ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
میری لگاتار چھینکوں کی ناپسندیدہ آواز سن کر میری بیگم نے کہا ’’ضرور آپ کو کوئی یاد کررہاہے ‘‘
ایسا نہیں مانتا ۔ یہ تو ہم پرستی ہے۔
میری چھینکیں واقعی بہت شدید تھی ، میرا منہ لال ہوگیا۔آنکھوں سے پانی رواں ہوا۔
بیگم نے کہا۔ کرو ذرا پتہ اپنے بھائی بہنوں سے ۔ آپ کو خود معلوم ہوجائے گا کہ کون یاد کررہاہے۔
بیگم کا دل رکھنے کے لئے میں نے اُن سے معلوم کیا ،سبھوں نے نفی میں جواب دیا بلکہ انہوں نے اُدھر سے پوچھا کہ ایسا میں کیوں پوچھ رہا ہوں ۔
یوں ہی کہہ کر میں نے بات ٹال دی۔
اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔
ہیلو۔ کون؟
میں ڈاکٹر بختیار ہوں۔
اور آپ کون ہیں؟
میں سمرن کور ہوں۔
حرام زادے، کتُے ، کمینے،دھوکہ باز………
وہ ان جیسے کئی ناشائستہ اور نہ معقول کلمات کی بوچھاڑ کرتی گئیں۔
اور میں خاموشی سے سنتا گیامیں جھٹ سمجھ گیا کہ یہ سمرن ہی ہے ۔
پورے پانچ سال میرے ساتھ عشق کیا ۔وعدہ کئے۔ اپنی نمازوں ۔ قرآنی آیات اور احادیث سے مجھے متاثر کرتے رہے اور پھر جب ہماری ڈاکٹری کے فائنل ایئر کے نتائج نکلے تو تم نے آنکھیں پھیرلیں۔
اس نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ ڈالا۔
کالج کنٹین میں روز اکٹھے کافی پینا۔ ہر اتوار گرین ہوٹل میں ڈنر کھانا۔ بارہ دری گارڈن کی سیر کرنا ۔پنجور باغ اور چنڈی گڑھ کے سیر سپاٹے کرنا ۔تم سب بھول گئے ۔وہ مزید بولتی گئی۔
ذلیل… تو مجھے مل جائے ۔
میں تجھے کچا چباؤں گی ۔ تجھے چیل کوؤں کو کھلا ؤں گی۔
وہ بولتی گئی۔ بولتی گئی……اور میں خاموشی سے سنتا رہا کیونکہ میں اس کی عادات سے پوری واقف تھا۔
اُوہو۔ اب ذرا دم بھی لو ۔ میری بھی سنو ۔
ہاں ،بکو۔ کیا بکناچاہتے ہو ۔اس نے کہا
وہ ایک لمبی سانس لیکر خاموش ہوگئی۔
اب میں نے اپنی صفائی دینا شروع کی۔
آپ کا سچ ہے ۔ میں کب انکار کرتاہوں۔
میں اب بھی اپنے وعدے پر قائم ودائم ہوں۔ میں نے سچ کہا۔
میں تم پر تھوکوں گی بھی نہیں۔ میں تیری شکل بھی نہیں دیکھناچاہتی۔ تو ذلیل ہے ۔ کمینہ ہے ۔
تو مسلمان نہیں۔تو گدھا ہے۔ تم کو کیڑے پڑیں گے جب تو مرے گا۔سمرن پھر بولتی گئی۔
اب خدارا میری بھی سنو۔
جب ہمارے امتحانات ختم ہوگئے ۔ان آفیشلی ہماری کامیابی کا پتہ چلا۔ہم دونوں کامیاب ہوگئے تھے ۔
ادھر ہندو ستان چین کی جنگ زوروںپر تھی۔
میں کسی نہ کسی طرح اپنے گھر جاناچاہتاتھا۔
میں بہت گھبراہٹ میں تھا۔ چاروں طرف بلیک آوٹ تھا۔ہمارا ہوسٹل بھی بند ہوگیا تھا۔ میں کسی طرح سٹیشن پر پہنچا۔ بغیر کچھ کھائے پیئے گاڑی میں بیٹھا ۔ اکیلا تھا ۔ چاروں طرف خوف وہراس کا عالم تھا۔
ایسے حالات میںمیں تجھ سے کہاں اور کیسے ملتا ۔
تمام جانب افراتفری تھی۔گھبراہٹ تھی۔ان حالات کے ہوتے ہوئے میں آپ کے الزامات کو مسترد کرتاہوں۔
میں وعدہ نبھانے کے لئے اب بھی تیار ہوں،اور پوری ایمانداری سے تیار ہوں۔
میری بیوی بہت اچھی ہے ۔ دیندار ہے ۔اس کو میں نے ایک نہیں سو بار کہا ہے کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے عہد وپیماں کئے تھے۔اس کو ہمارے بارے میں سب کچھ معلوم ہے ۔میں اس سے کچھ بھی نہیں چھپاتا۔وہ آپ سے غائبانہ پیار کرتی ہے ۔ عزت کرتی ہے ۔آپ آنے کی تیاری کرو ،ہم دونوں آپ کا بانہیں پھیلاکر استقبال کریں گے ۔بس!اب خوش ہوجاؤ۔
میں نے اپنی بات یہاں ہی ختم کی۔
سمرن کو ذرا سکون ملا اور بولی کی وہ ایک دن AIIMS دہلی میں چیک آپ کے لئے ایک کرسی پر اپنی باری کاانتظار کررہی تھی کہ پاس والی کرسی پر ایک میاں بیوی بھی اپنی باری کا انتظار کررہے تھے ۔ میں ان کے خدوخال اور شکل وصورت سے جھٹ سمجھ گئی کہ یہ لوگ کشمیر کے رہنے والے ہیں ۔ علیک سلیک کے بعد باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ وہ لوگ آپ کو اور آپ کے خاندان کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں نے ان سے آپ کا فون نمبر اور پتہ لیا ۔وہ آپ لوگوں کی بڑی تعریف کرتے تھے ۔
آپ نے شادی کی ہے؟ میں نے پوچھا
نہیں! میں آپ کی یادوں اور وعدوں کے سہارے ابھی تک زندہ ہوں۔آگے کا پتہ نہیںکہ کب بلاوا آجائے ۔سمرن نے جواباً کہا ۔
آپ جلد پروگرام بنا کر میرے یہاں جموںچلے آؤ۔میرا ایڈریس تو آپ نے حاصل کرلیا ہے ۔فون نمبر بھی آپ کے پاس ہے ،اب کوئی دِقّت نہیں ہے۔
نہیں! ایسے نہیں۔پہلے آپ اچھی طرح یقین کرو کہ آپ کی اہلیہ مجھے قبول کرے گی یا نہیں، یہ معمولی مسئلہ نہیں ہے ۔
بات صحیح ہے ۔ مگر مجھے اپنی اہلیہ پر یقین ہے ۔ وہ آپ کودل سے Welcomeکرے گی
ٹھیک ہے ۔ میں پرسوں فلاں ٹرین سے آؤں گی۔ اس نے مجھے اپنے آنے کی تاریخ ، وقت اور ٹرین کانام فون پر بتانے کا کہہ دیا ۔
مگر آپ مجھے کیسے پہچانوگے۔میں نے سمرن کو کہا ۔میرے چہرے پر گھنی داڑھی ہے ، سر پر ٹوپی ہے ، آنکھوں پر عینک ہے ۔ کمر تھوڑی جھکی ہوئی ہے۔ میری شکل اورصورت بالکل ہی بدل چکی ہے ۔
اب سمرن نے بولنا شروع کیاکہ اس کو بلڈپریشر، شوگر کا نقص ہے۔ گھنٹوں میں شدید درد کی وجہ سے چلنے میں بڑی دشواری محسوس ہوتی ہے ۔ عینک بھی استعمال کرتی ہوں ۔ بائیں طرف کے دودانت غائب ہیں۔
سر کے سارے بال سفید ہیں۔ وہ زلفیں کہاں ،جن کے تم دیوانے تھے ۔
آپ کو مجھے پہچاننے میں بڑی مشکل ہوگی۔
میں سمرن کے بتائے ہوئے وقت پر سٹیشن پہنچا۔
کافی کوشش کی کہ کسی طرح اُس کو پہچان سکوںمگر کامیاب نہ ہوا ۔اور پھر بے رنگ لفافے کی طرح گھرلوٹا۔ادھر سمرن بھی کچھ اِسی طرح مجھے پہچاننے میں ناکام ہوئی۔
میں گھر پہنچ کر کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ کسی کے دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔
نوکر نے دروازہ کھولا ۔ بولا کوئی بڑھیا آپ کانا م لیکر آپ سے ملناچاہتی ہے۔
میں سمجھ گیا کہ ہو نہ ہو یہ سمرن ہی ہو۔اس لئے تیز تیز قدموں سے دروازے کے طرف لپکا۔
ارے واہ What a plesasnt and wonderful surprise
جی آیاں نُو۔ میری سمرن خوش آمدید خوش آمدید
میں نے ایک منٹ کے لئے سوچاکہ شاید آپ نے پھر میرے ساتھ دھوکہ کیا۔سمرن بولی
اچھا بیٹھو،آرام کرو ،پانی پیو شربت پیو،گھر میں کوئی نہیں ہے۔بہو بیٹے دفتر سے پانچ بجے آئیں گے ۔ بیگم اپنی ہمشیرہ سے ملنے گئی ہے۔ وہ بھی آتی ہی ہوگی۔
سبھی آپ کا بے صبری سے انتظار کررہے تھے ۔
میں کچھ نہیں لوں گی۔ میں کچھ دیرلیٹ جانا چاہتی ہوں۔ دو دنوں سے خوشی کے مارے نیند نہیں آئی، ٹرین میں بھی ذرا بھر نہ سوسکی۔
ٹھیک ہے۔ لیٹ جاؤ۔ میں آپ کا دروازہ بند کرتا ہوں تب تک سارے گھر والے بھی آئیں گے۔
پھرموجاں ہی موجاں میں نے کہا
چند ہی لمحوں میں سمرن کو گہری نیند پڑ گئی۔ میں نے ڈسٹرب نہ کیا۔
پانچ بجے کے قریب سبھی لوگ آگئے۔ بیگم بھی آگئی سارے لوگ سمرن کی آمد کا سن کرخوش ہوگئے ۔
میں کمرے میں اس کو جگانے کے لئے گیا وہ گہری نیند میں تھی۔میں نے بڑی آوازیں دیں سمر ن !سمرن!!
مگر وہ نہ جاگی۔اس کی نبض دیکھی ، آنکھیں دیکھیںاس کو جھنجھوڑا۔
مگر اس کی روح قفس عنصر ی سے کب کی پرواز کرچکی تھی۔
ہم سبھوں کوبڑا افسوس ہوا۔ سب سے زیادہ افسوس مجھے ہوا۔میں وہیں فرش پر بیٹھ گیا۔ ہاتھ ملتا رہا۔
وہ اتنی دیر بعد ملی تووہ بھی چند لمحوں کے لئے۔
اس کے ہاتھ ایک پرُزہ تھاجس پر لکھا تھا:۔
غم عاشقی تیرا شکریہ ہم کہاں کہاں سے گذر گئے
اور
میاں خوش رہو ہم سفر کرچکے
ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
کریم منزل علامہ اقبال لین نو آباد سنجوان روڈ جموں
موبائل:8825051001 | 9906111091
