پاپا جلدی آجانا
کہانی پرویز مانوس
شاکر اور مُنی اُس وقت بہت چھوٹے تھے، جب اُن کا باپ ایک حادثے کا شکار ہو کر اس دنیا سے چل بسا ، بس تب سے ہی نجمہ دونوں بچوّں کو ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت سے نواز رہی تھی…
نجمہ پاک دامن اورصوم وصلوٰۃ کی پابند خاتون تھی، اس کے ساتھ ساتھ اُس کو اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ اور اعتقاد بھی تھا، شوہر کے سائے سے محروم ہونے کے بعد اُس نے ہمت نہیں ہاری بلکہ ایک بہادر عورت کی طرح حالات سے مقابلہ کیا۔ اُس نے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے یا مدد طلب کرنے کے بجائے محنت مشقت کرنے کو ترجیح دی اور دونوں بچّوں کی پرورش اس طرح کی کہ انہیں باپ کی کمی محسوس نہ ہواور وہ کسی چیز کو نہ ترسیں۔ اُس کے دونوں بچّے بھی ماشا اللہ بہت ہی ذہین تھے ، وہ چاہے درسگاہ کی تعلیم ہو یا اسکول کی ،دونوں اداروں میں اُن کا نام قابل بچّوں کے ساتھ لیا جاتا تھا۔
شاکر دوسری جماعت میں تھا جبکہ مُنی ابھی اول میں۔ ایک دن اسکول سے آنے کے بعد دونوں بھائی بہن ماں سے کہنے لگے ’’امّی! آج ہمارے اسکول میںیوم والدین منایا گیا، سب بچّوں کے والدین وہاں موجود تھے۔ بس ہمارا ہی وہاں کوئی نہیں تھا۔ امّی! ہمارے پاپا کیوں نہیں آتے؟ سب بچّے ہم سے پوچھتے ہیں‘‘ یہ سُن کر نجمہ پریشان ہو اٹھی۔
اُس نے بات ٹالتے ہوئے کہا’’ آپ دونوں ہاتھ دھولو میں کھانا لگاتی ہوں‘‘ یہ سُن کر دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، گویا وہ دونوں آج فیصلہ کر کے آئے ہوں کہ ماں سے اس سوال کا جواب لے کر ہی رہیں گے۔ شاکر نے کہاـ ’’ نہیں ہم تب تک کھانا نہیں کھائیں گے،جب تک آپ ہمیں نہیں بتائوگی کہ ہمارے پاپا کہاں ہیں؟‘‘
یہ سوال وہ دونوں اس سے پہلے بھی کئی بار نجمہ سے کر چکے تھے لیکن وہ ہر بار انہیں باتوں میں اُلجھا کر اصل مقصد سے اُس کی توجہ ہٹا دیتی، نجمہ نے پھر کہا ’’ بچّو پہلے کھانا کھالو‘‘ ’’نہیں امّی! آج ہم نہیں مانیں گے‘‘ مُنی نے منہ بسورتے ہوئے کہا ۔ نجمہ کو کچھ نہیں سوجھ رہا تھا کہ وہ کیا جواب دے، تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اُس نے کہا، آپ کے پاپا ۔۔۔نا ۔۔اللہ کے گھر گئے ہیں‘‘ ’’وہ وہاں کیا کرتے ہیں؟‘‘ شاکر کے اس سوال پر وہ سٹپٹا گئی، پھر فوراً بولی ’’دیکھو بیٹا! جیسے دانش کے پاپا، رشید کے پاپا اور حامد کے پاپا پردیس میں کام کر کے گھر والوں کو پیسے بھیجتے ہیں نا، اسی طرح تمہارے پاپابھی وہاں کام کرتے ہیں‘‘ ’’ اچھا تو پھر وہ ہمیں پیسے کیوں نہیں بھیجتے؟‘‘ نجمہ ان معصوم سوالات کے گرداب میں بُری طرح پھنس گئی تھی، سوال پر سوال، اس نے ایک بار پھر سمجھداری سے کام لیتے ہوئے کہا ’’ کیوں نہیں بھیجتے؟ بھیجتے تو ہیں، ہر ماہ بینک سے جو پیسے میں لے کر آتی ہوں، اُسی سے تو آپ کے اسکول کی فیس وغیرہ ادا ہوتی ہے‘‘
ان معصوموں کو کیا معلوم کہ وہ محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے بیوہ کی پینشن کا پیسہ لاتی تھی۔ ’’اچھا ٹھیک ہے، آپ ہمیں اللہ کا پتہ بتا دو ہم، پاپا کو خط لکھ کر بُلا لیں گے‘‘ نجمہ نے شکر ادا کیا کہ جیسے تیسے اُس کی جان چھوٹی، اُس نے بچّوں کو پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا’’دیکھو بچّو! اللہ کل جہانوں کا خالق اور مالک ہے، یہ ساری کائنات اُس کی بنائی ہوئی ہے، اِس لئے وہ ہر جگہ موجود ہے، لفافے پر اللہ لکھ دینا ہی کافی ہے، وہ اللہ تک پہنچ جائے گاچلو اب کھالو کھانا‘‘ بس پھر کیا تھا دونوں بہن بھائیوں نے کاپی کے اوراق کاٹ کر ایک لفافہ بنایا اور اُس کے اندر لکھا ہوا ایک خط نما ورق رکھ دیا، جس پر معصوم الفاظ میں لکھا:
’’آپ کے بچّے کب سے آپ کا انتظار کر رہے ہیں ہمیں آپ کی بہت یاد آتی ہے ،پاپا جلدی آجانا‘‘
پھر اُس پر ایک طرف ’’اللہ صاحب‘‘ اوردوسری طرف مُنی اور شاکر لکھ کر اسکول کے راستے میں سڑک کے کنارے لگے لیٹر بکس میں ڈال دیا۔
نجمہ کی جفاکشی دیکھ کر امام صاحب کو اُس بے سہارا پر رحم آتا۔ سوچتا’ چھوٹی عمر میں ہی اللہ نے اس بچّی کو کڑی آزمائشوں میں ڈال دیا ہے، اکیلی جان ۔۔۔دو بچّے ۔۔۔بے سہارا… ایک بار اُس نے نجمہ کو مشورہ بھی دیا تھا کہ بیٹی نجمہ! تمہارے سامنے تو ابھی پہاڑ جیسی زندگی کھڑی ہے۔ کیسے کاٹوگی اِسے؟ ان بچّوں کی تعلیم و تربیت اور بہتر مستقبل کے لئے تمہیں دوسرانکاح کر لینا چاہیے… نجمہ نے جواب میں کہا تھا ’’ آج کے اس دور میں کوئی پُر خلوص اور بے لوث شخص بھی تو ملے، جو ان یتیم بچّوں کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہو۔ آج کل تو لوگ کوئی کام کرنے سے پہلے نفع ، نقصان کے بارے میں سوچتے ہیں پھر ہمارے پاس دو کمروں کے سوا ہے بھی کیا؟ نہ زمین جائیداد نہ دولت… ایسے میں کوئی آگے آئے بھی تو کیوں اور کیسے؟‘‘ امام صاحب اُس کی باتوں میں کھو سے گئے۔۔۔ پھر انہوں نے کہا ’’ تُو فکر مت کر بیٹی! اللہ پر بھروسہ رکھ! وہ بڑا عظیم ہے، اس میں بھی ضرور اُس کی کوئی بہتری ہوگی‘‘
اسکول جاتے ہوئے اکثر شاکر اور مُنی کے قدم لیٹر بکس کے پاس اچانک رُک جاتے اوروہ دیر تک لیٹر بکس کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے رہتے کیونکہ اب تک وہ کافی سارے خطوط لیٹر بکس میں ڈال چکے تھے وہ معصوم سوچتے شاید خط کا جواب بھی اسی سرخ رنگ کے ڈبے سے باہر آئے گا، پھر وہ دونوں اُداس ہو کر اسکول کی طرف چل پڑتے…
ڈاکیے کا اس گائوں کے لوگوں کے ساتھ ایک سماجی رشتہ بن چکا تھا۔ وہ گائوں والوں کے ہر دکھ سکھ میں شریک ہوتا تھا۔ کافی دنوں تک جب ڈاکیہ گائوں میں دکھائی نہیں دیا تو گائوں والوں کو اس کی فکر ہوئی تو ازراہِ انسانیت دوسری صبح امام صاحب سیدھا پوسٹ آفس پہنچ گئے، پوسٹ ماسٹر سے دریافت کرنے پر انہیں معلوم ہوا کہ چند روز قبل اُن کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا ہے ،جس وجہ سے وہ گائوں کی ڈاک تقسیم نہیں کر سکے۔ یہ سن کر امام صاحب کو کافی دکھ ہوا اور وہ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ اُس کے گھر تعزیت کے لیے چلے گئے۔
نجمہ نے دونوں بچّوں کو اسکول کے لئے روانہ کیا اور خود کمرے میں داخل ہو کر اُن کے کپڑے وغیرہ سنبھالنے لگی کہ اچانک اُس کی نظر ایک لفافے پر پڑی جو بچّے ساتھ لے جانا بھول گئے تھے اُس نے آگے بڑھ کر لفافہ اٹھایا، چاک کرنے پر لفافے کے اندر سے ایک خط موصول ہوا جس پر یہ عبارت درج تھی:۔
’’پاپا ہم نے آپ کو بہت سارے خطوط لکھے لیکن آپ نے ایک بھی جواب نہیں دیا۔ یوم والدین نزدیک آرہا ہے۔ اگر آپ اس بار بھی نہیں آئے تو ہم سمجھیں گے آپ کو اپنے بچّوں سے پیار نہیں ہے ۔۔۔اور ہم آپ سے ناراض ہو جائیں گے، آپ کے بھیجے ہوئے پیسے بھی ہم نہیں لیں گے۔ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ سب کے پاپا لوٹ آئے ہیں ہم بھی آپ کا انتظار کر رہے ہیں، خط ملتے ہی ۔۔۔پاپا جلدی آجانا…‘‘
عبارت پڑھ کر نجمہ کی آنکھوں سے جذبات کا دریا جاری ہو گیا ’’یا خدا! میں ان معصوم بچّوں کو زندگی اور موت کافرق کیسے سمجھائوں؟ انہیں کیسے سمجھائوں کہ جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتے… میرے مولا…! یہ بچّے اتنے حساس کیوں ہیں؟ میں اُن کا سامنا کیسے کروں؟ اُن کے سوالات میرے جگر میں نشتر بن کر چبھتے ہیں ’’ یا خدا میری رہنمائی کر…مجھے اس الجھن سے نکال… تو ہی کوئی راستہ دکھا، میں کیا کروں؟ میں کیا کروں؟ ‘‘وہ دبی آواز میں چِلا رہی تھی کہ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی… نجمہ نے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کیں۔ اس نے سوچا شاید بچّوں کو آج اسکول سے جلدی چُھٹی مل گئی ہوگی۔
اُس نے دروازہ کھولا تو سامنے امام صاحب کسی اجنبی کے ساتھ کھڑے تھے۔ نجمہ نیجھک کر سلام بجا لایا… ’’بیٹی! کیا ہم اندر آسکتے ہیں؟‘‘ امام صاحب نے پوچھا تو وہ بولی ’’ تشریف لائیے…‘‘ یہ کہتے ہوئے نجمہ ایک طرف ہو گئی… امام صاحب اجنبی کے ساتھ کمرے میں داخل ہو کر چار پائی پر بیٹھ گئے اور نجمہ سے مخاطب ہوئے ’’ بیٹی یہ اس گائوں کے ڈاک بابو ہیں! ان کا نام اللہ بخش ہے۔ تین ماہ قبل ان کی اہلیہ اپنے پیچھے ایک پھول سی بچّی کو چھوڑ کر انتقال کر گئی۔ اگر تمہاری اجازت ہوتو یہ تم سے نکاح کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ سُن کر نجمہ کا گلا رُند گیا… آواز اُس کے حلق میں اٹک کر رہ گئی ،اُس نے چھت کی طرف نظریں اُٹھا کر صرف اتنا کہا… ’’اللہ اکبر‘‘ امام صاحب کو نجمہ کی کیفیت کا اچھی طرح اندازہ تھا، انہوں نے کہا ’’ دیکھو بیٹی!اس طرح آپ دونوں اپنی زندگی نئے سِرے سے شروع کرسکوگے اور ان تینوں بچّوں کو ماں کی ممتا اور باپ کا شفقت بھرا سایہ نصیب ہو جائے گا۔ بیٹی اللہ بخش بہت ہی نیک اور دیندار آدمی ہے۔ وہ شاکر اور مُنی کو بھر پُور پیارے دے گا۔ اس بات کا ثبوت ہیں یہ سارے خطوط جو دونوں بچّوں نے اپنے باپ کو لکھے ہیں‘‘ نجمہ وہ سارے خطوط دیکھ کر پسیج گئی اور بولی ’’ امام صاحب شاید اللہ کو یہی منظور ہے…بسم اللہ کیجئے‘‘ اگلے دن امام صاحب نے گواہوں کی موجودگی میں اُن کا نکاح پڑھ دیا اور ڈھیر ساری دعائیں دے کر وہاں سے چل دئیے…
شاکر اور مُنی نے اسکول بیگ اٹھائے ہوئے گھر کے اندر قدم رکھا تو سامنے اللہ بخش ہاتھ میں اُن کے لکھے ہوئے خطوط لئے بانہیں پھیلائے کھڑا تھا۔ پاس کھڑی نجمہ نے مسکراتے ہوئے بچّوں سے کہا…’’ یہی ہیں آپ کے پاپا… اللہ بخش‘‘
شاکر اور مُنی دوڑ کراللہ بخش کے سینے سے لگ گئے…
