غزل
فردوس تسلیمؔؔؔؔؔ رحمانی باغِ ماہتاب
درون شب وہ ہوئی اک نداء کہ اے نافِل
ٹٹول نفس ، پلٹ اندھیار سے تٗو اے غافِل
چشمِ روشن کا ہی حق اگر نظر میں نہ ھو
شبوں کو یوم بناکر بھی نہ کچھ لگےحاصِل
اِس انجمن میں لگے چاؤ و بھاؤ کی خاطر
نہ کر رِیا و دِکھاوے میں اپنی زندگی زائِل
سبز وہ باغ دکھائے ، تو لُٹا ئے کتنے سُکو ن
کبھی گِنا تو کرو اپنے کارہائے کُل باطِل
مصافحہ ابلیس سےاور تلاش خضرٔ کی ھے
گرچہ ناخداؤں کےاُس خدا نے ناؤ دی ساحِل
یوں شانِ کبریا ساجھے وہ آ بسا ھے قریب
نِہاںسے جھانک،وہاں توبناھےخود فاصِل
محاسبہ نہ ھوجب تک،سمجھ کہ ھےدشوار
صراطِ زیست سراپا ھے اِک امتحانِ فاضِل
نہ ہو گمان کہ کیاکیا سخا ملے ہیں بِن مانگے
ہو کےنادم دیکھ اپنا مقدّر، بڑا ھے وہ عادِل
تلاش صبح نئ سحر نئ، ہٹا نقابِ پوشیدہ
قلب میں تڑپ بڑھا ، سلب کہیں نہ ہو حائِل
تلخئ حق کریں تسلیم،صِلہ وجِلا نمودھے وہ
سُلجھ تو جائیےعملاً، پھرامید جگائیے کامِل
