زندگی کے سراب کا مارا 94

زندگی کے سراب کا مارا

غزل

عارض ارشا

زندگی کے سراب کا مارا
ہوں مسلسل عذاب کا مارا
پڑھ نہ پایا میں اس کی آنکھوں کو
عشق کے ہوں نصاب کا مارا
تیری زلفوں کی چھاؤں پا لے تو
کچھ جئے اضطراب کا مارا
زندگی تجھ کو چن لیا جب سے
ہوں اسی انتخاب کا مارا
میری عادت کھری کھری کہنا
وہ سوال و جواب کا مارا
خوف میں مبتلا حقیقت سے
ہو گیا ایک خواب کا مارا
اس کو بھاتی کہاں ہے آسائش
دل جو ہو اضطراب کا مارا
تم رہے خار خار چلاتے
یار میں تھا گلاب کا مارا
تھا وہ عارض شمار رندوں میں
جس کو سمجھا شراب کا مارا
عارض ارشادنوہٹہ، سرینگر
7006003386

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں