گوشہ اطفال
کہانی پرویز مانوس
نندو کا باپ ایک مداری تھا۔ اُس نے اپنے ساتھ ایک چھوٹے لڑکے کو رکھا تھا جسے وہ جمورا کہہ کے مخاطب کرتا تھا اور دن بھر اُس سے بھاری مشقت کراتا تھا۔ ایک دن بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک رضاکار تنظیم نے اْس بچے کو مداری کے چنگل سے چھڑا کر اسکول میں داخل کرادیا ۔اس طرح رفتہ رفتہ مداری کا دھندہ چوپٹ ہوگیا ۔اُس کے مرنے کے بعد نندو نے بھی یہی پیشہ اختیار کیا۔ اب وقت بدل چکا تھا۔تمام لوگوں کو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ ہو چلا تھا ، والدین اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کیلئے اسکول بھیج رہے تھے۔ایسے حالات میں کسی چھوٹے لڑکے کا ملنا نا ممکن تھا ۔اس لئے نندو نے اپنے ساتھ ایک بندریا کو رکھ لیا تھا جسے وہ ایک جنگل سے پکڑ کر لایا تھا۔بندریا کو اپنی بندر برادری سے بچھڑنے کا بہت دُکھ تھا۔ مداری کے گھر آکر کافی روز تک وہ اداس رہی اور کچھ بھی نہ کھایا ،لیکن رفتہ رفتہ وہ اس ماحول کی عادی ہو گئی اور نندُو نے اُس کا نام بسنتی رکھا۔ نندو بات بات پر اُسے چھڑی سے پیٹتا تھا ۔اب نندُو بندریا کو اپنے ساتھ شہر لے جاتا ۔جہاں وہ ڈُگڈگی بجا کر لوگوں کا دھیان اپنی جانب مبذول کراکے انہیں کھیل تماشہ دکھا کر تھوڑی بہت کمائی کر کے اپنا اور اپنے عیال کا پیٹ پالتا ۔ان حالات میں بندریا کو کھانے کے لئے کم ہی میسر ہوتا۔اس بندھوا زندگی سے عاجز آکر بندریا نے کئی مرتبہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن یہ کمبخت زنجیر اس کے آڑے آئی جس کو توڑنا اس نازک جان کے لئے نا ممکن تھا۔اس لئے مجبور ہوکر وہ نندُو کی قید میں رہ گئی اور اپنوں کے بچھڑنے کہ غم چپ چاپ سہتی رہی ’’ حسب معمول ایک دن نندو مداری کچھ کمانے کی غرض سے بندریا کو ساتھ لے کر گھر سے شہر کی جانب چل پڑا …،،
شہر کے وسط میں ایک بس اڈے کے قریب اُس نے بھیڑ دیکھ کر ڈُگڈگی بجانا شروع کیا ۔ ڈگڈگی کی آوار سُن کر تھوڑی ہی دیر میں لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا ۔ نندو مداری سڑک کے کنارے پر ہی اپنا مختصر سامان سجا کر مجمع سے مخاطب ہوا،، مہربان قدردان! آپ کے ہم پر بے حد احسان ،، غور سے دیکھئے ! اس بندریا کو ، یہ کوئی عام بندریا نہیں ہے بلکہ اس میں بہت ساری خوبیاں ہیں …،، صاحبان !
نچا کر بندریا دکھاؤں گا کھیل
نکل آئے گا خشک ہاتھوں سے تیل
آپ حضرت نے اکثر مداری والوں کی وساطت سے سانپ اور نیولے کی لڑائی دیکھی ہوگی ۔مور اور سانپ کی لڑائی بھی دیکھی ہوگی …اس کے علاوہ طوطے کے منہ سے عجیب وغریب آوازیں بھی سْنی ہونگی …لیکن اس مداری کا دعویٰ ہے کہ اس بندریا کے کمالات سے آپ آج تک محظوظ نہیں ہوئے ہونگے،،کہتے ہوئے اُس نے اپنے تھیلے سے سانپ کا پِٹارا نکال کر ایک طرف رکھا اور پھر اُس پر کالے رنگ کا کپڑا ڈالتے ہوئے کہا ،،حضرات دل تھام کر بیٹھئے.! آج یہ مداری آپ کو ایسا تماشہ دکھائے گا کہ حیرت سے آپ کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی اور آپ خوش ہوکر اپنی جیب میں ہاتھ ڈالنے کے لئے مجبور ہو جائیں گے …آج آپ اپنی آنکھوں کے سامنے اس بندریا اور سانپ کو لڑائی کرتے دیکھیں گے …لیکن اس سے پہلے کہ لڑائی شروع کرائی جائے تمام بچوں سے گزارش ہے کہ وہ مجمع سے نکل جائیں ،،پھر سب بچے ایک ایک کرکے مجمع سے نکل گئے تو مداری نے ڈُگڈگی بجا کر بندریا سے دو چار گْلاٹیاں مروائیں جسے دیکھ کر مجمع نے زور دار تالیاں بجائیں ۔ مجمع میں اضافہ ہوتے دیکھ کر نندْو نے بندریا سے طرح طرح کے کرتب کرانے شروع کیے … اب وہ بلند آواز میں ڈْگڈگی بجاکر گانے لگا
ناچ ری بسنتی تجھے پیسے ملیں گے
کہاں قدردان تجھے ایسے ملیں گے
ڈُگڈگی کی آواز پر بندریا خوب ٹھمکیلگا رہی تھی اور مجمع لطف اُٹھا رہا تھا۔کافی دیر تک ناچنے کے بعد مداری نے بندریا کے ہاتھ میں ایک کٹورا تھماتے ہوئے کہا ،،
صاحبو !جس طرح اس بسنتی نے آپ کو اپنے ٹھْکوں سے محفوظ کیا اسی طرح آپ بھی دل کھول کر اس کے کٹورے میں پانچ روپے ،دس روپے ، بیس روپے ڈال دیجئے ۔اس کے بعد لوگوں نے کٹورے میں روپے ڈالنے شروع کئے ۔ صاحبان ! اب آپ کا انتظار ختم ہو رہا ہے اب آپ اس بندریا کو سانپ سے لڑتے ہوئے دیکھیں گے ،،چل بسنتی ایک چکر اور لگا ،،وہ بابو جی کچھ دے رہے ہیں ،مداری نے زنجیر پکڑ کر اُسے مجمع میں گھماتیہوئے کہا ،،اچانک بندریا نیچے بیٹھ گئی تو مداری نے اُسے چھڑی دکھاتے ہوئے کہا ،،جلدی کرو ۔لوگ سانپ کے ساتھ تمہاری لڑائی دیکھنے کے لئے بیتاب ہیں ، لیکن بندریا کو تو زوروں کی بھوک لگی ہوئی تھی جس کی طرف مداری کا دھیان بالکل نہیں تھا…وہ ناچتے ناچتے بہت تھک چکی تھی اُس کے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے لیکن مرتی کیا نہ کرتی بیچاری زنجیر میں جکڑی ہوئی تھی ۔بندریا کے کٹورے میں کافی ساری رقم دیکھ کر مداری کی آنکھوں میں چمک آگئی وہ سوچنے لگا ،،آج وہ خود بھی اور اپنے عیال کو بھی لذیذ ضیافت کھلائے گا ۔پھر سانپ کے پٹارے سے کالا کپڑا اُٹھاتے ہوئے اُس کے ہاتھ سے بندریا کی زنجیر چھوٹ گئی تو بندریا کے ذہن میں بجلی سی کوند گئی ،،جونہی مداری نے پٹارے سے کپڑا ہٹایا تو سانپ کی پھنکار سْن کر لوگوں کا تجسس اور بڑ ھ گیا۔ چہروں کے تاثرات دیکھ کر مداری بہت خوش ہوا _اس سے پہلے کہ مداری سانپ کے پٹارے کا ڈھکن اُٹھاتا بندریا زنجیر سمیت روپوں کا کٹورا لے کر مجمع کا گھیرا توڑ کر وہاں سے بھاگ گئی ۔یہ دیکھ کر مداری بستنی بسنتی چلانے لگا لیکن بندریا اْن کی نظروں سے اوجھل ہو چْکی تھی اس طرح مداری کے خیالوں کا محل چکنا چْور ہو گیا اور وہ سر پکڑ کر سڑک پر بیٹھ گیا …،،
������
