سنو، محمد ہے نام ان کا 96

تمنا مدینہ

ذکی طارق

مدینے کی تمنا سے سجا دل
بہت بےچین ہے مولا مرا دل
یقیناً ہوگا وہ شہرِ نبی ہی
جسے ہر اک گھڑی ہے ڈھونڈتا دل
نظر آتے ہی تصویرِ مدینہ
مرے سینے سے نکلا جا رہا دل
سبب یہ ہے مری بے فکریوں کا
دھڑکتا ہے لئے صلی علٰی دل
مدینہ شہر اب دے دے خدایا
ترے باقی جہاں سے بھر گیا دل
کسی صورت بہلتا ہی نہیں ہے
مدینے کے لئے مچلا ہوا دل
خدا توفیقِ ذکرِ مصطفٰے دے
غموں سے اب ہے راحت چاہتا دل
تجھے کیسے اسے دے دوں اے دنیا
نبی کے نام ہے میرا لکھا دل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں