97

دن بھر کی بھوک پیاس سے جلتا ہو ا بدن

غزل

منظر زیدی، لکھنو ٔ

دن بھر کی بھوک پیاس سے جلتا ہو ا بدن
کب تک جئے گا اور یہ جُھلسا ہوا بدن
انسانیت کی کھوج میں بھٹکا ہوا ہے آج
حیوانیت کے دار پہ لٹکا ہوا بدن
کتنا حسین ہو گیا پانی سے بھیگ کر
اس مختصر لباس میں سمٹا ہوا بدن
خوشبو سے اسکے پیار کی مہکا ہے آج بھی
لوگوں کی ہائے ہائے سے نچڑا ہوا بدن
انسانیت کے نام پر کچھ مانگتا ہے آج
ہچکی پہ ایک موت کی ٹھہرا ہوا بدن
اک بار جب سے جل گیا جسموں کی آگ میں
ڈرتا ہے تم سے ملنے کو سہما ہوا بدن
منظرؔ لباس پیار کا اک دن جلائے گا
حرص و حسد کی آگ میں جلتا ہوا بدن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں