کوس تام شچھ ہیتھ ودناواں یارء بلن شام 84

کہی تو چاند تاروں میں فلک میں تجھکو ڈھونڈا ہے

غزل
آزار گوہر

کہی تو چاند تاروں میں فلک میں تجھکو ڈھونڈا ہے
اے عشقِ صادِقاں سارے جہاں میں تجھکو ڈھونڈا ہے
خاموشی رات کی بھی تھی فقط ہمراہ اندھیروں میں
اور بس میں تھا میں نے ہر آسطان میں تجھکو ڈھونڈا ہے
پھولوں کی مسکراہٹ بھی نہ تھی یونہی بلندی پر
میری بیتابی نے ہر گلستان میں تھجکو ڈھونڈا ہے
میری ان شوق نظروں کا تماشہ یوں نہ کر دینا
میں نے بادِصبا کے ہر نِشاں میں تجھکو ڈھونڈا ہے
کھبی اے یار آیا کر میری مستی، خیالوں میں
کہ پوری رات دل کے کہکشاں میں تجھکو ڈھونڈا ہے
میری ہے رہگزر غم کے شہر کے ہر چوراہے پر
مگر آزار ہے دردِ سماں میں تجھکو ڈھونڈا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں