اس جہاں میں جانے کتنے آدمی کے چہرے ہیں 81

دوست……………………کہانی پرویز مانوس

گوشہ اطفال

نوٹ :- پرویز مانوس جموں کشمیر کے معتبر شاعر، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اور ترجمہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کے لئے بھی کافی ادب لکھ چکے ہیں ،اس وقت تک وہ مختلف اصناف میں بیس سے زیادہ کُتب لکھ چکے ہیں، انہیں بہترین ادب تخلیق کرنے کے عوض چار مرتبہ سرکاری اعزازات سے بھی نوازہ جا چکا ہے اس کے علاوہ کئی غیر سرکاری اداروں کی طرف سے اعزازات سے نوازا گیا ہے، وہ جموں کشمیر میں واحد ادبی تنظیم “کاروانِ شعرائے اردو” کے سرپرست اعلی بھی ہیں، آج کے شمارے میں بچوں کے لئے پیش ہے ان کی لکھی کہانی _۔۔۔۔

 

دوست……………………کہانی پرویز مانوس

شوکت اور حمید دونوں پکے دوست تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ شوکت کا باپ ایک سرکاری دفتر میں کلرک تھا اور حمید کا باپ زمیندار کا نصیب لے کر پیدا ہوا تھا۔ دونوں کے مکان بھی پاس میں ہی تھے۔ شوکت ایک اچھے اسکول میں پڑھتا تھا جبکہ حمید کو باپ نے چوتھی جماعت میں سے یہ کہہ کر موڑ لیا تھا کہ ہمارے پاس اتنا گزارہ نہیں ہے کہ اُس کی کتابیں، کاپیاں وردی اور فیس کا بوجھ برداشت کر سکیں یہ سن کر شوکت کو بہت دکھ پہنچا لیکن کوئی کسی کو اپنا مقدر تو نہیں دے سکتا ہے۔
حمید صبح سویرے ہی ہل اور بیل لے کر اپنے باپ کے ساتھ کھیتوں میں چلا جاتا لیکن شام کو پھر دونوں دوست چھپا چھپی اور گلی ڈنڈا کھیلتے دکھائی دیتے ۔ ایک دن شوکت نے اپنے باپ سے کہا کہ وہ دینو چاچا سے کہے کہ حمید کو اسکول بھیجیں۔ اُس کا سارا تعلیمی خرچہ ہم برداشت کریں گے۔ شوکت کے باپ نے کہا ’’ بیٹا یہ تو اچھی بات ہے لیکن میری بات سن کر کہیں وہ ہتک نہ محسوس کرے۔ وہ زمیندار ہی سہی مگر غریب کو اپنی انا کچھ زیادہ ہی پیاری ہوتی ہے۔ بیٹا میری بات مانو حمید کو اپنی قسمت پر چھوڑ دو…‘‘
دن گزرتے گئے اور شوکت کے امتحان کا نتیجہ نکلا۔ وہ پاس ہو کر پانچویں جماعت میں پہنچ گیا تھا۔ وہ یہ خوشخبری سب سے پہلے حمید کو سنانا چاہتا تھا۔ وہ اسکول سے سیدھا حمید کے گھر گیا ،وہاں اُس کی ماں نے اُسے بتایا کہ شوکت اپنیننّھیا ل گیا ہوا ہے، شوکت نے پوچھا کہ وہ کب گیا تو حمید کی ماں نے بتایا کہ اُس کو تو ایک ہفتہ ہو گیا ہے۔ شوکت حیران ہو کر بولا’’لیکن پہلے دن تو میرے ساتھ تھا اُ،س نے مجھے کچھ نہیںبتایا‘‘ اُس کی ماںتھوک نگلتے ہوئے بولی ’’ اُس کا ماموں آیا تھا ،وہی حمید کو اپنے ساتھ لے گیا ‘‘ اُس کی ماں کی باتوں سے شوکت کو محسوس ہوا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ شوکت نے پھر پوچھا ’’ وہ واپس کب آئے گا‘‘ حمید کی ماں نے جواب دیا اگراُس کا دل وہاں لگ گیا تو وہ وہیں رہے گا‘‘ لیکن شوکت اُس کی رگ رگ سے واقف تھا ،وہ سوچنے لگا کہ حمید تو کبھی بھی ایک دن سے زیادہ ننّھیال میں نہیں ٹھہرتا پھر آج؟ شوکت سمجھ گیا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے وہ کہنے لگا ’’ میں نے سوچا تھا کہ اُس کو یہ خوشخبری سنائوں کہ میں پاس ہو کے پانچویں جماعت میں آگیا ہوں‘‘
شوکت کی سمجھ میں کچھ نہ آیا تو وہ سیدھا اپنے گھر لوٹ گیا… رات آدھی سے زیادہ بیت چُکی تھی، اُس کے والدین گہری نیند میں سو رہے تھے لیکن وہ جاگ کر سوچتا رہا کہ آخر مجھے بتائے بغیر وہ کہاں چلا گیا؟
ایک ہفتہ… دو ہفتے پھر ایک مہینہ گزر گیا ۔۔۔لیکن حمید نہیں لوٹا۔ شوکت بھی اب اُداس اُداس رہنے لگا۔
ایک روز شوکت چھٹی کے بعد گھر کی جانب لوٹ رہا تھا کہ اچانک بارش شروع ہو گئی۔ اس کے پاس چھاتا بھی نہیں تھا ،اسی لئے وہ کبھی ایک مکان کے چھجے کے نیچے کھڑا رہتا تو کبھی دوسرے کے ۔ آہستہ آہستہ وہ حمید کے گھر کے قریب پہنچ گیا۔ اُس نے سوچا تھوڑی دیر وہ حمید کے گھرپر ٹھہر جائے گا، جب تک بارش بھی بند ہو جائے گی اُس نے دروازہ کھٹکھانے کے لئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اندر سے باتوں کی آواز آئی۔ وہ ٹھہر گیا…حمید کا باپ اُس کی ماں سے کہہ رہا تھا ’’ آج تو چپ چاپ کیوں ہے، کیابات ہے؟‘‘ حمید کی ماں نے آہ بھرتے ہوئے کہا ’’بس حمید کی یاد ستا رہی ہے، اُس کے بارے میں سوچ رہی ہوں‘‘ یہ دیکھو اُس کا بیگ… اس کی کتابیں… اُس کی تختی… ‘‘سسکیاں لیتے ہوئے اس کے آنسو نکل آئے۔ حمید کے باپ نے اُس کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا ’’ تو نے کیا بے وقوفوں کی طرح رونا شروع کر دیا؟ بس چھ ماہ کی تو بات ہے، بیساکھ کے مہینے میں حمید لوٹ آئے گا‘‘ حمید کی ماں روتی ہوئی بولی ’’ اگر میں روئوں بھی نہ تو میرا جگر اندر سے پھٹ جائے گا، ایک ماں کا درد تم کیا جانو؟‘‘ تم تو مرد ہونا…! نو مہینے میں نے اُسے اپنے بطن میں رکھا ہے… اُس کا پیشاب اور پاخانہ صاف کیا ،ان ہاتھوں سے پالا پوسا اور بڑا کیا۔ میراایک میرا بچّہ تھا، اس کو بھی تم نے میری نظروں سے دُور کر دیا…‘‘
’’اری خدا کی بندی! سرپنچ حمید کو ایسے ہی تھوڑا لے گیا ہے چھ من مکئی پیشگی دی ہے اُس نے، ساتھ میں اُس کو روٹی کپڑا بھی دے گا ‘‘
’’میرا پھول جیسا نازک بچّہ، تم نے چوتھی جماعت سے ہٹا کر کام پر لگا دیا۔ سر پنچ اس سے چار گنا کام کراتا ہوگا۔ اس کی سسکیاں صاف سُنائی دے رہی ہیں ‘‘یہ باتیں سن کر شوکت کا دماغ ہل گیا۔ سارا معاملہ اس کی سمجھ میں آگیا۔ اس کو فوراً یاد آیا کہ ایک دن ماسٹر جی کہہ رہے تھے کہ ملک میں ایک ایسا قانون نافذ ہے، جس کے تحت چودہ سال سے کم عمر کے بچّوں سے مشقتکرانا جُرم ہے، وہ وہاں سے الٹے پائوں اسکول لوٹ آیا۔ ماسٹر جی اسکول سے نکل رہے تھے۔ شوکت نے ماسٹر صاحب سے کہا ’’ماسٹر جی! حمید کے گھر والوں نے اُسے سر پنچ کے گھر میں چھ من مکئی کے بدلے نوکر رکھا ہوا ہے‘‘ ماسٹر کہنے لگے ’’ لیکن یہ تو جُرم ہے۔ اُس پر نوکر رکھنے والے کو بھی سزا ہو سکتی ہے‘‘ شوکت فوراً بولا ’’ ماسٹر جی کچھ کیجئے! ہمیں کسی بھی قیمت پر حمید کو سر پنچ کے چنگل سے چھڑانا ہے‘‘ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد ماسٹر جی نے کہا ’’ شوکت ہم تو حمید کی مدد کرتے لیکن ہمیں سر پنچ کا گھر معلوم نہیں ہے شوکت فوراً بول پڑا’’ماسٹر جی! آپ اُس کی فکر نہ کریں، میں سر پنچ کا گھر جانتا ہوں‘‘ماسٹر جی بولے ’’ تو پھر ٹھیک ہے چلو میرے ساتھ‘‘
شوکت اور ماسٹر جی پہلے پولیس چوکی گئے، جہاںانہوں نے چوکی افسر کو ساری بات بتائی اور کہا کہ وہ قانون کو عملانے میں مدد کریں چوکی افسر دو پولیس والوں سمیت ماسٹر اور شوکت کو لے کر سر پنچ کے گھر پہنچا۔ سر پنچ پولیس والوں کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا اور بولا ’’ ہاں جناب کیسے آنا ہوا؟‘‘ چوکی افسر نے کہا ’’ آپ کو چوکی چلنا ہوگا ‘‘ ’’لیکن میرا قصور کیا ہے؟ ‘‘آپ کے خلاف درخواست آئی ہے کہ آپ نے اپنے گھر میں ایک ایسے کمسن بچّے کو کام پر رکھا ہواہے، جس کی عمر چودہ سال سے کم ہے۔ آپ کو پتہ ہے کہ یہ ایک مجرمانہ فعل ہے جس کے لئے آپ کو سزا بھی ہوتی ہے‘‘ سر پنچ کڑک کر بولا،،میں نے اُسے کوئی بلا کر نہیں لایا،اُس کے باپ نے مجھ سے چھ من مکئی پیشگی لی ہے‘‘
’’آپ کو جو کچھ کہنا ہے، چوکی چل کر کہنا‘‘پولیس والے نے ڈنڈا دکھاتے ہوئے کہا’’ بلائو حمید کو کہاں ہے وہ؟‘‘ سر پنچ کانپتے ہوئے بولا ’’ وہ گئو خانے کے پیچھے لکڑیاں کاٹ رہا ہے‘‘ یہ سنتے ہی شوکت جھٹ پٹ اس کے پاس پہنچ گیا، اس نے دیکھا کہ حمید کا سارا جسم پسینے سے بھیگا ہوا ہے، وہ ایک پیڑ کے بڑے تنے سے لڑ رہا تھا شوکت نے اُسے زور سے آواز لگائی…’’ حمید…‘‘ حمید بھی کلہاڑا چھوڑ کر شوکت کی طرف دوڑا اور اُس کے گلے لگ گیا’’ میرے دوست! یہ تمہاری کیا حالت ہو گئی ہے؟ بس اب میں تجھے یہاں نہیں رہنے دوں گا‘‘ شوکت نے حمید کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا’’ لیکن چھ من مکئی کا کیا ہوگا؟‘‘ سرپنچ نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا ’’ وہ تم جیل میں پیسنا‘‘ پولیس والے نے اُس کو بازؤں سے کھینچتے ہوئے کہا۔ پولیس والے سر پنچ کواپنے ساتھ چوکی لے گئے ۔ ماسٹر اور شوکت حمید کو لے کر گھر پہنچ گئے’’ یہ لو اپنا لڑکا سنبھالو! ‘‘ماسٹر نے حمید کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا’’ہیں؟ میرا بچّہ آگیا؟ ‘‘حمید کی ماں اُسے دیکھ کر حیرانگی سے بولی،،
آپ کو معلوم نہیں کہ حکومت نے بچّوں کے حقوق کے لئے قانون بنایا ہے کہ جو بھی چودہ سال سے کم عمر کے بچوں سے محنت مزدوری کروائے گا، وہ سزا کا حقدار ہوگا۔ ساتھ میں بچّے کو بھیجنے والے کو بھی سزا ہو سکتی ہے یہ بچّے تو قوم کا مستقبل ہیں…‘‘ ماسٹر جی نے حمید کے باپ کو سمجھایا ۔حمید کا باپ دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے کہنے لگا ’’ ماسٹر جی! آپ نے ہماری آنکھیں کھول دیں لیکن کیا کریں یہ غربت سارا کچھ کرواتی ہے‘‘ حمید کی ماں اُس کو سینے سے لگائے رکھا پھر وہ ماسٹر سے کہنے لگی ’’ماسٹر جی! آپ کا بہت بہت شکریہ! ‘‘ماسٹر بولا ’’ بہن جی! یہ سارا کمال تو شوکت کا ہے ،جس نے ادھر سے گزرتے ہوئے آپ کی باتیں سن لیں اور دوڑتے ہوئے میرے پاس آگیا۔’’ شاباش شوکت! واقعی دوست ہو تو تمہارے جیسا ، تم نے دوستی کی لاج رکھی ،ایک دن ضرور تو اپنے والدین کا نام روشن کرے گا ۔۔۔ اچھا مجھے اجازت دیجئے ‘‘کہہ کر ماسٹر وہاں سے چلا گیا۔ حمید کی ماں بہت خوش تھی کہ اُس کا بچّہ لوٹ آیا۔ اُس نے حمید اور شوکت کے برتنوں میں کھانا پروسا۔ شوکت اور حمید نے کافی دنوں کے بعد ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔
�����
نصیحت:۔ پیارے بچّوں! دوست وہی ہوتا ہے جو دُکھ سُکھ میں کام آئے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں