رشید پروین سوپور
مہاراجہ کے زمانے میں میںکئی بار ہولناک آگ کی وارداتیں کشمیر کی مختلف جگہوںاور قصبوںمیں واقع ہوئی ہیں۔یہ ہولناک اس لئے بھی رہی ہیں کہ آگ بجھانے کا سازو سامان مہاراجہ کے پاس نہیں تھا ،کہتے ہیں کہ بعد کے زمانے میں مہاراجہ نے جرمن یا جاپان سے آگ بجھانے کا ایک آدھ انجن خریدا۔ مہاراجہ کا جائے مسکن سرینگر یعنی کہ کیپٹل تھا اور ہونا بھی یہی چاہئے تھا کہ کیپٹل کو ہر دور اور ہر سرکار میں خاص درجہ حاصل رہا ہے ۔اب اگر بانڈی پور میں آگ کی واردات ہوتی ہے تو بڑی تندی اور تیزی کے ساتھ گاؤں کا چوکیدار گھوڈے پر بیٹھ کر سرینگر مہاراجہ کو آگ کی اطلاع دینے چلا جاتا ہے ، تین دن کے بعد سرینگر پہنچتا ہے اور پھر مہاراجہ سے آگ بجھانے کے احکامات لے کر مزید تین دنوں کے بعد بانڈی پور واپس پہنچتا ہے اور ان چھ دنوں کے دوران آگ یوں خود بخود بجھ چکی ہوتی ہے کہ اب جلانے کے لئے اس کے پاس اور کچھ رہا ہی نہیں ہوتا ہے ۔ یہ واقع میں نے اپنے اسلاف سے سنا ہے اور بلکل ایسا ہی واقع میرے پیارے سوپور کے ساتھ بھی ہوا ہے کہتے ہیں کہ محاورۃ سوپور کے صرف گیارہ مکانات ہی اس ہولناک آگ میں بھسم ہونے سے رہ گئے تھے ، مہاراجہ کا اس میں کیا دوش کیونکہ اُس وقت یہ سب کچھ کہاں تھا جو آج ہے ۔ یہ تیز رفتار سواریاں ، یہ فون اور سائینسی برق رفتاری اب کے دُور کا اس دور کے ساتھ مقابلہ ہی کیا ،؟ مہاراجہ خود بھی رتھ اور گھوڈا گاڈیوں پہ سوار ی کرتے تھے کہتے ہیں سوپور کی اس آگ کے بعد سر لارنسوالٹر نے اس سوپور کو وہ شکل و صورت عطا کی جس میں اب بگاڈ ہی آیا ہے سدھار نہیں ، اور اگر آپ سوپور کو غور سے دیکھیں گے اور سینما چوک سے درائے جہلم تک پرانے سوپور کو دیکھیں گے تو ان بستیوں میں واقعی ایک ترتیب پائیں گے اور اگر آپ نے انگلینڈ کی پرانی بستیاں فلموں میں بھی دیکھی ہیں تو آپ پرانے سوپور کو ان بستیوں کے مشابہہ پائیں گے ، ہر لائن سیدھی دریا کے کنارے پر کھلتی ہے اور بیچ کے فاصلے بھی یکساں ہیں ، مجھے یقین ہے کہ یہ کارنامہ لارنس کا ہی ہوگا اور دوسری بات یہ کہ کشمیر میں اور کسی قصبے میں الگ الگ پیشوں سے منسلک لوگ الگ الگ محلوں میں نہیں رہتے مگر یہاں سوپور وہ واحد بستی ہے جہاں ہر برادری کا اپنا ایک الگ محلہ ہے اور اس محلے کا نام بھی پیشے ہی کی بنیاد پر رکھا گیا ہے ، مثلاً محلہ حجاماں ۔ یہ سارا محلہ حجاموں پر ہی مشتمل ہے ، محلہ تیلیاں ، تیلیوں کا ہی محلہ ہے ، جن کا پیشہ تیل نکالنا اور بیچنا ہی ہے رحیم صاب سوپور اور معروف شاعر عمہ خوجہ اسی محلے کے تھے اور عمہ خوجہ تیلی ہی تھا جب کہ رحیم صاؑب جولاہا تھا ،، چھانہ کھن مطلب نجاراں اور اس کے ساتھ ہی سوپور میں دوسرا محلہ بھی ہے جس کا نام ہی چھانہ محلہ ہے اس طرح پُج محلہ قصابوں کا محلہ (ہاتی شاہ ) محلہ شاعراں یا شہیر محلہ (ھملنہ ) زمینداروں کا محلہ ۔ پیر محلہ پیروں کا محلہ غرض سبھی محلے سوپور میں الگ الگ اور الگ الگ جگہوں پر آباد ہیں یہا ں بٹہ پورہ بھی ہے ، مشہور و معروف محلہ ہے اور اس محلے میں سوپور کی لگ بھگ سبھی ہندو برادری آباد تھی ،، مسلم پیر میں تمام مچھیرے اور ہانجی لوگ آباد ہیں ۔۔آرم پورہ ۔ نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہاں آرم یا ملیار قوم ہی کے لوگ آباد ہیں ، راج ترنگنی میں اصل لفظ آرامک ہے ۔اس کے علاوہ بھی محلہ جات ہیں اور محلے میں بسنے والے لوگ زیادہ تر ایک ہی پیشے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ان باتوں سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ سوپور کو نئے سرے سے جب بھی بسایا گیا ہے ۔کوشش یہ ہوئی ہے کہ پیشے کے لحاظ سے انہیں بانٹا جائے اور ہم پیشوں کو اکٹھا کیا جائے اور دوسری بات یہ کہ آپ چوک میں کھڑے ہوکر بڑے بازار کی طرف نگاہ اٹھائے تو ہر بازار کا سرا دریائے جہلم کے کنارے پر ختم ہوجاتا ہے یہی حال چھوٹے بڑے اور ہر بازار کا ہے ،گلی کوچوں کا بھی یہی حال ہے اور اس بات کا اعلان کرتی ہیں کہ کسی نے سوچ سمجھ کر بڑی محنت سے سوپور کو اس طرح ایک خاص منصوبے اور ترتیب کے ساتھ بسایا ہے ،۔۔ اس کے بعد کالونی بسی ہے اور خصوصاً پچھلے تیس برسوں کے دوران سو پور دیکھتے دیکھتے سینکڑوں نئی کالونیوں کو اپنے اندر سمو چکا ہے مگر سب بے ترتیب ، بے ربط اور کسی بھی منصوبے کے بغیر ۔فلڈ ائیریاز میں سرکاری زمینوں پر کالونیاں وجود میں آگئیں ۔ نر سر یاں کاٹ کر بستیاں بسائی گئیں ۔کاہچرایاں ہڑپ ہوئیں ۔اس کے علاوہ لوگوں نے کھیتوں کھلیانوں اور باغات میں بھی نئی نئی بستیاں قائم کی ہیں یہ سب بڑی بڑی کالونیاں تو ہیں لیکن کہیں بھی کوئی مناسب منصوبہ اور ترتیب نہیں ہر طرف تعمیرات کے بننے اور بنانے کی ایک زبردست دوڈ لگی ہے ۔ویسے یہ بھی اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے کہ ہر دوفرد ۔ اپنے ایک یادو بچوں کے ساتھ ایک الگ اور اپنا گھر بنانے کی جستجو میں ہی جی رہے لیکن اب یہ لوگ گھر کہاں محلات تعمیر کر رہے ہیں ، بھلے ان میں کوئی رہے یا نہ رہے ۔مکین ہوں کہ نہیں ہوں اور اکثر ان گھروں کے لاڈلے فارن جاکر بستے ہیں اور گھر میں بوڈھے والدین مر کھپ جاتے ہیں ،ایک وسیع و عریض شاہی محل جس میں تمام تعیش و آرام کا سامان مہیا ہو ،بنانے کی خواہش اس آدم زاد سے کیا کچھ نہیں کرواتی ،رشوت ڈاکے ، لوٹ کھسوٹ اور ہر قسم کی حرام کمائی کے پیچھے یہی عوامل نظر آتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ کشمیر ی عوام اپنے بڑے یا چھوٹے دونوں میں سے کسی گھر میں محفوظ نہیں ،اور اب وہ خود کو اپنے ہی صحن میں اپنے گھر میں اپنی زمین میں بھی اپنے آپ کو اجنبی ہی پاتا ہے ،کیونکہ اجنبی دیس کے لوگ اس سے کشمیری ہونے کا ثبوت ہر ہر قدم پر مانگتے ہیں اور یہ بھی ان اجنبیوں کے ہی ہاتھ میں ہے کہ کب کس کو کشمیری ہونے کا سر ٹیفیکیٹ دیا جائے۔دیا بھی جائے یا نہیں ۔ بہرحال بات سوپور کی ہورہی ہے ،سینما چوک سے جامعہ مسجد تک کا بازار بڑا بازار یا مین مارکیٹ کہلاتا ہے یہی یہاں کا اولین اور اصل بازار ہے ، دکانوں کے بیچ کا فاصلہ یعنی سڑک کی چوڈائی بیس پچیس فٹ سے زیادہ نہیں ، اس بڑے بازار کے پیچھے ہی چھوٹا بازار بھی ہے جو ٹھیک اسی چوک سے شروع ہوتا ہے اور گوپی چند کے گھر تک سیدھا جاتا ہے جو دریا کے کنارے پر آباد تھا یعنی اس مارکیٹ کا سرا بھی دریا ئے جہلم کے کنارے پر ہی کھلتا ہے ، جامع قدیم ہاتی شاہ ۔ خانقاہ معلیٰ، نو حمام اور صوفی حمام یہ سب دریائے جہلم کے دوسرے طرف کے محلہ جات ہیں ۔ان محلوں کے بیچ سے ہی مین بازار کی سڑک گذرتی ہے ۔ آپ کے لئے یوں سمجھنا آسان ہوگا کہ پہلے سینما چوک سے جس کیساتھ ہی بس اڈہ بھی تھا گاڈی سرینگر کے لئے نکلتی یا آتی تو یہی ان کا راستہ ہوا کرتا تھا کیونکہ بخشی پُل تو بعد میرے بچپن کے زمانے میں بن گیا اور جس کو ہم نے بڑی مدت کے بعد دیکھا کیونکہ جامع مسجد سے ملحق چھوٹی پلیا جس کو آج بھی چھوٹا پل ہی کہتے ہیں کے بلکل قریب میر بردرس کی کتابوں کی دکان تھی اور اس کے سامنے دوسری طرف میرے والد صاحب کی بھی دکان تھی ۔ مجھے والد صاحب اکثر جمعہ کے روز نماز کے وقت اس دکان پر بیٹھنے کے لئے کچھ نہ کچھ دے کر راضی کیا کرتے تھے ، یہی راستہ تھا جہاں سے بخشی پُل بننے سے پہلے لاریاں اور تانگے گذرا کرتے تھے ۔ پل بننے کے بعد بھی گاڈیاں سواریوں کی تلاش میں ادھر سے ہی گذرتی تھیں ایک طویل مدت تک یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا کیونکہ اس وقت کی (لاری ) اس بس کو لاری ہی کہتے تھے اس میں صرف بیس بائیس سواریاں ہی سفر کر سکتی تھیں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ کبھی کبھی اس لاری کو صبح سے شام تک سوپور سے سرینگر کے لئے یہ بیس سواریاں میسر نہیں آتی تھیں اور تب لاری کا ڈرئیورلاری میں بیٹھی سواریوں کو کل آنے کی ہدایت کرکے گاڈی کو اڈے میں رکھ کر خود آرام سے سلیمان ہوٹل کی راہ لیتا ، یہ میں کوئی افسانہ بیان نہیں کرتا ہوں بلکہ میرے والد صاحب کئی بار مجھے دکان پر بٹھا کر جو صبح سرینگر کے لئے روانہ ہوئے تو شام کو دن بھر اس لاری میں سوپور کے اندر ہی گھوم پھر کر ہنستے ہوئے واپس آئے اس کے باوجود کہ اس لاری کا کلینر دن بھر لاری کے پیچھے سیڑھی کو ہاتھوں سے تھام کر (سرینگر سرینگر )کی آوازیں دیتا تھا ، آج یہ سب شاید عجیب اور حیران کن بات لگے لیکن یہ میرے بچپن کا سوپور تھا جس سے میں نے دیکھا اور یاد رکھا ہے۔ جامع مسجد اور اسلامیہ مڈل سکول جہاں میں درج ہوا تھا دونوں باہم ملے ہوئے تھے ،یوں کہ جامع مسجد کی پچھلی دیوار کے ساتھ ہی ہمارے سکول کا صحن شروع ہوتا تھا جس میں یہ مڈل سکول کی دو منزلہ عمارت تھی، جامع مسجد اور یہ سکول اس کی دوسری عمارت جس سے ہم سرد خانہ کہتے تھے ایک چھوٹے سے جزیرے کی شکل و صورت پیش کرتا تھا۔ دہ در پر جو چھوٹی پلیا تھی یہ جامع مسجد اور اس بڑے پل تک پہنچنے کا واحد راستہ تھا جو سوپور کے دونوں حصوں یعنی آر اور پار کو ملاتا تھا دریائے جہلم اقبال ڈار کے گھر کے نزدیک ہی دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا تھا اور دریا کی ایک شاخ دہ در کے راستے چھوٹی پلیا کو کراس کرکے پھر دریا میں مل جاتی ، دریائے جہلم سے جو بڑے پل کے نیچے سے بہتے ہوئے بارہمولہ اور پھر پاکستان کی طرف بہتا ہے ، اس لحاظ سے ہمارا سکول اور یہ جامع مسجد واقعی ایک چھوٹے سے جزیرے پر آباد تھی ، گردا گرد پانی ہی پانی تھا ، اور تب دریائے جہلم بڑا صاف ستھرا اور تمام قسم کی گندگیوں سے پاک تھا، سندیمت نگر (جھیل ولر ) کے زیر آب آنے کے بعد ایسا کہا جاتا ہے کہ سوپور ہی دا رالخلافہ بنا تھا اور ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ یہی جزیرہ ہوسکتا ہے جہاں بادشاہ اور گڈھی موجود رہے ہوں۔ تب گڈھی سیکریٹریٹ کو کہتے تھے سوپور کے علاوہ سرینگر تک کناروں پر آباد سارے گاؤں اور قصبے اسی دریا کا پانی پیا کرتے تھے ، اور مجھے یاد ہے کہ دریائے جہلم کی سطح آب میں بس تھوڈی سی کمی کچھ مہینوں کے لئے واقع ہوتی تھی نہیں تو یہ دریا لبالب ،ایک بڑے اور پر جوش د ریا کا منظر پیش کرتا تھا ، دہ در کو آج بھی دیکھا جاسکتا ہے لیکن ایک چھوٹی سی تنگ نالی ہوکر رہ گیا ہے اس کی زمینوں کی بھرائی ہوچکی ہے اور کچھ ادھر گئی ا ور کچھ ُادھر گئی اور اسی طرح آج بھی اقبال ڈار مرحوم کا مکان اسی جگہ ہے ان کے بچوں نے نئی اور اچھی خوبصور عمارت اس جگہ یعنی دریا کنارے کھڑی کی ہے اس کے علاوہ صوفی خاندان کی عمارتیں بھی دہ در کے کنارے اونچائی پر کھڑی تھیں ہمارے اساتذہ گرمیوں میں جامع کے آس پاس ہماری کلاسز لیتے جہاں اس وقت کچھ چھوٹے چھوٹے چنار بھی تھے اور انہی کی چھاؤں میں بیٹھ کر ہم پڑھا کرتے، ،جامع مسجد بہت ہی خوبصورت تھی ، میں بس اتنا ہی اس کا خاکہ کھینچ سکتا ہوں کہ یہ ہوبہو جامع مسجد دلی سے مشابہت رکھتی تھی سوائے اس کے کہ دلی کی جامع مسجد کافی اونچائی پر بنی ہے ،اس کے بڑے سے صحن میں ایک تالاب ہے اور جامع مسجد بھی بڑی اور اس کے مینار بھی کافی بلند ہیں ، سوپور کی جامع مسجد بھی جس نے بھی ڈیزائن کی تھی اسی نقشے کو سامنے رکھ کر بنائی ہوگی مجھے ایسا ہی لگتا۔
9419514537
