روبی نسا
آ میری نظم میں تجھے
دولہن بنادوں گی
حرف سے حرف جوڑ کر
ندی سے سمندر بنادوں گی
میں تیری مدھم روشنی کو
کن فیکنُ کہہ کر
یوں نوُ ر میں نہلا دوں گی
وقت کو ششدر بنادوں گی
توں یوں ہی گوشہ گزیں ہوکر
ضرب سے ضرب ملایا کر
وقت کج روش کی فکر نہ کر
میں تجھے معتبر بنا دوں گی
سُن تیرے حُسن ظُن سے
میری دوستی مستحکم ہے
تو میری حسرتیں پوری کر
میں تجھے دختر بنادوں گی
تو مجھے باجی کہا کرنا
میں تجھے آپی کہہ دوں گی
تو مجھے صلاح دیا کرنا
میں تجھے افسر بنادوں گی
میں جب پردہ پوش ہو جاوں
میری لحد کھودی جائے گی
تو میری سنگ تُربت پہ لکھ جانا
میں تجھے ہمسفر بنادوں گی
