میں یوں ہی شرمسار ہو جاتا 85

دیکھ کر مجھکو وہ مسکرانے لگے

غزل
ظفر صدیقی )

دیکھ کر مجھکو وہ مسکرانے لگے
تیر دل پہ کچھ یوں چلانے لگے
ساتھ ملا ہے جب سے مجھکو انکا
غم ہم بھی اپنے بھلانے لگے
جو برا کہہ کے چل دیے تھے
وہی میرے خواب سجانے لگے
برے حالات میں جو کترا تے تھے
اچھے وقت میں پاس آنے لگے
خدا کی رحمت عطاء ہوئی ظفر
شہرت ہم بھی اب پانے لگے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں