سیلاب کا سبق! 0

سیلاب کا سبق!

کرے کوئی بھرے کوئی

ش م احمد سری نگر
7006883587

قدرت کے قہر و طیش میں بے نام ہوگئی
اِک بستی تھی سیلاب سے گمنام ہوگئی
بادل پھٹے بارش ہوئی ڈوبا شہرشہر
خوابوں کی نگر ی میں صبح ہی شام ہوگئی

گزشتہ کئی دن سے جموں کشمیر میں ابتر موسمی حالات کا خوف ناک سلسلہ تاہنوزجاری ہے۔ آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ ساون کی جھڑیوں میں موسلا دھار بارشیں بند ہونے کا نام نہ لیں‘ کہیں بادل پھٹ کر موت کا ننگا ناچ ناچیں‘ کہیں دریا ندیاں لبالب بھر جائیں ‘ کہیںانسانی جانوں کا اتلاف ہو‘ کہیںمال مویشی ڈوب مریں‘ کہیںشاد وآبادبستیاں اور سڑکیں شاہرائیںزیر آب ہوں‘ کہیںبازار ویران اور کاروباری سرگرمیاںمعطل ہوں ‘ کہیں تعلیمی ادارے مقفل اور امتحانات ملتوی ہوں ‘ کہیں دریاؤں میں سطحِ آب خطرے کے نشانات کو عبور کر رہے ہوں‘ کل ملا کر جب کارخانہ ٔ قدرت کی اس قیامت خیز جنگ کے سامنے انسان ایک نہتابے بس وبے سہارا مخلوق کی طرح جیتا ہو تواس ساری صورت حال کو لازماً تباہ کار سیلاب کی پہلی آہٹ نہیں بلکہ آخری فتح سمجھنا چاہیے۔ فی الحال ہمارے یہاں زمینی حقیقت یہ ہے کہ جموں میں توی‘ ستلج اور دیگر ندی نالوں میں سیلاب وطغیانی کی ہیبت ناک موجیںمسلسل غرا رہی ہیںاور کشمیر میں دریائے جہلم اور دوسری ندی نالے سیلابی پانیوں میں غرق ہیں ‘ یعنی دونوں صوبوں کی موسمی رُودادیں اُنیس بیس کے فرق کے ساتھ ایک جیسی لگتی ہیں ۔ خاکم بدہن ہم ایک اور خوف ناک سیلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں بشرطیکہ آسمان والا ہم پر رحم کھاکر بارشوں کا سلسلہ فوری طور موقوف نہ کردے اور موسم میں اتنی خوش گوار تبدیلی واقع نہ ہو کہ سطحِ آب بہت جلد کم ہوکر خطرے کے نشان سے نیچے کی سطح پر لوٹ آئے ۔ امرواقع یہ ہے کہ کشمیر میں سیلابی منظر نامے کے چلتے نشیبی علاقوں میں رہنے والے عام لوگ پریشان ہیں ‘ جب کہ مسلسل برستی بارشوں کے سبب حکام بے دست وپا نظر آرہے ہیں ‘ باوجود یکہ پوری انتظامی کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے کمر ہمت باندھے میدان میںمستعدی کے ساتھ کھڑی ہے ۔ ۲۰۱۴ کی طرح سرکاری سطح پر ریسکیوآوپریشنز میں کسی تساہل و تغافل کی کہیں سےکوئی شکایت نہیں۔ بایں ہمہ عام کشمیر یوں کے قلب وذہن میں ۷؍ستمبر۲۰۱۴ کے تباہ کن سیلاب کا مایوس کن فلیش بیک مسلسل گھوم کر انہیں پژمردہ کر رہاہے۔خصوصیت کے ساتھ اُن لوگوں کا صبر وقرار چھن رہاہے جو جہلم اور دیگر ندی نالوں کے کنارے بود و باش رکھتے ہیں ۔ ادھر وسطی کشمیر بڈگام میں شالنہ کے مقام پر جہلم کنارےشگاف پڑنے کے فوراً بعد انتظامیہ نے کئی نشیبی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات کو منتقل ہونے کا انتباہ جاری کیا ہے ۔ آگے کیا ہوگا‘ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ بہر کیف لوگ آج سے گیارہ سال قبل صدی کے بدترین سیلاب کی ظالم یادوں سے تھرا رہے ہیں۔انہیں سیلابی ریلوں کے دئے ہوئے وہ گہرے زخم دل پر کچوکے لگا رہے ہیں جو جھماجھم بارشوںسے تباہیوں اور بربادیوں کی صورت میں ان کے مقدر ہوئے۔ان زخموںنے مال وجان کے ناقابلِ تلافی زیاں کی نشترزنیوں سے متاثرین کے پورے وجود کونیم بسمل اور جذبات کو لہو لہاںکر کے چھوڑا تھا۔ اگر چہ فی الوقت اُسی پیمانے کے ایک اور ممکنہ سیلاب کی ڈراؤنی تصویریں دیس اور دنیا میں گردش میں ہیں مگر اللہ کاشکرہے کہ آج جمعرات صبح سے محکمہ موسیمات کے دعوے کےمطابق جہلم میں سطح ِ آب میں تھوڑی سی کمی درج کی گئی ہے‘ پھر بھی حتمی طور یہ کہنا خلافِ عقل ہوگا کہ کشمیر میں سیلاب کا خطرہ مکمل طور ٹل گیا ہے ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍبلا شبہ ہر فردبشر کی دلی خواہش اور دعائے قلب ہے کہ یوٹی کے سرپر جس امکانی سیلاب کا خطرہ منڈلارہاہے ‘وہ فوراًٹل جائے ‘ زندگی اپنے معمول پر لوٹ آئےاور جن لوگوں کو بارش وباران سے مختلف نقصانات اُٹھانے پڑے ‘اُن کی بازآبادکاری ترجیحی بنیادوں پر ممکن العمل ہو۔اس سلسلے میں دعاؤں کے علاوہ سیلابی خطرات کا توڑ کر نے کے لئے تیر بہدف انسانی کاوشوں اور نتیجہ خیزحکمت عملیوں کی اشد ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ ا س وقت ر اجدھانی دلی سمیت موسم کی برہمی کا نزلہ اور سیلابی شامتوں کا نزول شمالی ہند میں پنجاب ‘ اُتراکھنڈ‘ اُترپردیش اور ہماچل پر دیش کوبری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔یہاں کی بیشتر آبادی تاحال عتاب و عذاب کے بھنور میںپھنسے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ چنانچہ پنجاب کے متعدد اضلاع میں وسیع پیمانے پر سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر اسے’’آفت زدہ ریاست ‘‘قررادیاگیا ہے‘ جب کہ دلی میں جمعرات صبح سے بارشوں کا سلسلہ اس قدر شدیدہے کہ بارش کاپانی اب دلی سیکریٹریٹ پرقابض ہو چکاہے۔ اتناہی نہیں بلکہ میووہار میں سیلاب زدگان کے لئے راحت کیمپ میں بھی پانی کے ریلے گھس آئے ہیں ۔ اُتر پردیش کے بارےمیں اطلاع یہ ہے کہ موسم میں خوش گوار تبدیلی سے عوام میں خوش اُمیدی کا ہلکا سا جھونکا محسوس کیا جارہا ہے ۔
ماہِ اگست سے شمالی ہند کالگ بھگ پورا خطہ ساون کی جھڑیوں اور تیز ہواؤں کا ناقابل ِ برداشت عذاب سہے جا رہاہے۔ ظاہر ہے جب کسی جگہ بارشیں حد ِاعتدال سے متجاوز ہوں تو انسان تو انسان جانوروں کی زندگیاں بھی اجیرن ہوکے رہتی ہیں۔ لہٰذا پورے خطے میں مون سون کی مار سے کاروبارِزندگی متاثر ہوچکا ہے‘ خاص کر محنت کش غریب طبقہ نان ِ شبینہ کا محتاج ہور ہاہے ۔ بعض ایسے کم نصیب مقامات ہیں جہاں بارشیں ابھی تک تھم جانے کا نام نہیں لے رہیں‘ وہاں کےدریا ؤںاور ندیوں میں بارش کا پانی کناروں سے اوپر بہہ رہاہے ‘ بستیاں آب گاہوں میں بدل گئی ہیں‘ سڑکیں زیرآب ہونے کے سبب ٹریفک کی نقل وحرکت میں خلل اور شہریوں کی چلت پھرت میں مشکلات آرہی ہیں ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ مانسون اب کےزمین کی صدیوں طویل پیاس بجھا نے کی قسم کھاچکاہے یا انسانوں کے کھاتے میں جان کے جنجال ‘ مالی نقصانات ‘ زمین زراعت کے خساروں سے اپنا کوئی پراناحساب چگتا کر رہاہے ۔ اسی پس منظر میں مبصرین اور ناقدین ارباب ِ حل وعقد سےبرحق سوال کر رہے ہیں کہ اگر سیلاب زدہ ریاستوں میں ناگفتہ بہ موسمی حالات کوقدرت کا قہر بھی کہا جائے مگرجدید سائنسی علوم اور ماڈرن ٹیکنالوجی کے باوصف متعلقہ حکام اور ماہرین اس نوع کی ناگہانی سچوئشن کی پیش بینی اور حفظ ماتقد م میں کچھ کر کے اس قدرتی آفت سے فاتحانہ طورنمٹنے سے قاصر کیوں رہے؟ حالانکہ ماں کی طرح رفاقت اورشفقت سے لبریزقدرت کا اٹل اصول ہے کہ جہاں انسان کے لئے دھرتی پر قدم قدم مشکلات اور مسائل کے انبار ہیں ‘وہاں ساتھ ہی اوپروالے نے انسان کے اندر تخیلی‘ تخلیقی اور اختراعی خزانے بھی ودیعت کئے ہیں
تا کہ ان سےحوصلہ و رہ نمائی پاکر انسان اپنی شب گزیدہ زمین پر ا ہوش مندی اور جوان مردی سے چراغِ راہ بنانےکے لئے درکار ساز وسامان ڈھونڈ نکالکراسے بروئے کار لائےتاکہ انسان کے لئے شب ِتار بھی دن کی مانند روشن ہو ۔ علامہ نے اسی ابدی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا کے روبرو انسان سے کہلوایا ؎
تُو شب آفریدی چراغ آفریدم
سفال آفریدی اَیاغ آفریدم
ترجمہ: تُونےرات بنائی میں نے( اس کو روشن رکھنے کے لئے) چراغ پیداکیا۔ تو نے مٹی پیدا کی‘ میںنے( اُس سے) پیالہ بنالیا۔
اس ناقابلِ تردید آفاقی حقیقت کے پیش نظر موجودہ سیلابی آفات کے حوالے سے ناقدین کی یہ رائے قرین عقل لگتی ہے کہ ہم سیلاب کے کریہہ الصورت نقصانات کو محض قدرت کی انتقام گیری سے تعبیر کر کے بری الذمہ نہیں ہو سکتے بلکہ اس کہانی کے پیچھے بہت حد تک ہماری اپنی دانستہ یانادانستہ کارستانیاں‘ ناقص پلاننگ اور ناعاقبت اندیش پالیسیوںکا عمل دخل بھی ہے کہ آج بارش کی چند ہی بوندوں کے سامنے ہمارےتمام ترقیاتی پروجیکٹ ہوا ہوائی‘ بڑے طمطراق سے بنائی گئیں سڑکیں پانی تلےغائب‘ آفات سے نمٹنے کے حوالے سے ہماری پیش بندیاں اورانتظامات سراب ‘ برسوں خطیر رقومات پھونک کر تعمیر کئے گئے پل مسمار اور آفاتِ سماوی وارضی کا موثر مقابلہ کر نے والے ادارے کارگر ثابت نہیں ہورہے۔اس فسانہ ٔ عجائب پر ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ ماہرین کی اس رائے سے ہمیں اتفاق کرنا ہی پڑےگا کہ قدرت کی نازل کردہ ہر آفت اور ناگہانی مصیبت کو تقدیر کالکھا سمجھ کر ہم اپنی پنڈ نہیں چھڑاسکتے ۔ ہم اُس جدید دور میں رہ بس رہے ہیں جب ترقی کےبام ِ عروج کو چھوتے ہوئے ہم اپنےقدم فخراًچاند پررکھ آئے ہیں مگر افسوس کہ ہم ہی وہ بھی ہیں جو کرۂ زمین پر وہاں کھڑے ہیں کہ بارش کے پانیوںکی نکاسی کا ہمارانظام اتنا گیا گزرا ہے کہ پانی آسمان سے گرکر سیدھے ہمارے بازاروں‘ گلی کوچوں ‘گھروں ِ ‘کوٹھیوں ‘ جھونپڑیوں میں گھس کر ہمارا جینا حرام کر کے چھوڑتاہے‘ ہماری کھیتیوں کوبے ثمر بناتا ہے ‘ ہماری کارگاہیں اُجاڑ تا ہے۔اس وقت جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں بہ حیثیت مجموعی سیلاب زدہ لوگوں کی زندگیاں اسی کسمپرسی‘ بے بسی اور لاچارگی سے عبارت چلتی پھرتی دُکھ بھری کہانیاں سنارہی ہیں ۔ یہ صورت حال الم انگیز ضرور ہے مگر ابا ِ رب ِ اقتدار کے لئے ویک اَپ کال ہے کہ ہمیں قدرتی آفات کے تعلق سے اپنی پلاننگ کو بہر طورسائنسی خطوط پر چلاناہوگا‘ اسی میں ہماری بقا کا راز مضمر ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

اگلے سیلاب سے پہلے

آج سیلاب سے گھر اہوا بے بس انسان اپنے چاروں اطراف تکالیف اور دُکھوں کاخر خشہ دیکھ کر خود سے پوچھنے کی فرصت نہ پائے کہ اس کی موجودہ تباہی میں اس کا اپنا ہاتھ کتنا ذمہ دار ہے‘ لیکن اگر کبھی وہ چند لمحات مراقبے میں جاکر تنہائی میں سوچے کہیںمیںنے بھی جانے انجانے فطرت کے وضع کردہ ماحولیاتی توازن واعتدال کو تلپٹ کر نے میں اپنا ہاتھ تو نہیںبٹا یا تھاکہ آج اس چھیڑ چھاڑ کا بدلہ مجھ سے لینے کے لئےخود نظام ِ قدرت سیلاب کی صورت میںاپناغصہ نکالنے کے لئے میرے دروازے پرحاضر ہے ۔ مزید برآں یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ ہم ’’ تعمیر و ترقی ‘‘کے نام سے اپنا چورن بیچتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے ہمیں نظام ِقدرت کے ساتھ اپنے ہاتھوں زیادتی کےعوض مستقبل پراس کے منفی اثرات کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ ہمارےکئی نامی گرامی سرمایہ دار اور ٹھیکیدار بھی اپنے خزانے بھرنے کے لئے پہاڑوںکی چیر پھاڑ اور جنگلوں کی کٹائیاں کرکے اپنا اُلو سیدھا بے نیاز ہوکر کرتے ہیں ۔ انہیں آپ کس منہ سے سمجھائیں گےکہ مہربانو قدرت کا کارخانہ زیادہ دیرخاموش نہیںرہ سکتا۔ وہ اس وقت غصہ پی رہاہے مگر وقت آئے گا جب تم اپنے خواب گاہ میں محو آرام ہوں گے اور فطرت کا فرستادہ ہم سے تمہارے کئے کرائے کا اپنے طریقے سےانتقام لے گا۔ ہمیں بنی نوع انسان کے لئےقدرت کی فداکارانہ خدمتوں کےبار ے میں اتنا حسنِ ظن رکھتے ہوئے ماننا چاہیے کہ قدرت ہمارے لئے مامتا بھرا دل رکھتی ہے ‘ اس کاانسانوں کےساتھ جنم جنم کا رشتہ ہے‘ یہ اس کی ضروریات کی کفالت کرتی ہے مگر انسان ہے کہ اس کے ساتھ خیانتیں کر کرکے خوداپنے اوپر تباہیوں‘ بلاؤںاور تخریبوں کے بھیانک عفریت کو پل پڑنے کی دعوت دیتا ہے ۔ افسوس !ہم نے ہی ترقی اور کمائی کاسراب پانے کے لئے فطرت کی حقیقتوں کو بے دردی سے پامال کیا‘ ماحولیاتی توازن کو بگاڑنے سے کوئی دریغ نہ کیا‘ اپنی خودغرضیوں کے بت تراشتے ہوئے زمین ‘ دریا‘پہاڑ‘ جنگلات اور آبی وسائل کےنام پتہ تک مسخ کر نے اور ان کا جغرافیہ ہڑپنےمیں کوئی دقیقہ فروگذاشات نہ کیا‘ زمین پرپہاڑوں کی مضبوط میخیں ہلانے پر بھاری بھرکم بلڈوزروں‘ پھاوڑوں‘ کلہاڑوںاور پتھروں کو ریزہ ریزہ کرنے والی تیزگام ظالم مشینوں کو مامور کیا ‘ اپنی دانست میں فطرت کے نظام کو درہم برہم کرکے اپنی یک طرفہ مال کماؤ جنگ جیت لی مگر یہ ہماری بھول تھی کیونکہ اس جنگ کا نتیجہ انسان کےحق میں ہمیشہ ایک دائمی ہار تھا اور آئندہ بھی ہوگا۔ آج گلوبل وارمنگ ‘بن موسم بارشیں‘ ساون بھادوں کی نامہربانیاں‘ سیلاب ‘سونامیاں‘ زلزلے ‘ خشک سالیاں‘ زرعی پیدوار میں بے حد کمیاں ‘ گلیشروں کا پگھلاؤ‘ پینے کے صاف پانی کی قلت اور مختلف النوع بیماریاں ہماری اسی ہار کی چند موٹی موٹی علامتیں ہیں۔
یہ بھی پڑھو…

کشمیر کی ندیاں اور سیلاب

کارخانۂ قدرت انسان پر ہمیشہ سے مہربان رہااور ہمیشہ رہےگا۔ اس کی دادودہش کا کوئی شمار نہیں‘ اس کی بن مانگی نعمتوں کا کوئی حساب نہیں‘ اس کی کرم فرمائیوں کا کوئی جواب نہیں مگر جب جب انسان خود غرضی اورناعاقبت اندیشی میں بھٹک کر نظامِ قدرت کو بگاڑ نے کے ناروا کام پراُتر آیا‘ قدرت کے منضبط قواعد کو اپنے حقیر خواہشات کا تابع ِ فرمان کرنے کاجرم کیا تو مجرم کے خلاف قدرت اس کا غصہ بھڑک اٹھنا قابل ِ فہم ہے ۔ جب بھی اور جہاںبھی اس نے دیکھا کہ انسان میری وفاؤں کاجواب اپنی بغاوتوں سے دے رہاہے تو دیرسویر کارخانۂ قدرت کا آپا اتناکھودیاکہ اپنی رحم دلی کو برہمی سےاور اپنی نرمی روی کوغیظ وغضب سے بدل دیا‘ پھر ابن ِ آدم کا ٹھکانہ رہا نہ نام ونشان۔ واضح ہوا کہ قدرت کے اپنے کچھ اٹل قانون اور کبھی نہ بدلنے والے اصول ہیں ۔ یہ اصول اور قوانین انسان کی بھلائی ‘ خوش حالی اور پراپرجائی کے لئے ہمیشہ وقف ر ہتے ہیں‘ یہ انسان سے اپنے بے لوث پیار کا رشتہ ہر سردوگرم میں برابر نبھاتے ہیں ‘ یہ ماں کی طرح زمین پر انسانی ضروریات کی بہم رسانی کے لئے ہرانسان کی خدمت میں مساویانہ طوراپنی بانہیں کھولے رہتی ہیں مگر خبرداراسے اپنے نظام میں کسی غیر کی مداخلت قطعی طور گوارا نہیں‘ اسے اپنے اصول وقوانین کی بے حرمتی کرنے والےسے کوئی ہمدردی نہیں ‘ اسے اپنے خلاف کی گئی کوئی چھوٹی بڑی زیادتی یا غداری قبول نہیں ‘ اسے خلافِ فطرت کام دھندوں سے دلی نفرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جب غداری کے مرتکب کسی قوم یاسماج کا انتقام لینے پر اُترآئی تو تمام حدیں پھلانگتی ہے ‘ اپنے سامنے تمام رُکاوٹیں ہیچ ثابت کرتی ہے ‘ رحم کی تمام دعائیں بے اثر لوٹاتی ہے ‘ بچاؤ لینڈ سلائیڈؤں کی تباہ کن شکل اختیار کرکے پورے کے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے‘انسان کو آفت وشامت کی زنجیروں میں جکڑ کر بے موت مارتی ہے ۔قبل اس کے وہ دن آئے ہمیں جاریہ سیلاب سےیہ سبق سیکھ لینا چاہیے کہ قدرت کے ساتھ بے لوث دوستی میں ہماری ابدی کامیابی کاراز چھپا ہوا ہے اور اس کے ساتھ دشمنی اورزیادتی میں ہماری ازلی ناکامی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں