جموں و کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، جہاں ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہوچکی ہیں اور بے شمار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ ان متاثرہ کنبوں کے دکھ، تکلیف اور بے بسی کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، لیکن جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایک ایسا اقدام اٹھایا ہے جو نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ وقت کی اہم ضرورت بھی تھی۔ انہوں نے دہشت گردی سے متاثرہ کنبوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک مخصوص ویب پورٹل کا افتتاح کیا ہے، جو ایک شفاف، موثر اور براہِ راست رابطے کا ذریعہ فراہم کرے گا۔یہ پورٹل متاثرہ خاندانوں کو اپنی شکایات، درخواستیں اور دیگر ضروری معلومات ڈیجیٹل طریقے سے حکام تک پہنچانے کا موقع دے گا۔ ماضی میں، متاثرین کو سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے تھے، فائلوں میں ان کی آواز دب جاتی تھی، اور امداد کے لیے سالوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اس ڈیجیٹل قدم سے نہ صرف کارروائی تیز ہوگی بلکہ شفافیت اور جوابدہی کو بھی فروغ ملے گا۔لیفٹیننٹ گورنر کا یہ قدم انتظامیہ کے اس عزم کا عکاس ہے کہ وہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو بھولے نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسا پیغام بھی ہے جو دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ ان متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد، تعلیم، نوکری، علاج و معالجے، اور دیگر سماجی تحفظات کی جو ضرورت ہے، اس پورٹل کے ذریعے ان تک پہنچنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔جموں و کشمیر میں بہت سے بچے اپنے والدین سے محروم ہوچکے ہیں، خواتین بیوگی کی چادر اوڑھ چکی ہیں، اور معمر افراد کفیل سے محروم ہو کر تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ریاستی حکومت ان کے لیے امید کی کرن بنتی ہے، تو یہ معاشرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف ہے۔ اس پورٹل کے ذریعے متاثرہ خاندانوں کی نہ صرف فوری امداد ممکن ہو سکے گی بلکہ ان کی بازآبادکاری کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ویب پورٹل محض ایک نمائشی اقدام نہ بنے بلکہ اس پر موصول ہونے والی درخواستوں پر فوری اور سنجیدہ عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی، عوام میں اس کے بارے میں شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ متاثرہ خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا یہ قدم ایک نئی شروعات ہے۔ یہ صرف ایک پورٹل نہیں بلکہ انصاف، ہمدردی اور فلاحی حکمرانی کی سمت ایک مضبوط قدم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ اقدام دیگر ریاستوں کے لیے بھی ایک نمونہ بنے گا اور دہشت گردی کے متاثرین کو وہ سہارا دے گا جس کے وہ برسوں سے منتظر تھے۔
0
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل
