خلوص کو سدا اپنے سبھاؤ میں رکھنا 75

خلوص کو سدا اپنے سبھاؤ میں رکھنا

غزل

گل گلشن ۔۔۔۔ ممبئی

خلوص کو سدا اپنے سبھاؤ میں رکھنا
کہ اپنے لہجے کو ہر دم جھکاؤ میں رکھنا
یونہی نوازتے رہنا وصال سے اپنے
کبھی نہ ہجر کے ہم کو الاؤ میں رکھنا
بھی کناروں پہ لے آنا اس کو اے ہمدم
بھی تو اپنی یہ کشتی بہاؤ میں رکھنا
بھی بھی تو نہ تکبر کی راہ پر چلنا
کہ عاجزی ہی فقط رکھ رکھاؤ میں رکھنا
بڑے دکھوں سے گزر کر خوشی تک آئی ہو
دماغ اپنا نہ “گل” تم تناؤ میں رکھنا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں