مزاجِ خودی ہے زماں رقص میںہے 82

بھری محفل میں اُلفت کا فسانہ بھول جاوگے

غزل
توصیف رضا
بھری محفل میں اُلفت کا فسانہ بھول جاوگے
نہیں ممکن ہے تم میرا ٹھکانہ بھول جاوگے

ختم ہوںگی نہ دیوارے کبھی اس دور میں شاید
مجھے تم یاد رکھنے کا بہانہ بھول جاوگے

تری مخمور آنکھوں میں ہزاروں غم چھپے ہوں گے
جبھی اُلفت سے اُلفت کو نبھانہ بھول جاو گے

کریں گے ساتھ رہنے کو مقدرہم کبھی لیکن
مجھے خوابوں میں آکر تم رلانا بھول جاو گے

مرا آنگن مری چوکھٹ عجب رنگوں میں ڈوبے گی
اگر حالِ الم بولوں ستانہ بھول جاو گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں