غزل
نسیمؔ اختر۔۔۔روپ نگر چنور جموں
ہر اک بندش سے ہے آزاد ہمدم
مری چاہت سے ہے ناشاد ہمدم
میں اس کی جان ہوں میرا بھرم تھا
جدا ہوتے ہوئے تھا شاد ہمدم
اسیرِ زلف ہو میرے تھھ کہتے
مجھے اچھی طرح ہے یاد ہمدم
کہاں دنیا نئی کوئی بساتے
تجھے کھو کر ہوئے برباد ہمدم
قضا کی رات تھی اور تم بھی چھوٹے
ستم ایسے ہوا ایجاد ہمدم
کبھی جلوہ بھی دے پیاسی نظر کو
کروں کب تک میں یہ فریاد ہمدم
