شریک ِ سفرکوہی منزل ملی 91

بات صرف احساس کی ۔ بات کچھ بھی نہیں

ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
موبائل:8825051001
بات صرف احساس کی ۔ بات کچھ بھی نہیں

ایک معمولی سی غلط فہمی پر میری اور ہمشیرہ کی تو تو میں میں ہوگئی۔ بات کچھ بھی نہیںتھی مگر بات بڑھتے بڑھتے پوری ناراضگی تک پہنچی۔
ہمشیرہ روپڑی۔ ہماری آپس کی بول چال بند ہوگئی نہ اس نے ناشتہ کیااورنہ ہی اس نے مجھے ناشتہ دیا۔
میں جب دفتر سے واپس آیا تو صاف لگ رہاتھاکہ اس نے بھی ناشتہ نہیں کیا ہے اور ظہرانہ بھی نہیں کھایا ہے ۔ بات بہت بگڑ گئی ہے۔
اس نے میرے لئے بھی کھانا نہیں بنایا تھااور پوچھا بھی نہیں۔
وہ اپنے کمرے میں صرف رورہی تھی۔ میں یہ دیکھ کر اب بہت پر یشان ہوا کہ یہ مسئلہ کس طرح سلجھ جائے ۔میں نے دل سے مان لیا کہ صحیح معنوں میں غلطی میری ہی تھی۔
ہمشیرہ میری طرف دیکھتی بھی نہیںوہ اس قدر ناراض تھی۔
اس کاچہرہ کمزوری ،پریشانی اور غم وغصہ سے اترا ہواتھا ۔ میں اس کو دیکھ کر بڑا دکھی ہورہاتھا۔ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ کسی طرح معاملہ حل ہوجائے۔
ہماری والدہ صاحبہ کا انتقال دو ماہ قبل ہوا تھا۔ والد صاحب بہت پہلے فوت ہوچکے تھے۔ اب ہم صرف دو بھائی بہن تھے ۔ مجھے بہن سے بہت لگاؤ اورپیار تھا ۔ اسی لئے اس نے معمولی سی بات کو دل پہ لے لیا۔
دراصل دو دن قبل میں نے اس کو صرف اتنا کہا تھا کہ آج کل بیڈ ٹی بہت ہی بے مزہ اور پھیکی ہوتی ہے ۔اس میں چائے نام کا نشان بھی نہیں ہوتاہے ۔ بس اتنی سی بات پر وہ اس قدر ناراض اورپریشان ہوگئی کہ ہمارے باہمی تعلقات بگڑ گئے۔
ہم دونوں اپنی اپنی جگہ پریشان رہنے لگے ۔ ہمارا گھر اب وہ گھر نہ رہا بلکہ ایک ویرانہ لگنے لگا ۔
اسی رات میں نے والدہ مرحومہ کو خواب میں دیکھا ۔ وہ مجھ سے بہت ناراض تھی۔ میری طرف سے منہ پھیر کر بیٹھی رہی ۔ کہہ رہی تھی۔ ’’میں نے سوچا تھا کہ میرے بعد تو اپنی چھوٹی بہن کو اور زیادہ خوش وخرم رکھے گا مگر یہ میری خام خیالی تھی ۔ بہن کے ساتھ تیرا سلوک سن کر میرا دل رو رہاہے۔ تونے مجھے بہت دکھی کردیا ہے ۔ میں تجھے کبھی معاف نہیں کروں گی۔
خواب میں ہی میں نے والدہ صاحب کو کہا کہ میں کل صبح ہی ہمشیرہ سے اپنی غلطی اور حماقت کی معافی مانگوں گا۔ آپ پریشان نہ ہوں ۔ بے فکر رہیں۔ میں مانتا ہوں کہ غلطی میری ہی تھی میں نے صرف ذرا ترش لہجے میں کہاتھا کہ بیڈ ٹی بے مزہ ہے ۔ تونے لاپرواہی سے چائے بنائی ہے ۔ بس اتنی سی بات پر وہ ناراض ہوگئی۔ چونکہ میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں اس کو اتنی چھوٹی سی ترش بات سننے کی توقع ہی نہ تھی ۔ خیر! میں صبح ہی اس سے معافی مانگو ںگا۔ آپ بے فکر رہیں۔
میں جب نیند سے جاگا ۔ میں اب بھی ہڑبڑا رہاتھا۔ پسینہ سے شرابور تھا ۔ زبان خشک تھی ۔ ہونٹ کپکپار ہے تھے ۔ بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا ۔
میں نے وضو کیا ۔ نماز پڑھی۔ دو رکعت نماز حاجت پڑھی اللہ کے حضور دعا مانگی کہ میرے مولیٰ میری ہمشیرہ میری غلطی معاف کرے اور مجھ سے پہلے کی طرح رہے۔
اب میں گھرسے باہر نکلا ۔ سڑک کنارے محکمہ بلدیات کے کوڑا دان میں سے ڈھونڈ کر ایک پھٹا ہوا جوتا نکالا۔ کمرے میں لاکراس کو صاف کیا ۔ بڑی خوبصورتی سے رنگدار چمکدار کاغذ کے ڈبے میں پیک کیا ۔
یہ لیکر میں ہمشیرہ کے کمرے میں گیا ۔ سیدھے ہی اس کے آگے سر جھکائے بیٹھا اورا سکو کہا کہ میری پاری چھوٹی بہنا مجھے معا ف کرو۔ میں اپنی غلطی تسلیم کرتاہوں قصور بالکل میرا ہی تھا۔ آپ اللہ اور اماں کے لئے مجھے معاف کرو۔ میں دوبارہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔
میں نے کل دفتر سے آتے ہوئے پہلوان کی ہٹی سے مٹھائی لائی تھی۔ وہ ایسے ہی رکھی ہے۔ آپ مجھے اپنے ہاتھوں سے کھلاؤ تبھی مجھے سکوں ملے گا ۔ مجھے معاف کرو ۔ میں یہ میٹھائی تیرے ہی ہاتھ سے کھاؤں گا ۔ تب ہی مجھے لگے گا کہ تونے مجھے معاف کیا۔
یہ کہتے ہوئے میں نے ڈبہ اس کے آگے سرکا دیا اور اپناندامت بھرا سر اس کے آگے خم کرکے رکھ دیا۔
جب اس نے ڈبہ کھولا ۔ اس میں سے پھٹا ہوا جوتا نکلا۔ وہ حیران ہوگئی ۔ بولی یہ کیا؟
میں کہتا گیا کہ اب کھلاؤ۔ دیر نہ کرو۔ میں بے تاب ہوںکھانے کے لئے ۔دو دن سے بھوکا ہوں۔ میں لگاتار دونوں ہاتھوں سے اپنے کان پکڑے ہوئے تھا۔
یہ کہتے ہوئے ہم دونوں بہن بھائی ایک دوسرے سے گلے ملے اور پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ اسی لمحے مجھے محسوس ہوا کہ ہمشیرہ اور ماں دونوں نے مجھے معاف کیا۔
٭٭٭
شمع بُجھنے سے پہلے
انیس احمد کے والدین نے اسکے لئے ایک پڑھی لکھی خوبصورت لڑکی پسند کی۔ اب منگنی کی رسم کی تاریخ مقرر کرنی تھی۔ مگر انیس احمد جو کہ انجینئرنگ محکمہ میں حال ہی میں ملازم ہوا تھاکسی نہ کسی وجہ سے ٹال مٹول کرتا تھا۔ کبھی کہتا تین دن تک کوئی فرصت نہیں، کبھی کہتامجھے اپنے دوست کا انتظار ہے ۔ سوموار منگلوار میں نے سائیٹ پر ہی رہنا ہے۔ اس لئے ان دنوں کے بعد ہی شادی کا سوچیں گے۔
دراصل اس کو ایک دن دفتر میں بیٹھے بیٹھے ہلکا سا چکر آیا تھا ۔ جس کے لئے اس نے ڈاکٹر کے مشورہ سے MRI/Catscan کروایاتھا۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ دماغ میںSpace occupying lesionیعنی برین کینسر ہے۔مگر وہ یہ بات اپنے والدین کو نہیں بتانا چاہتا تھا۔
ابھی چونکہ پہلی تنخواہ بھی نہیں ملی تھی۔ اس لئے وہ اپنے والد صاحب سے علاج معالجہ کے بہانے روپے لیتا تھا مگر خرچ نہ کرتا تھا ۔ اس نے ان کو صرف یہ کہا تھا کہ اس کو انتٹریوں میں سوجھن ہے ۔
وہ روز دوائیوں اور ٹیسٹ کے بہانے پیسے لیتا اور ان کو سرہانے کے نیچے چھپائے رکھتا ۔ وہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتا گیا ۔ سردرد اور چکر آنے کی رفتاربھی تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔
ایک دن جب اسکو قدرے افاقہ ہواتو اس نے گھر والوں کو کہا کہ اب وہ ٹھیک ہورہاہے ۔ اس لئے اگلے دس دن میں شادی کی تاریخ مقررکی جائے تو بہتر رہے گا ۔
دراصل اس کو کوئی آرام وغیرہ نہ تھا ڈاکٹر نے ساری پوزیشن بتادی تھی۔
اس نے از خود اندازہ لگا رکھا تھا کہ ان ہی دس بارہ دنوں میں وہ اس دنیا سے کوچ کرجائے گا ۔ ادھر گھروالے منگنی کی تیاری کررہے تھے اُدھر انیس کو یک لخت سردرد، چکر اور الٹیاں آنی شروع ہوئیں اور اسی کے ساتھ ہی وہ واصل بحق ہوگیا ۔انا للہ واناالیہ راجعون۔
جب تجہیز وتکفین کی تیاری ہورہی تھی ۔ اس دوران اس کے جیب سے تمام رقم جو وہ علاج ومعالجہ ، دوائیوں کے لئے اپنے ابّو سے لیتاتھا اور ایک خط ملا جس میں اس نے لکھا تھا کہ وہ جان بوجھ کر منگنی کی رسم کی تاریخیں آگے کرتا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ شمع بالآخر بجھنے ہی والی ہے۔
اس طرح اس نے لڑکی کی زندگی سے کھلواڑ نہ کیا ورنہ اس کی بھی زندگی برباد ہوجاتی۔
٭٭٭
مدرس ڈے

انور نے اقبال کو صبح سویرے بن ٹھن کر ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ لئے دیکھ کر کہا
’’بھئی! کہاں جارہے ہو؟‘‘
’’بس اپنی والدہ صاحبہ کو سلام کرنے اور یہ پھولوں کا تحفہ دینے جارہاہوں ‘‘
’’کہاں؟‘‘
’’ان کو میں نے اولڈایج ہوم میں کب کا بھرتی کروا دیا ہے
آج مدرس ڈے ہے نا
اسی لئے جارہا ہوں‘‘
٭٭٭
ایکسچینج آفر
بھائی صاحب! اپنی اہلیہ کو ساتھ لیکر اتنی صبح کہاں جارہے ہو۔
فلاں جگہ ایکسچینج آفر چل رہی ہے ۔ اسی لئے جلدی جارہاہوں

٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں