nidaekashmir 0

– آن لائن تعلیم یا موبائل کی لت؟

اداریہ

جموں و کشمیر کی وزیرِ تعلیم کی جانب سے حالیہ حکم نامہ جس کے تحت پندرہ روزہ تعطیلات کے بعد 8 جولائی سے اسکولوں میں تدریسی عمل دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، ایک خوش آئند قدم ہے۔ تاہم اس حکم نامے میں شامل چند نکات والدین اور ماہرینِ تعلیم کے درمیان تشویش اور اضطراب کا سبب بنے ہیں۔ خاص طور پر، اسکول کے اوقات کار کے بعد دوپہر ساڑھے بارہ بجے سے دو بجے تک طلبا کو آن لائن تعلیم فراہم کرنے کی شق نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور آرڈر میں اس بات کا بھی کہیں ذکر نہیں ہے کہ ٹیچرز گھر سے آن لائین ککلاس دیں گے یااسکول سے؟
ایک طرف حکومت اور تعلیمی ماہرین مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ بچوں کو موبائل فون سے دور رکھا جائے کیونکہ اس سے نہ صرف ان کی ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے بلکہ ان کی آنکھوں، نیند اور سونے جاگنے کے نظام پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ دوسری طرف انہی بچوں کو اسکول سے واپسی پر آن لائن کلاسز کے نام پر موبائل فون تھما دینا ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ والدین یہ سوال بجا طور پر اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ فیصلہ واقعی بچوں کے بہتر تعلیمی مستقبل کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے، یا محض ایک رسمی حکم ہے جس کے نفاذ سے زمینی سطح پر الجھنیں بڑھیں گی؟
بہت سے گھروں میں موبائل فون کی دستیابی محدود ہوتی ہے۔ اگر کسی گھر میں صرف ایک اسمارٹ فون ہے اور بچے دو یا تین ہوں، تو تمام بچوں کے لیے بیک وقت آن لائن کلاس لینا عملاً ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، والدین کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ بچے موبائل فون کو آن لائن تعلیم کے بہانے استعمال کرکے غیر ضروری اور نقصان دہ مواد تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اکثر اوقات یہ جانچنا بھی ممکن نہیں ہوتا کہ بچہ پڑھ رہا ہے یا سوشل میڈیا پر مصروف ہے۔
یہ صورتحال والدین کے لیے ایک نیا چیلنج بن گئی ہے کہ وہ کس طرح اپنے بچوں پر نگرانی رکھیں اور کیسے یہ یقین کریں کہ ان کا بچہ تعلیم کے نام پر ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا شکار نہ ہو رہا ہو۔ اس کے علاوہ، آن لائن تعلیم کے لیے مستحکم انٹرنیٹ کنکشن، چارجنگ کی سہولیات اور ایک پُرسکون ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو ہر گھر میں میسر نہیں ہوتا۔
وزارتِ تعلیم کو اس فیصلے پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آن لائن تعلیم دینا ناگزیر ہے تو اس کے لیے متبادل طریقے اپنائے جائیں، مثلاً اسکولوں میں شام کی کلاسز یا مخصوص مضامین کی ریکارڈنگز، جو والدین کی نگرانی میں دیکھی جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کی تربیت بھی ضروری ہے تاکہ وہ بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر بہتر انداز میں نظر رکھ سکیں۔
تعلیم ہماری آئندہ نسلوں کا بنیادی حق ہے، مگر اس حق کی فراہمی اس طرح ہونی چاہیے کہ وہ بچوں کی فطرت، گھریلو حالات، اور والدین کی استطاعت سے مطابقت رکھتی ہو۔ بصورت دیگر، ہم تعلیم کے نام پر بچوں کو موبائل کی لت میں دھکیلنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں، جس کے اثرات آنے والی نسلوں پر نہایت مہلک ہوں گے۔اور کل کو والدین یپ کہنے لگیں کہ ہمارے بچے موبائل فون کے عادی ہوگئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں