کشمیر کی ندیوں کو بدانتظامی اور یادداشت کی گمشدگی سے بچاناہوگا
شمشاد کرالہ واری
جب سیلاب دھاڑتے ہیں تو حکومتیں خاموش رہتی ہیں اور شومئی قسمت کو دوش مڑھ لیتی ہیں ۔
کشمیر میں سیلاب اچانک نہیں آتے اور کوئی نئی بات بھی نہیں ہے یہ برسوں کی دستکوں اور تنبیہات کے بعد آتے ہیں۔ سلٹ سے بھرے دریا، تجاوزات کی زد میں آنے والی سیلابی ندی نالے، اور ماحولیاتی علم و آگہی کا بتدریج زوال۔ 1995 سے 2014 تک، اور پھر ستمبر 2025 کے تباہ کن سیلاب میں، وادی نے وہ کچھ جھیلا ہے جسے اکثر قدرتی آفت کہا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت کہیں زیادہ تلخ ہے۔ یہ سیلاب انسانوں کے پیدا کردہ ہیں، انتظامی غفلت، بدعنوان عملے ،ناقص منصوبہ بندی، اور عوامی آوازوں کو نظرانداز کرنے کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔
میں نے خود اس کا مشاہدہ کیا۔ جب سابق وزیر ماحولیات سیف الدین سوز نےجہلم کے کناروں کی خوبصورتی کا منصوبہ شروع کیا، میں نے عوامی طور پر اعتراض درج کیا ان کے ساتھ بات کی لیکن اپنی ہی سناتے رہے۔ بعد ازاں یہ سلسلہ 2014 کے سیلاب ایک انٹرویو میں انہوں نے اس پالیسی کی خامیوں کو تسلیم کیا کیونکہ اس پروجیکٹ کے تحت کناروں کو مٹی کی بھرائی کی اور پتھروں کے ساتھ ساتھ سیمنٹ باجری سے اس کے دامن کو تنگ کیا ۔برسوں بعد، اسمارٹ سٹی منصوبے کے تحت دریا کے کناروں کو مزید تنگ کیا گیا۔تفریحی پارکیں بنائی گئی میں نے اداریے لکھے، شکایات درج کیں، اور منصوبہ سازوں سے عوامی مشاورت کی اپیل کی۔ لیکن حکام نے نہ سنا، نہ سیکھا۔
کشمیر میں سیلاب صرف آبی واقعات نہیں۔یہ اخلاقی واقعات ہیں۔ یہ حکمرانی کی دراڑوں، مقامی دانشوروں کی خاموشی، اور دریا کو ایک رکاوٹ اور پاٹنے کے لئے مناسب زمین سمجھنے کے نتائج کو بے نقاب کرتے ہیں۔
�دریا کی یادداشت کا مٹاؤ
کشمیر کے دریا صرف پانی نہیں، یادداشت بھی بہاتے اور تازہ کرتے رہتے ہیں۔ بندھوں اور سیلابی چینلز کی چوڑائی تاریخی طور پر نیچے کی چوڑائی بنیاد سے 100 گز اور اوپر سے 50 گز تھی۔ یہ پیمائشیں صدیوں کی مشاہدہ کاری اور اجتماعی دانش کا نتیجہ تھیں۔ آج یہ صرف یادداشت میں باقی ہیں وہ بھی اگر کوئی پرانی کتابوں کی ورق گردانہ کرے۔ تجاوزات نے کناروں کو نگل لیا ، اور دریا کی نچلی سطح کا اب سلٹ میں دم گھٹ رہاہے ۔
اس پر طرہ ہے کہ ہم نے جنگلات کاٹ ڈالے بستیوں میں پیڑوں کی بنیاد ہی مٹا دی اس کا نتیجہ یہ کہ وہاں پانی جذب ہوتا ہی نہیں زمین ڈھیلی ہو گئی اور معمولی بارش سے بھی کھسک جاتی ہے۔
بمنہ، دودھ گنگا اور دیگر نشیبی علاقے انتظامی زونز میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔کیچڑ بھر کر، ندیوں کو پاٹ کر۔ پولیس اسٹیشن، شاپنگ کمپلیکس، اور سرکاری دفاتر اب ان جگہوں پر قائم ہیں جہاں کبھی دریائی پانی بہتا تھا۔ یہ المیہ ہے کہ وہ ادارے جو ماحول کی حفاظت کے لیے بنائے گئے تھے، اب خود ایک خطرہ بن چکے ہیں۔
جب نئی بائی پاس سڑکیں بنائی گئیں، ہم سیلابی کوہلوں کی صفائی بھی ساتھ ساتھ کر سکتے تھے۔یا اس کےدونوں طرف سے مٹی نکال کر، انفراسٹرکچر اور سیلابی تحفظ دونوں مقاصد حاصل کیے جا سکتے تھے۔ لیکن اس کے بجائے پہاڑیوں کو کاٹا گیا، اور چینلز جوں کے توں بھرے رہے۔ یہ صرف ناقص منصوبہ بندی نہیں بلکہ یہ منطق سے عاری ہے۔
مفاد عامہ کے تعلق سے لاپرواہی
.شہری توسیع کی تعمیرات اور اخلاقی زمہ داریاں
شہری توسیع ناگزیر ہے۔ لیکن اسے اخلاقی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ کشمیر میں رہائشی کالونیاں سیلابی علاقوں میں پھیل گئی ہیں، بغیر کسی منطق آبی انتظام کے۔ نجی تعمیر کنندگان، اکثر انتظامیہ کی خاموش منظوری سے، دلدلی زمینوں، ندیوں اور نشیبی علاقوں پر تعمیرات کر رہے ہیں۔ نتیجہ: ایک ایسا منظرنامہ جو آفت کو دعوت دیتا ہے۔
لیکن توسیع کا مطلب خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ بنگلہ دیش اور آسام جیسے سیلابی علاقوں میں، گھروں کو اونچے ستونوں پر تعمیر کیا جاتا ہے تاکہ پانی نیچے سے گزر سکے۔ کشمیر میں بھی نشیبی علاقوں میں یہی اصول اپنانا چاہیے تھا۔ بیسمنٹ کو پانی کے لیے خالی چھوڑنا، اور تعمیرات کو مضبوط ستونوں پر قائم کرنا۔ یہ پابندی نہیںتحفظ ہے۔
زمین کے استعمال کی پالیسی شفاف اور قابلِ نفاذ ہونی چاہیے۔ ندیوں اور سیلابی ندی نالوں کو تعمیرات سے پاک قرار دیا جائےلیکن فقط کاغذ پر نہیں، اور تجاوزات کو منظم طریقے سے ہٹایا جائے۔ تعمیری توسیع کو زمینی حقیقت کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی سہولت کے مطابق۔
. اسمارٹ سٹی، دریاکی خاموشی
سرینگر میں اسمارٹ سٹی منصوبے نے جدیدیت کا وعدہ کیا۔ لیکن اس نے اکثر سطحی خوبصورتی پر دھیان دیا ، پائیداری نہیں۔ لوگوں کو معمولی بارشوں میں بھی سیلابی صورتحال کا سامنا رہتا ہے ۔اتنا ہی نہیں دریا کے کناروں کو پارکوں اور راستوں کے لیے تنگ کیا گیا۔ ویتھ (جہلم) کو سکیڑا گیا، اس کی تہہ سلٹ سے پہلے ہی بھر گئی تھی مزید اور گنجائش کم ہو گئی۔ لگا شہر خوبصورت ہوالیکن دریا خاموش ہو گیا۔ وہی دریا آج دھارڈ رہا ہے۔
یہ صرف کشمیر کا مسئلہ نہیں۔ پورے بھارت میں اسمارٹ سٹی منصوبے اکثر ظاہری خوبصورتی کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ بنیادی ڈھانچے کو نظرانداز کرتے ہیں۔ لیکن سیلابی خطے میں یہ نقطہ نظر خطرناک ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جموں میں بھی وہ خوبصورتی ٹائیں ٹائیں فش ہوگئی۔
ہمیں دریا کو تنگ کرنے کے بجائے اس کے قدرتی پھیلاؤ کو بحال کرنا چاہیے۔ پورٹلینڈ (امریکہ) اور شیفیلڈ (برطانیہ) میں، شہروں نے سخت فرشوں کو سبز گلیوں میں تبدیل کیا۔ایسے راستے جو بارش کے پانی کو جذب کرتے ہیں۔ یہ صرف ماحولیاتی خصوصیات نہیںیہ شہری تحفظات ہیں۔
انتظامی غفلت اور عوامی بے دخلی
کشمیر میں سیلاب صرف آبی ناکامی نہیںیہ حکمرانی کی ناکامی ہے۔ زمین کے استعمال کی کوئی مربوط پالیسی نہیں، سیلابی علاقوں میں بے قابو توسیع، اور صفائی کا فقدان یہ سب انتظامی غفلت کی علامت ہیں۔ غیر مقامی افسران، جو زمین کی ساخت اور ثقافتی میراث سے ناواقف ہیں، عوامی مشاورت کے بغیر فیصلے کرتے ہیں۔
بدعنوان انجینئر اور ٹھیکیدار اس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ عوامی پیسہ “خوبصورتی” کے نام پر ضائع ہوتا ہے، جبکہ سڑکیں و پل ریت کے ٹیلوں کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ ناقص تعمیراتی معیار چھپائے جاتے ہیں، اور ناقص مواد استعمال ہوتا ہے جو سیلابی صورتحال میں عیاں ہو جاتے ہیں۔ جوابدہی ندارد، اور عوامی اعتماد ہر ناکام منصوبے کے ساتھ کمزور ہوتا ہے۔
یہ اخراج صرف تکنیکی نہیںاخلاقی ہے۔ جب کمیونٹیز کو اپنے ماحول کی تشکیل میں شامل نہیں کیا جاتا، تو ترقی بے دخلی کی صورت بن جاتی ہے۔
عالمی کامیابیاں اور مقامی کج بینی
جہاں اس وقت پورا جموں اور کشمیر سیلاب سے نبرد آزما ہے، وہاں ہمارے پالیسی سازدنیا کی بصیرت سے کام لیناجانتے نہیں ۔
ویانا نے ڈینیوب کے لیے 21 کلومیٹر کا فلڈ ریلیف چینل بنایا۔
– چین نے شہروں کو “سپنج” میں تبدیل کیا جو—بارش کو جذب کرنے والے ڈھانچے کہلائے جاتے ہیں۔
– تنزانیہ نے دریاؤں کی صفائی کر لی اور متاثرہ آبادی کو منتقل کیا، اور سیلابی علاقوں کو سبز زون میں بدلا۔
– نیدرلینڈز نے تیرتے مکانات بنائے۔
– پورٹلینڈ اور شیفیلڈ نے سبز گلیاں بنائیں۔
یہ خواب نہیںمنصوبہ بندی اور مشاورت کا نتیجہ ہیں۔ کشمیر، اپنی ماحولیاتی اور ثقافتی وراثت کے ساتھ، اس سے کم کا مستحق نہیں۔
ہمیں مطالبہ کرنا چاہیے:
مکمل سیلابی پالیسی جو زمینی حقیقت اور عوامی مشاورت پر مبنی ہو۔
– بندھوں کی اصل چوڑائی کی بحالی اور تجاوزات کا خاتمہ۔
– عوامی قیادت میں ندی نالوں کی صفائی کے منصوبے، واضح اصولوں کے تحت۔
– سیلاب زدہ علاقوں میں تعمیراتی ضوابط اونچے ستون، کھلے بیسمنٹ، مضبوط بنیادیں طریقہ کار ۔
– زمین کے استعمال کے شفاف قوانین اور خلاف ورزی پر سزا۔
– سڑکوں، پلوں، اور فلائی اوورز کے تعمیراتی معیار کی عوامی اشاعت۔
– ستمبر کے سیلاب پر آزادانہ تحقیقات چہرہ بچانے کے لیے نہیں، اصلاح کے لیے۔
یہ گذارشات صرف تکنیکی نہیںاخلاقی ہیں۔ یہ دریا کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلکہ شراکت دار سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ تاکہ ہم اس مخمصے سے نجات پاسکیں۔

