ڈاکٹر نذیر مشتاق
مریض اپنی ساس اور سسر کے ساتھ میرے چیمبر میں داخل ہوا۔۔۔ساس قد بلند موٹی تازہ عورت تھی ظاہری طور لگ بھگ ساٹھ سال کی ہوگی۔۔۔اس کا شوہر ہڑیوں کا ڈھانچہ لگ رہا تھا۔۔۔ان کی بہو ظریفہ (نام نسخے پر لکھا تھا) بہت خوب صورت اور جوان تھی۔۔۔وہ کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔میں خاموش تھا باہر ویٹنگ روم میں مریض کھسر پھسر کر رہے تھے جو میں آسانی سے سن رہا تھا کیونکہ میرے چیمبر اور ویٹنگ روم کی لکڑی کی دیوار کا اوپر والا حصہ خالی تھا
اچانک موٹی عورت کی بھاری آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔۔
ڈاکٹر صاحب ذرا میری اس بہو کو دیکھ لیں اسے کون سی بیماری ہے۔۔۔۔جب سے میرے گھر آئی ہے تب سے بیمار ہی رہتی ہے ۔۔۔۔۔میں نے ظریفہ سے پوچھا۔۔۔۔بولو کیا بات ہے۔۔۔اس نے ساس اور سسر کی طرف دیکھا۔۔۔۔میں نے ان دونوں سے کہا کہ وہ باہر ویٹنگ روم میں بیٹھیں۔۔۔۔۔۔۔وہ دونوں باہر چلے گئے۔
ظریفہ نے کہنا شروع کیا۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب کسی کام میں دل نہیں لگتا ہے ۔نیند بالکل نہیں آتی ہے۔۔۔ہر وقت رونے کو جی چاہتا ہے۔۔۔۔بھوک تو لگتی ہی نہیں۔۔۔۔غصہ بہت زیادہ آتا ہے اور کوئی خوشی محسوس نہیں ہوتی ہے ہر وقت اداس رہتی ہوں۔
میں نے اس کا معاینہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ ڈیپریشن میں مبتلا ہے میں نے اسے بیماری کے متعلق سب کچھ سمجھا دیا اور نسخے پر دو دوائیاں لکھ کر نسخہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا اور کہا۔۔۔تین ہفتے یہ دوائیاں کھالو پھر آنا شاید کچھ ٹیسٹ بھی کرنے پڑیں گے۔۔۔۔۔۔وہ میرا شکریہ ادا کرکے چلی گئی۔۔۔۔۔دوسرا مریض داخل ہوا۔۔میں میز پر پڑے کافی کا کپ اٹھاکر چسکیاں لینے لگا ۔۔۔اچانک میرے کانوں سے آواز ٹکرائی۔۔۔۔۔۔ظریفہ کی ساس اسے طعنے دے رہی تھی۔۔۔۔دیکھا کوئی بیماری نہیں ہے تم کو۔۔۔۔نہ کوئی ٹیسٹ نہ ایکسرے اور پھر صرف دو دوایاں ۔۔ نوے روپے کی۔۔کون سی بیماری ہے تمہیں۔۔تم در اصل ہمارے گھر کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتی ہو۔۔تم الگ گھر بسانا چاہتی ہو۔۔تمہیں میں ڈاین نظر آتی ہوں مجھے سب معلوم ہے تم نے میرے بیٹے پر جادو بھی کیا مگر میں نے فوری طور اس کا توڑ کیا اور تمہاری سازش کو ناکام کیا میرا پیر تیرے پیر کا باپ ہے سمجھی۔۔۔چل اب گھر اور سارے کام کر۔۔۔۔۔اس کے بعد میں نے کچھ نہیں سنا ۔میرے سامنے بیٹھے مریض کے لبوں پر عجیب مسکراہٹ تھی
اس نے اپنی روداد بیان کی تو میں نے اس کے لیے کچھ ٹیسٹ تجویز کیے اور وہ چلا گیا۔۔۔۔۔اس کے بعد میں دیر تک مریضوں کا معائنہ کرتا رہا اور چار بجے اپنی کرسی سے اٹھ کر اپنے چیمبر سے باہر آیا۔۔۔۔۔کار ڈرائیو کرتے وقت میرے کانوں میں ظریفہ کی ساس کے الفاظ گونج رہے تھے۔۔۔گھر پہنچ کر میری بیوی نے میرا استقبال کیا اور میری پھول سی بیٹی مجھ سے لپٹ گئی اور میں سب کچھ بھول گیا۔۔۔۔۔
اس روز میں اپنے چیمبر میں مریضوں کا معائنہ کر رہا تھا ایک مریض باہر گیا کہ اچانک ایک عورت ہانپتی ہوئی اندر داخل ہوئی میں نے اسے فوراً پہچان لیا وہ ظریفہ تھی اس کی سانسیں اکھڑی ہوئی تھیں۔۔۔اس نے ہانپتے ہوئے مجھ سے کہا۔۔۔ڈاکٹر صاحب میری ساس آرہی ہے آج میرے لیئے مہنگی دوایاں لکھنا اور بہت سارے ٹیسٹ بھی لکھنا تیس چالیس ہزار روپے کا خرچہ ہونا چاہیے تاکہ میری ساس سمجھ لے کہ مجھے کوئی بہت بڑی اور خطرناک بیماری ہے۔۔۔۔یہ کہہ کر وہ باہر ویٹنگ روم میں گئی۔۔۔۔میں حیران و پریشاں دروازے کو تکتا رہا۔۔۔۔۔چار مریضوں کے بعد ظریفہ اور اسکی ساس چیمبر میں داخل ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔ کچھ افاقہ ہوا میں نے مریض سے پوچھا مگر جواب اس کی ساس نے دیا۔۔۔نہیں ڈاکٹر صاحب کوئی فرق نہیں ۔میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ اسے کون سی بیماری ہے۔۔۔۔۔۔۔اپ گھبرائے مت آج میں تفصیل سے اس کا معائنہ کروں گا۔۔۔۔میں نے مریضہ کے منہ میں تھرمامیٹر ڈالا اور اس کی ساس کو دیکھنے لگا۔۔۔وہ شکل وصورت سے بڑی چالو اور خطرناک عورت لگتی تھی ۔۔۔۔۔ تھرمامیٹر اس کے منہ سے نکال کر میں نے اس کا بلڈ پریشر چیک کیا پھر اسٹیتھوسکوپ سے اسکے دل کی دھڑکنیں سنیں اور چھاتی کا بھی معائنہ کیا۔
پھر بیڈ پر لٹاکر اس کے پیٹ اور ٹانگوں کا معائنہ کیا سارے ریفلیکسس چیک کیے۔مگر کہیں کسی بیماری کا کلیو نہیں ملا۔
میں نے اسے دوبارہ کرسی پر بیٹھ جانے کےلئے کہا۔۔۔۔۔۔۔میں نے قلم ہاتھ میں اٹھایا اور سوچا کہ ظریفہ نے جو کچھ کہا اس پر عمل کروں مگر غلط نسخہ اور ایکسٹرا دوایاں لکھنا ڈاکٹر ی اصولوں کے خلاف ہے۔۔۔جھوٹ بولنا اور لکھ کر دینا گناہ ہے کوئی بھی مذہب جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور پھر میں نے اپنی پریکٹس کے دوران کبھی غلط نسخہ نہیں لکھا ہے۔۔۔۔ مگر مجھے رہ رہ کے ظریفہ کا خیال آرہا تھا۔ وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہے اسے میری مدد کی ضرورت ہے۔۔۔
اچانک میری نظر میز پر پڑے ہوئے opthalmascopeپرپڑی
میں نے اسے اٹھایا اور ظریفہ کی آنکھوں کا معائنہ کرنے لگا میں نے اس کی دونوں آنکھوں کا غور سے معائنہ کیا مگر کچھ بھی نظر نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔موٹی عورت اب بور ہو چکی تھی۔اس نے پوچھا۔۔۔انکھوں کی کوئی بیماری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اچانک میرے منہ سے نکلا ہاں اس کی دائیں آنکھ کے اندر ایک ٹیومر ہے جو ابھی بہت چھوٹا ہے مگر وہ بڑھ سکتا ہے۔۔ٹیومر ابھی پہلے اسٹیج پر ہے دوا دعا اور پرہیز سے ٹھیک ہو سکتا ہے۔۔۔ آپریشن بھی ہو سکتا ہے مگر دہلی جاکر کروانا پڑے گا خرچہ دو لاکھ روپے ہوگا۔۔۔ یہ سن کر موٹی عورت گرنے ہی والی تھی کہ اس کے سوکھے مریل شوہر نے اسے سنبھالا۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب آپ ہی علاج کریں جو کچھ آپ کہیں گے ہم وہی کریں گے۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس مریض کو کسی بھی قسم کی پریشانی نہیں ہونی چاہئے کوئی ٹینشن نہیں یہ اپنی مرضی سے کام کرے گی اور اگر اس سے کوئی غلطی ہو تو کوئی اسے ڈانٹے گا نہیں۔۔۔۔ ساس نے کہا۔۔ ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب میں اپنے ہونٹ سی لوں گی آج سے اسے کچھ نہیں کہوں گی۔۔۔۔۔ بالکل ٹھیک۔۔۔میں نے کہا۔۔ اور اسے دن میں تین بار تازہ میوہ کھانا ہے خشک میوے دن میں دو بار۔۔۔جو بھی سبزیاں بازار میں دستیاب ہیں ان کا سلاد بنا کر دن میں دو بار۔۔۔۔گوشت ،چکن ،انڈے،مچھلی پنیر ہر قسم کی دالیں اس کی صحت کےلئے بہت ضروری ہے۔۔۔۔ اور ہاں کسی اور ڈاکٹر کو نہیں دکھانا وہ آپریشن کر کے دو تین لاکھ روپے ہڑپ کرے گا۔ بس وہی کرو جو میں نے کہا۔ اس کے بعد میں نے نسخہ پر وہی دوایاں لکھ دیں جو پہلے لکھی تھیں صرف مریض کے لیے کچھ ٹیسٹ تجویز کیے۔۔۔۔۔ ظریفہ خاموش مگر خوش تھی اور اس کی ساس کا چہرہ بجھا بجھا سا تھا۔۔۔۔۔ وہ جانے لگے تو میں نے کہا۔۔۔۔۔ دیکھو جو کچھ میں نے کہا اس پر سختی سے عمل کرنا ورنہ ان کی آنکھ کا ٹیومر پھٹ بھی سکتا ہے اور پھر آپریشن جس کے لیے دو تین لاکھ خرچ ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ ساس نے بجھے بجھے لہجے میں کہا۔ میں وہی کروں گی جو آپ نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تینوں چلے گئے اور میں سوچنے لگا کہ آج پہلی بار میں نے جھوٹ بولا مگر اس جھوٹ کے پیچھے جو سچ تھا وہ سوچ کر میں مسکرایا اور اپنے آپ سے کہا۔نو پرابلم ڈاکٹر۔۔۔جھوٹ تو تم نے بولا مگر اس جھوٹ کے پیچھے ایک سچ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی کی بھلائی ہے۔۔۔۔۔
