مزاجِ خودی ہے زماں رقص میںہے 118

انسانیت کا زوال اسباب اور سدباب

توصیف رضا

9149586636
انسان کو ابھرے ہوے ہزاروں بلکہ لاکھوں کروڑوں سال ہوئے مگر وہ ناسوتی خصائل انسانی وجود سے باہر نہ نکل سکی جس پر فرشتوں نے اعتراض کیا تھا کہ اے باری تعالی اس تخلیق کو آپ اپنا خلیفہ بنا رہے ہو جو جنگ و جدل کرے گا جو فساد کرے گا اور سواے نافرمانی کے کچھ نہ کرے گا تو رب تعالی نے جواب میں فرمایا تھا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے غرض انسان کی تخلیق کے دن سے ہی انسان پر دو موقف پیش ہوئے ہیں ایک فطری اعتبار سے اس کا کثیف ہونا اور دوسری جانب اللہ کا اس کو اشرف المخلوقات کے اعلیٰ درجے پر لا کر اس کا اچھا کہنا۔ تصور دونوں صحيح ہوں یہ ضروری نہیں مگر خدا وندِ کریم کا فرمان بر حق ہے اُس کے صحيح ہونے میں زرہ برابر شک کی گُنجائش نہیں ہے ۔آدم کا جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام ہونے کے باوجود وہاں سے نکلنا اس بات کا اشارہ ہے کہ فطری طور پر انسان غلطیاں کرتا ہے مگر ساڑھے تین سو برس ابوالبشر حضرت آدم علیہ سلام کا اپنی خطا پر مسسل رونا اور معافی طلب کرنا اس بات کی ضمانت ہے کہ تخلیقِ آدم اللہ کی شان کے مُنافی نہیں بلکہ اللہ کی واحدانیت کو پہچھاننے کا سبب ہے ۔ طرضِ حیاتِ آدم کی رہنمائی کے اصول وقتاً فوقتاً نازل ہوتے رہے اور ابن آدم استفادہ حاصل کرتے رہے ۔ چند صدیوں سے انسان اپنی ساری نفسانی خواہشات پوری کرنے میں لگا ہے وہ بھول چکا ہے کہ میں کون ہوں فرشتوں کے مطابق جِس انسان کو اعلیٰ مخلوق کا درجہ ملا ہے وہ شاید اس قابل نہیں سچ ہوتا نظر آرہا ہے انسانی تاریخ بلکل تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے اس کی نفسانی طور پر تین وجوہات بتائی جاتی ہے ایک دنیاوی عیش و عشرت حاصل کرنے کا مادہ، دوسرا نفسانی خواہشات کا زندہ رہنا، اور تیسرا اپنے عروج کے لیے لڑنا۔اور یہ تینوں چیزیں انسان مختلف وصائل سے حاصل کرتا ہے پہلی خواہش پیسے سے حاصل ہوئی جس سے انسان مادیت پرست بنتا گيا اور اس کے پاس احساس کی قدر دیرے دیرے کم ہوتی گئی دوسری خواہش عورت اور اُس کے حُسن سے پوری ہوئی جس سے یہ انسان باقی حیوانوں کی طرح اپنی دنیا محدود کرتا گيا حیا اور بے حیائی کی تميٖز بھول گيا اور اللہ تعالی یا اپنے بنانے والے خالق کے قوانین اور ضوابط بھول گيا اور تیسری خواہش حاصل کردہ یا حاصل شُدہ قوت سے پوری ہوئی انسان مزہبی منافرت، رنگ و نسل، زات پات، اقتدار کی طلب جیسے چیزوں سے ایک دوسرے کے لیے قتل کا باعث بن گيے یہ سب تاریخ میں بھی ہوتا آیا ہے اور آج بھی ہو رہا ہے اپنے ہی بناے ہوے قانون (constitution) کی بنا پر انسان، انسان کا گلا کاٹ رہا ہے؛ اب تو مختلف ضوابط بناے جاتے ہیں انسان دشمنی کے لئےکسی صاحب دل یا صاحب نظر میں کہوں نے کیا خوب بات کہی ہے “دشمن اپنے فریق کے خلاف تین چالیں چلتا ہے: پہلی چال قتل، تاکہ دشمن کا بالکل وجود ہی ختم ہو جائے. اگر یہ نہ ہو سکے تو دوسری چال جلا وطنی کی چلتا ہے تاکہ دشمن اپنے ملک و علاقے سے نکل کر دور چلا جائے اگر یہ بھی نہ ہو پائے تو تیسری چال اقتصادی بائکاٹ کی چلتا ہے تاکہ غربت و مفلسی سے دوچار ہوکر ہمارا غلام بن جائے۔اس پیغام کو اللہ تعالی نے قُران کریم کے زریعے بھی ارشاد فرمایا ہے کیونکہ کفارِ مکہ نے آقا (ﷺ) کے ساتھ جو بدسلوکیاں کی تھیں، وہ بھی انہیں چار چالوں میں سے ہی تھی، قرآنِ مجید ان کے دجل و فریب کا ذکر کچھ اس طرح سے کر رہا ہے “اور، اے محبوب! یاد کرو، جب کافر تمہارے ساتھ دھوکا کرتے تھے، کہ تمہیں ‘بند کر لیں، یا، شہید کر دیں، یا نکال دیں القران 8:30 اب اس کی مثالیں صرف ماضی میں ہی نہیں بلکہ حال میں بھی نظر آتی ہے اصلحے کا بے دریغ استعمال افواج کی معرکہ آرائیاں یا افواج کا باغیوں کے ساتھ تصادم انسانیت کے قتل کی ایک زندہ مثال ہے CAA، NRC جیسے بلوں کے نام ملک بدر کرنے کی سازشیں جلاوطنی کی بہتریں مثال ہے اور ممالک کا کورونا واێریس کے خوف سے اقتسادی بائکاٹ( ECONOMIC BYCOT) یا دوسرے لفظوں میں کہیں ترکِ موالات کی اعلیٰ تريٖن مثال ہے آج کورونا کے قہر سے ساری دنیا لرز اُٹھی لیکن پھر بھی انسان شاید وہ انسانی اوصاف یاد نہیں دلا پایا جس کے لئے اسے اللہ تعالی نے اسے وجود میں لایا تھا اک آہ میرے سینے میں دب کے رہ گئی ہے کہ کہاں ہے وہ انسان جسے طائر لاحوتی اور اشرف المخلوقات خلیف اللہ جیسے عظیم القابات سے تعبیر کیا گيا تھا یا تو انسان کے زہن اور قلب میں یہ بات پیوست نہیں ہوئی کہ انسانی جان قیمتی ہے یا پھر شعوری طور پر انسان ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کا قائل نہیں ہے انسان میں ناسوتیت اور احساسِ عروج دونون جمع ہے احساس روح کے اشارے سے چلتیں ہیں اور ناسوتیت جسم کے بَل پر قائم ہے اگر ناسوتیت غالب ہوتی ہے انسان صرف ذاتی مفادات کا ملحوظ رکھتا ہے جو کی ابلیس کی خصلت ہے اور احساس غالب آجاے تو انسٲنی وَجود کائنات کی ہر شَے پر باعثِ رحمت بنتا ہے امام غزالی نے منھاج العابدین میں جن قلبی امراض کا زکر فرمایا ہے ان میں حسد بھی ایک ہے یہی وہ مرض ہے جو اپنے سوا کسی کو قبول کرنے نہیں دیتا اور انسان کو انسان کا دُشمَن بناتا ہے شاید مولانا روم اسلئے رکم طراز ہوئے کہ( علم را بر تَن زنِ مارے بوَد علم را بر مَن زنِ یارے بُوَد) ترجمہ:اگر علم صرف جسم کے لئے ہو تو ہلاقت ہے اور اگر علم دل کے لئے ہے تو یہ دوستی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے ان حالات پر شاید عبدل احد آزاد کا یہ شعر صادق آتا ہے
ژٕ اوسُکھ گاٹجارُک نور انسانو
کٔرتھ انسانیت بدنام ہا بے آر انسانو ‌
اگر ان مسائل کا کوئی ڈھونڈ رہا ہے تو لازم ہے کہ وہ انسانی تاریخ کے اوراق کی گردانی کرے تاکہ جان سکے مقصد اور انسانی وجود کی ضرورت تب ضرور یہ ممکن ہے کہ وہ کی ہوئی غلطیوں سے اجتناب کرے گا اور اپنے اصل مقام کو ڈھونڈ پاے گا آج کے دور میں ضروری ہے کہ ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک دنیا کے امن اور سلامتی کا بیڑھا اُٹھایں اور اس پر مصدقہ دل سے کام کریں اگر ایسا نہ ہوا تو وہ دن دور نہیں جب انسان کے پاس افسوس کے سوا کچھ نہ ہوگا ہم اللہ کی عظیم مخلوق ہے مزہبی، تارئخی اور سماجی اعتبار سے یہ سمجھنا بھی لازم ہے تاکہِ فرشتوں کا کیا ہوا گمان، گمان ہی رہے اور حقیقت میں تبدیل نہ ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں