غزل
منظر زیدی، لکھنو ٔ
قصور آنکھ کا تیری ہے اور نہ دل کا قصور
نظر کے پھیر میں اے دوست مصلحت ہے ضرور
نظر جو پھیر کے سر کو اٹھا کے چلتے ہیں
زمانہ آج بھی کہتا ہے انہیں کو مغرور
بس انکے واسطے دنیا میں امن ہے باقی
سماعت اور بصارت سے ہیں جو کوسوںد ُور
یہ سوچکر کوئی شاعر نہ خود کشی کر لے
کہ بعد مرنے کے ہو جائیگا بہت مشہور
نہ جس کی صبح ہے اپنی نہ شام اپنی ہے
عجیب کرب کا عنواں ہے آج کا مزدور
کسی کا آج سنوار و کسی کا کل منظر ؔ
جوچاہتے ہو حقیقت میں زندگی کا سرور
