ملک بھر کی طرح ریاست جموں وکشمیر میں بھی آگ سے نجات حاصل کرنے کا ہفتہ تو منایاجارہاہے تاہم وادی کشمیر کے شہروں اور قصبوں کے سرکاری دفتروں ، ہوٹلوں،خانقاہوں ، زیارت گاہوں اور تاریخی عمارتوں میں فائر پروف آلات نصب کرنے کے لئے کسی بھی طرح کی کاروائی عمل میںنہیں لائی جارہی ہے جبکہ فائر اینڈ ایمرجنسی محکمہ کی جانب سے ریاست بھر میں لوگوں کو آگ سے نجات حاصل کرنے کے لئے کسی بھی طرح کی جانکاری فراہم نہیں کی جاتی ہے ۔1944میں آگ بجھانے کے دوران زندہ جھلس کر لقمہ اجل ہونے والے محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے اہلکاروں کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لئے ملک بھر کی طرح ریاست جموں وکشمیر میں بھی آگ سے نجات حاصل کرنے کا ہفتہ منایا جارہاہے ۔تاہم المیہ اس بات کا ہے کہ ریاست خاص کر وادی کشمیر کے بڑے ہوٹلوں،سرکاری اداروں، خانقاہوں ، درگاہوں، زیات گاہوں ، تاریخی عمارتوں میں فائر پروف آلات نصب کرنا لازمی ہے اور ان آلات کے نصب کرنے کے بغیر ہوٹل یا سرکاری اداروں کے لئے عمارتیں تعمیرکرنے کی اجازت ہی نہیں دی جاسکتی ہے۔ ریاست خاص کر وادی کشمیر کے بڑے ہوٹلوں، سرکاری اداروں ،خانقاہوں ، درگاہوں، زیارت گاہوں میں فائر پروف آلا ت نصب کرنے کیلئے باضابطہ طور پر احکامات صادر کئے گئے ہیں تاہم کسی بھی عمارت میں اس طرح کے آلات نصب کرنے کیلئے کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ فائر اینڈ ایمرجنسی محکمہ کی جانب سے آگ سے نجات حاصل کرنے کا ہفتہ منایا رہاہے تاہم پہلی بار ریاست جموں وکشمیرمیں اس محکمہ کی جانب سے آگ سے نجات حاصل کرنے کیلئے نہ تو کسی ریلی کا انعقاد کیاگیا اور نہ اس کی اس ضرور ت محسوس کی گئی ۔ المیہ اس بات کا ہے کہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے آگ سے نجات حاصل کرنے کے ضمن میں کاغذی بیان تک جاری نہیں کیا گیا۔ محکمہ کی جانب سے لوگوں کو آگ سے نجات حاصل کرنے کیلئے پوری ریاست میں اس ہفتے کے دوران کسی بھی طرح کی جانکاری فراہم نہیں کی گئی۔ محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے ایک سینئر آفسر نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر کہا کہ 95% سرکای اداروں کی عمارتیں فائر پروف آلا ت کے بغیر ہیں اور اگر خدا نہ خواستہ آگ کی کوئی واردات رونما ہوئی تو بڑی تعداد میں سرکاری ادارے آگ کی واردات میں خاکستر ہوسکتے ہیں۔ مذکورہ افسر کے مطابق پیر دستگیر صاحب ؒ خانیار کی زیارت شریف میں آگ نمودار ہونے کے بعد سرکار نے واضح احکامات صاد ر کئے گئے تھے کہ تمام سرکاری دفتروں ، خانقاہوں، زیارت شریفوں ، تاریخی عمارتوںمیں فائر پروف آلات نصب کئے جائیں تاہم برسوں گذر گئے نہ تو فائراینڈ ایمرجنسی نے اس کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی سرکار نے اس معاملے پر کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔
79
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل
