کاروان شعرائے اردو کاہفت روزہ ندائے کشمیر کے اشتراک سے آن لائن مشاعرے کا انعقاد 104

کاروان شعرائے اردو کاہفت روزہ ندائے کشمیر کے اشتراک سے آن لائن مشاعرے کا انعقاد

مشاعرے میں وادی کے نامورشعرا کی شرکت، ستیش ومل مہمان خصوصی

آخری قسط

سرینگر//خواہش کشمیری//مؤرخہ ٧ جولائی ٢٠٢١ کو کاروانِ شعرائے اردو (کشمیر) کا ہفت روزہ ندائے کشمیر کے اشتراک سے ایک آن لائن محفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں وادئ کشمیر کے ابھرتے ہوئے شعراء کے علاوہ نامور و مایہ ناز شعراء نے بھی شرکت کرتے ہوئے ناظرین کو اپنے کلام سے محضوظ کیا۔ تقریب میں وادئ کشمیر کے مایہ ناز شاعر و ادیب، مترجم و نقاد اور ریڈیو براڈکاسٹر ستیش ومل نے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی شرکت کی اور نظامت کے فرائض عارض ارشاد نے خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دئے۔ اس تقریب میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان میں جاوید عارف، توصیف رضاء، میسر ناشاد، محسن کشمیری، ساگر سرفراز، واحد کشمیری، گلزار جعفر، مہمانِ خصوصی ستیش ومل کے علاوہ کاروانِ شعرائے اردو کے اراکین خواہش کشمیری، عارض ارشاد، تنویر طاہر اور پرویز مانوس نے بھی ناظرین کو اپنے کلام سے محضوظ کیا۔مشاعرہ کے آخر میں نوجوان شعراء اور کاروانِ شعرائے اردو کی تعریف و حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ستیش ومل نے کہا کہ اکثر ادیب و قلم کار یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بعد ادب و زبان یتیم ہو جائیں گے، لیکن ان نوجوان شعراء کا کلام سن کر اور کاروانِ شعرائے اردو کی ان تھک اور بے لوث محنت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہیں کشمیر میں اردو زبان و ادب کا مستقبل نہ صرف تابناک بلکہ تاریخ ساز نظر آ رہا ہے۔انہوں نے نوجوان شعراء سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان کے شانوں پر اپنے گرد و نواح اور سماج کی غلاظت کو صاف کرنے کی ایک اہم ذمہ داری ہے اور انہیں یقین ہے کہ کاروانِ شعرائے اردو کی قیادت میں یہ نوجوان شعراء اس ذمہ داری کو بخوبی ادا کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ان نوجوان شعراء کی ہمیشہ یوں ہی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے اور انہیں ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔مشاعرے کی نظامت کے فرائض عارض ارشاد نے خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دئے۔ نظامت کے دوران مشاعرے میں شامل شرکائ نے عارض ارشاد کی نظامت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عارض ارشاد صاحب نے اپنی نظامت سے مشاعرے میں چار چاند لگائے۔ مشاعرہ کے اختتام پر کاروانِ شعرائے اردو کے سرپرستِ اعلیٰ پرویز مانوس نے نوجوان شعراء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ یہ کاروان آگے بھی اس طرح کی تقریبات منعقد کرتا رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کاروانِ شعرائے اردو کہنہ مشق شعراء کے ساتھ ساتھ اردو کی نئی نسل کو بھی زمین مہیا کرنے کے لئے کوشاں ہے لہٰذا جو شعراء اس کاروان کے ساتھ جڑ کر اپنی شعری تخلیقات کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں وہ بے خوف و خطر کاروانِ شعرائے اردو کے آفیشل فیس بک پیج پر رابطہ کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ مشاعرہ ہفت روزہ ندائے کشمیر کے اشتراک اور تکنیکی معاونت سے منعقد کیا گیا جبکہ یہ مشاعرہ کاروان شعرائے اردو اور ہفت روزہ ندائے کشمیر کے فیس بک پیچز پر نشر کیا گیا۔
پرویز مانوس
آ خر ش صحرا نو ر د ی کا یہ قصّہ لکھ دیا
بے خودی میں آج پھر صحرّا کو دریا لکھ دیا
ہم فقیر و ں کو عطا ر ب نے کیا ا یسا ہُنر
د و لتِ سُلطاں میں ہم نے تیرا حصّہ لکھ دیا
یہ د یا رِ درد مند ہے یہ سخا وت کا ہے در
میرے دروازے پہ آ کر کس نے ایسا لکھ دیا
میں ہمیشہ ہی یزیدیوں کے رہا ہوں برخلاف
خوف سے اُن کے تمہی نے اُن کو اچھا لکھ دیا
حر فِ حق لب سے نکلتے ہی کسی ز نجیر کا
گر د شِ ایا م نے پیر و ں سے ر شتہ لکھ دیا
آخرِ شب پھر سے میرے خواب میں آیا تھا جو
نیند میں ہی انگلیوں نے نام اُس کا لکھ دیا
پھر تمہاری جھونپڑی میں آئیں گے اگلے بر س
وقت رُخصت اُس نے دروازے پہ وعدہ لکھ دیا
عمر بھر ظالم نے رکھا غار میں ہم کو مگر
آسماں والے نے قسمت میں اُجا لا لکھ دیا
ہر طر ف جب شہر میں ہے تلخیوں کا سامنا
پھر بھلا غزلوں کو میری کس نے میٹھا لکھ دیا
�����
ستیش ومل
ایک اِک بات بصد زورِ بیاں کاٹتے ہیں
لوگ سچ بولنے والوں کی زباں کاٹتے ہیں
رات دن خوں پسینے میں نہانے والے
کِشتِ اُمید سے کیوں فصلِ زیاں کاٹتے ہیں
دِل کے کمزور جو ہیں ڈرتے ہیں طوفانوں سے
زور بازو کے دھنی موج رواں کاٹتے ہیں
چار دن جینے کا پروانہ ملا تھا ہم کو
امن سے لوگ یہ مہلت بھی کہاں کاٹتے ہیں
اُن کے بھی حوصلے کا جشن منایا جائے
جو اک عمر پُراز آہ و فغاں کاٹتے ہیں
������
ڈاکٹر تنویر طاہر
دل کو نگاہِ یار میں بسنا بھی آگیا
گیسوئے تابدار میں پھنسنا بھی آگیا
بے بس دکھے ہے اب تو سپیرا ہو یا طبیب
یوں مارِ زلفِ یار کو ڈھسنا بھی آ گیا
اس رشکِ آفتاب کی صورت جو دیکھ لی
ماہی کو زیرِ آب جھلسنا بھی آ گیا
چھائی ہے جب سے ان پہ سیاہی فراق کی
آنکھوں کے بادلوں کو برسنا بھی آگیا
اہلِ نظر سے داغ وہ دل کا کہاں چھپا
لالے کو گر بہار میں ہنسنا بھی آ گیا
دیکھی جو دور ہی سے لبِ یار کی وہ مے
ساغر کو پہلی بار ترسنا بھی آگیا
ڈالا ہے تیرے غم نے جو میرے وجود میںپھندا
وہ اپنے آپ ہی کسنا بھی آگیا
اوجِ الم پہ ہونے کی کافی ہےیہ دلیل
طاہر کو اپنے حال پہ ہنسنا بھی آگیا
������
عارض ارشاد
خوش بخت ہم جو ہوتے، وہ آس پاس ہوتے
نا اس طرح تڑپتے، نا یوں اداس ہوتے
اگر ان کی انجمن میں ہم بھی بلائے جاتے
صحرامیں کیوں بھٹکتے، کیوں محوِ یاس ہوتے
صدمے جو زندگی کے ہم سہ کے جی رہے ہیں
اس حال میں جو ہوتے تم بدخواس ہوتے
ٹکڑے ہمارے دل کے بے مول یوں نہ بکتے
اے کاش شہر فن میں جو ہر شناس ہوتے
عارض ٹٹولنے سے کیا خاک شاعری ہو
اشعار خود نکلتے گر تم اداس ہوتے
������
خواہشؔ کشمیری
شکایت ہے نہ کوئی شکوہ کسی سے
برا بھی ہوں اگر چہ اچھا کسی سے
برا دل کا نہیں ہوں میں، ہاں! مگر یہ
کہ لینا چاہتا ہوں بدلا کسی سے
بھلا دینا مجھے آساں تو نہیں ہے
لگا لے دل اگر تو اپنا کسی سے
نہ میرے ضبطِ گریہ سے کھیل، ناصح!
پتہ کب پوچھتا ہے دریا کسی سے
لگائی تہمتیں یاروں نے ہزاروں
نہ پھر بھی ہوسکا میں رسوا کسی سے
کہ جب تقدیر ہی میں تشنہ لبی ہو
شکایت کیسے کرتا صحرا کسی سے
لٹا کر عزوناز اپنا عشق میں، آہ!
نہ کر اپنا سکے ہم چرچا کسی سے
لگا کر روگ پھر کرواتی ہے، خواہش!
محبت بھی نہ جانے کیا کیا کسی سی
����
ساگر سرفراز
بازار زندگانی میں سامان کی طرح
میں بک رہا ہوں یوسف کنعان کی طرح
جادو کسی کا مجھ پہ اثر کر نہ سکے گا
پہنا ہے تجھ کو نقش سلیمان کی طرح
آدیکھ تیرے ہجر نے کیا حال کردیا
سینہ ہے میرا چاک گریبان کی طرح
آلام روزگار میں الجھی ہے زندگی
جاناں تمہاری زلف پریشان کی طرح
مرجھا گئے ہیں سارے تمناؤں کے گلاب
خالی پڑا ہوا ہوں میں گلدان کی طرح
برسوں کی آشنائی کو یکسر بھلا دیا
پیش آرہا ہے وہ کسی انجان کی طرح
دل کی زمیں پہ یادوں نے خیمہ لگا لیا
بیٹھا ہے تیرا ہجر بھی دربان کی طرح
جیسے کسی بھکاری کو صدقہ دیا گیا
تم نے کیا ہے پیار بھی احسان کی طرح
ساگر کو موت آئی ہے مرنے سے پیشتر
نکلا ہے میرے جسم سے تو جان کی طرح
���
محسن کشمیری
ہے مبتلا یہ دل مرا کب سے عذاب میں
جینا محال ہوگیا ہے اضطراب میں
شوقِ جنوں کی راہ بھی کتنی عجیب ہے
چلتا ہی جا رہا ہوں مسلسل سراب میں
پوچھا تھا اک فقیر سے مفہوم عشق کا
خونِ  جگر نکال کے رکھّا جواب میں
دیکھا ہے جب سے تیرے رخِ پر جمال کوامید
جاگ اٹھی دلِ خانہ خراب میں
خوشبو کسی گلاب کی تھی پیرہن مرے
کل شب کسی گلاب کو دیکھا جو خواب میں
کس کس گناہ کا میں خدایا حساب دوں
دفتر بڑھا گیا ہوں میں عہدِ شباب میں
ٹوٹا کبھی نہیں یہ اذیت کا سلسلہ
کچھ تو قصور تھا مرے ہی انتخاب میں
����
گلزار جعفر کپوارہ
دشت صرصر میں ہوں اک پرچم گلفام لئے
زخم دشنام لئے شہرت بدنام لئے
اک نظر دیکھ یہ تقدیر فروشاں پھر سے
دامن سحر میں آئے ہیں نئی شام لئے
خود فریبی کے تجربوں سے مٹا جاتا ہوں
زندگی تری عنایات کا میں نام لئے
جو اطاعت بھی بغاوت بھی سکھاتا ہے مجھے
لفظ میرے ہیں اُسی درد کا پیغام لئے
ہم تو شمشیر بکف رزمئے گاتے گاتے
رن میں اترے ہیں مگر جرات ناکام لئے
����
میسرناشاد دیالگام اننت ناگ
ناشاد جیدیالگام اننت ناگ
وحشتوں کا خیال بھی چھوڑا
ہم نے تیرا ملال بھی چھوڑا
چھوڑتے ہیں فقیر بس دنیا
ہم نے اشکوں کا مال بھی چھوڑا
اب کے اُلٹی تمہاری تصویریں
کاغذوں سے سوال بھی چھوڑا
ہم نے خود کو اُکھاڑ پھینکا ہے
یعنی قد نے نڈھال بھی چھوڑا
بامِ خلوت پہ خود کشی کرکے
زندگی کا وصال بھی چھوڑا
ہے اندھیروں کا آنکھ میں سرمہ
رتجگوں کا جمال بھی چھوڑا
خود بخود غم قلم نے لکھے ہیں
ہانڈیوں نے اُبال بھی چھوڑا
آگے ناشاد ہم ہی بزدل تھے
ورنہ اُسنے سوال بھی چھوڑا
����

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں