری آخری نصیحت ہے جو آپ کی زندگی کو روشن کرے گی۔ ۔۔۔
مزکورہ نصیحت کے اندر شہادت ہے طاقت ہے ضمانت ہے ۔ بظاہر یہ الفاظوں کا تقرار ہے لیکن قرار اس میں اتنا ہے کہ علم کے متوالوں کے لئے یہ جملہ امید اکبر کی مانند ہے یہ سادے الفاظ ضرور ہے لیکن کچھ کرنے کچھ بننے کی اس کے الفاظ جیسے روحانی پکاریں مارتا ہو۔۔۔۔۔
اُٹھو اُٹھو غفلت کے سائے میں جینے والوں ظلمت کی اس اندھی نگری کو علم کی نور مبین سے ہمیشہ کے لیے ظلمت کا خاتمہ کریں ۔۔
پڑھنے لکھنے کا جو پہلا ذریعہ جس کی روایت صدیوں پر محیط ہے ۔ وہ کتابیں ہیں کیوں کہ کتابیں پڑھنے سے ہی کتابیں وجود میں آئی ہیں ۔ایک کتاب پڑھنے سے ایک سطر کا وجود ہے اور دس کتابیں پڑھنے سے ایک صف کا وجود اور اسی طرح سو کتابوں سے ایک کتاب کا وجود ہوتا ہے ۔ اللہ تعالی کا مدد شامل حال ہو بندہ جتنا مطالعہ کریں اتنا پھل وہ پائے گا ۔ اسلامی دنیا میں ایک عظیم شخصیت گزری ہیں جن کا نام ابن الجوزی ہیں ۔ انہیں صاحب تصانیف کثیرہ بھی کہا جاتا ہیں ان صاحب کا خود کا بیان ہیں کہ میں نے بیس ہزار جلدوں سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کیا ہیں ۔ ان کی اس محنت سے ان کے قلم سے تقریباً دو ہزار کتابیں وجود ہوا ہیں ۔
اس لئے اگر آپ علمی دنیا کی طرف اپنا رخ کرنا چاہتے ہیں تو علم کا ذوق و شوق کے ساتھ پڑھو پڑھو لکھو لکھو کا فن و آرٹ سیکھو ۔۔۔۔۔۔۔
تحرير ۔ ناصر منصور شاز ۔۔۔۔۔۔
9906971488
