چرچا صبح و شام تیرا ہی تھا 81

خود کو سولی پر چڑھاۓ ہوئے

غزل
سبَدر شبیر

خود کو سولی پر چڑھاۓ ہوئے
راہ عشقِ میں بھی ہم پراۓ ہوئے

فکرِ جَگ میں تماشہ بن گیا ہوں
دل ویراں ہوا غم کو چُھپائے ہوئے

شب و روز اُنسے ملنے کی آرزو ہے
خیال میں بزم کو سجاۓ ہوۓ

میں منتظر ہوں کب وہ نظر آے گا
بس ہاتھ میں ہاتھ مِلاۓ ہوۓ

روز خواب و خیال سجاتا ہوں میں
خونِ جگر سے شمع کو جلاۓ ہوۓ

کون جانے کس طرح پگھل رہا ہوں
غمِ عشق دل میں بسائے ہوئے

درد عشق کا اندازہ ہو نہیں سکتا
بزمِ عشق میں بار بار آزماۓ ہوۓ
شامِ زندگی تک منتظر رہیگا سبَدر
راہوں کو چھان کر پھول بچھاۓ ہوئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں