میرا محبوب روٹھا ہے بہارو تم منالاؤ 103

صبح کی شوخ ہواؤں نے ولولہ بانٹا

غزل
(فردوس تسلٓیم رحمانی)

صبح کی شوخ ہواؤں نے ولولہ بانٹا
چلے بھی آؤ فضاؤں نےحوصلہ بانٹا
ڈھلی وہ رات سِیاہ رات لےکےانگڑائی
مچلتی آئی نئ رُت نے رِسالہ بانٹا
تھے محوِ خواب بھری رات بھلے ہی ہم
اب تو سہلا کے فرشتوں نے مُرسلہ بانٹا
کُھلی پلک جو فلک سے اِک کِرن پھوٹی
سجی اُس سیج سےالفت کا مقالہ بانٹا
وفا کی بزم میں ہر خاص و عام ھے مدعو
یہ کس نے عزم سے رحمت کا نِوالہ بانٹا
ادائے شُکر ،عبادت واطاعت کی خاطر
کسی نے آکے عنایت کا سلسلہ بانٹا
عجب سماں ھے یہ دیکھتے ہی بنتا ھے
اُٹھاؤ نظریں کہ سخاوت کا ہمالہ بانٹا
ہے وساطت وحمایت کا آسرا سرِتسلٓیم
مناؤ جشن کہ شفاعت کا وسیلہ بانٹا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں