نام تصنیف ۔۔اقبالؒ کی شاعری کے تخلیقی و فکری زاویے 80

مجھے اب ڈر نہیں لگتا

سبزار احمد بٹ۔۔۔اویل نورآباد

مجھے اب ڈر نہیں لگتا
یہ اپنا سر نہیں لگتا
کچھ بھی بول لیتی ہوں
کبھی نہ تول لیتی ہوں
بہت خاموش رہتی تھی
کوئی بھی ظلم سہتی تھی
تیرا میں مان رکھتی تھی
میں حاضر جان رکھتی تھی
تیرے ہر حکم پر میں تو
نچھاور جان کرتی تھی
تیرے قدموں کی آہٹ کو
میں منزل جو سمجھتی تھی
کبھی تم روٹھ جاتے گر
میں فوراً ہی مناتی تھی
شکن ماتھے پہ گر ہوتی
میں فوراً ہی ہنساتی تھی
مگر حد سے جو گزرے تم!!
باندی جو مجھے سمجھا
ذرا سی بات پر تم نے
مجھے دھتکار جو ڈالا
سرِ بازار تم نے تو
میری عزت اچھالی جو
کبھی تم نے نہیں سمجھا
کسی کی میں بھی بیٹی ہوں
شرافت میں نے بھی چھوڑی
میرے بھی پر نکل آئے
تیرا اب مان نہیں مجھ میں
صرف اپمان باقی ہے
کر لو جو بھی کرنا ہے
مجھے اب ڈر نہیں لگتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں