ضلع انتظامیہ کولگام کی کاوشوں سے نورآباد سیاحتی نقشے پر نمودار 99

پاگل عورت

سبزار احمد بٹ

نجمہ روز کی طرح سڑک کے کنارے بیٹھ کر لوگوں کو تنگ کرتی تھی۔وہی پھٹے پرانے کپڑے، بکھرے بال،زرد ہونٹ ۔ڈراونی آنکھیں،اور سامنے ایک چھوٹی سی گڑیا ۔کبھی یہ عورت کسی کو گالیاں دیتی تھی تو کبھی کسی پر تھوکتی تھی۔کبھی کسی کو کاٹنے کو دوڑتی تھی تو کبھی کسی پر زور زور سے ہنستی تھی۔لوگوں نے اس راستے سے گزرنا تقریباً ترک ہی کیا تھا۔بہ مجبوری کوئی اس راستے سے گزرتا تھا ۔مسافر کانوں میں روئیاں ٹھوس کر اس راستے سے گزرتے تھے۔ کبھی بچے اس عورت کو چڑا رہے تھے تو کبھی اس کی طرف پتھر پھینک رہے تھے۔پاگل جو ٹھہری ۔اس دن میں اور نوید کسی کام سے جا رہے تھے ۔اس عورت کی یہ عجیب و غریب حرکتیں دیکھ کر میرے قدم یکایک رک گئے۔ نہ جانے کیوں مجھے میری ماں یاد آگئی ۔نوید نے مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا لیکن میرے قدم میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
نوید اس عورت کی ایسی حالت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس کے گھر میں کوئی نہیں ہے۔؟
نوید :-میرے دوست یہ عورت پاگل ہے لیکن اس کے پاگل ہونے کے پیچھے ایک لمبی کہانی ہے ۔آ تجھے آج اس عورت کی کہانی سناتا ہوں ۔ہم دونوں اس عورت سے تقریباً دس میٹر کی دوری پر ٹھیک مخالف سمت میں بیٹھ گئے۔
ہاں نوید تم اس عورت کے بارے میں کچھ کہہ رہے تھے۔
نوید ۔ہاں یہ ایک درد بھری کہانی ہے
دراصل نجمہ اپنے باپ کی اکلوتی بیٹی تھی ۔اس کی پرورش بڑے نازونعیم سے ہوئی۔والد محکمہ جنگلات میں بحیثیت رینج آفیسر کام کر رہے تھے اور والدہ گھر کا کام کاج کرتی تھی ۔دونوں نے نجمہ کو کافی لارڈ و پیار دیا۔کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔پڑھایا لکھایا یہاں تک کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کرائی ۔والدین نے نجمہ کی شادی سالک کے ساتھ بڑے دھوم دھام سے کرائی۔سالک محکمہ جنگلات میں بطورِ فارسٹ آفیسر کام کر رہا تھا ۔بڑے آرام سے زندگی گزر رہی تھی۔اب ان کے تین ہونہار ،سلیقہ مند اور فرمانبردار بچے بھی تھے۔بڑا بیٹا سحران انجینر بن گیا جبکہ چھوٹا بیٹا الیاس ابھی پڑھائی کے منازل طے کر رہا تھا اور چھوٹی بیٹی سلمہ بھی پڑھائی کر رہی تھی ۔سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا ۔ سالک کی اچانک موت واقع ہوئی اور اس جگہ الیاس کو تعینات کیا گیا ۔سالک کی وفات کے بعد نجمہ پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔خیر اس نے ہمت نہیں ہاری ۔وہ سالک کے سپنے سچ کرنے میں لگ گئی ۔بہت کچھ سوچتی تھی جیسے اب بیٹوں کی شادی کروں گی۔بیٹی کو پڑھا لکھا کر کسی اچھے خاندان میں بیاہ لوں گی ۔وغیرہ وغیرہ۔ایک دن گاؤں میں یہ خبر پھیل گئی کہ گاؤں کے نزدیکی جنگلات میں انکاؤنٹر شروع ہو گیا ہے۔لوگ اپنے اپنے گھروں میں سہم کر رہ گئے سوائے نجمہ کے۔۔۔۔۔۔یہ کہہ کر نوید کچھ پل کے لئے خاموش ہو گیا ۔
میں اس پاگل عورت کی حرکتیں بڑے غور سے دیکھ رہا تھا ۔میں نے بے خیالی میں نوید سے پوچھا وہ کیوں ؟
نوید۔۔۔لمبی سانس لیتے ہوئے ۔۔
نجمہ پریشان تھی کیونکہ اس کے بیٹے الیاس کی ڈیوٹی بھی ان ہی قریبی جنگلات میں تھی۔شام ہوتے ہی اچانک پولیس کے کچھ لوگ نجمہ کے صحن میں الیاس کی لاش لے کر نمودار ہوئے جو جنگلات میں ہوئی معرکہ آرائی کے دوران مارا گیا تھا ۔یہ خبر سنتے ہی نجمہ پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا۔پولیس آفیسر نے نجمہ سے کہا کہ آپ کا بیٹا گولیوں کے تبادلے میں مارا گیا ۔لیکن نجمہ جیسے پتھر بن گئی ۔عمر بھر کی کمائی جو ایک پل میں خاک میں مل گئی۔نجمہ ابھی اس صدمے سے لڑ ہی رہی تھی کہ اس کے بڑے بیٹے کو دوران ڈیوٹی نامعلوم مسلح برداروں نے گولی مار دی۔اور وہ اس جہان فانی سے چل بسا۔یہ خبر جب گھر پہنچی تو نجمہ کی چھوٹی بیٹی سلمہ جو پہلے ہی بھائی کی اچانک موت کی وجہ سے سکتے میں تھی دوسرے بھائی کی موت کا صدمہ برداشت نہ کر سکی اور اس نے خودکشی کی۔اس طرح سے نجمہ کا سب کچھ لٹ گیا وہ باؤلی ہو گئی ۔ وہ اپنے محل خانے میں اکیلی رہ گئی ۔جیسے یہ محل خانہ اسے کاٹنے کو دوڑتا تھا۔اسے اپنے مکان سے ڈر لگنے لگا ۔اس طرح سے نجمہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی اور اس نے اپنے مکان کو آگ لگا دی۔تب سے نجمہ پاگلوں کی سی زندگی گزار رہی ہے ۔در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں ۔ محلوں کی اس رانی کو کبھی چار دن کے بعد کھانا ملتا ہے ۔تو کبھی گندی نالیوں سے کچھ اٹھا کر کھا لیتی ہے ۔۔دن رات سڑکوں پر گزار رہی ہے ۔چیختے چلاتے ہوئے جب تھک جاتی ہے تو لوگوں سے پانی مانگتی ہے کھانا مانگتی ہے لیکن کوئی اس کے سامنے نہیں جاتا ہے ۔ کہیں پر غش آتا ہے اور گر پڑتی ہے ۔نجمہ کی کہانی سن کر میری آنکھیں بھیگ گئیں ۔ٹپ ٹپ آنسوں گرنے لگے۔ اور نوید کی آنکھیں بھی آبدیدہ ہو گئیں ۔مجھے اس عورت میں ایک ایسی ماں نظر آئی جس کا سب کچھ لٹ گیا ہو۔میں جان گیا کہ یہ عورت یوں ہی پاگل نہیں ہوئی ہے۔
نوید چلو اس عورت کے نزدیک جاتے ہیں ۔میں نے آنسو پوچھتے ہوئے کہا ۔
نہیں یار یہ کاٹنے کو دوڑتی ہے بلا اس کے نزدیک کون جائے گا۔نوید نے اپنے کورٹ کی سلوٹیں سنبھالتے ہوئے اس عورت کے پاس جانے سے صاف انکار کیا۔
خیر میں اس عورت کے نزدیک گیا جو پانی مانگ رہی تھی اور نہ جانے انگریزی میں کیا بڑبڑا رہی تھی ۔تعلیم یافتہ جو ٹھہری۔
میں نے ڈرتے ہوئے کہا، ماں کیا چاہیے ۔جیسے ہی میرے منہ سے ماں لفظ نکلا۔اس کا تو جیسے سارا پاگل پن دور ہو گیا ۔مجھ سے لپٹ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔میں بھی بے قابو ہو گیا ۔اور آس پاس کے کچھ لوگ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ہم دونوں اس طرح رو رہے تھے کہ جیسے صدیوں پہلے بچھڑے ماں بیٹے اچانک ایک دوسرے سے مل رہے ہوں ۔
نجمہ کی تو ہچکی بند گئی روتے ہوئے کہتے تھی تم سالک ہو، الیاس ہو کہاں گئے تھے مجھے چھوڑ کر، میں تو تمارے منہ سے ماں سننے کے لیے ترستی تھی۔نجمہ نے زمین پر پڑی گڑیا اٹھائی اور مجھے کہنے لگی۔یہ دیکھو سلمہ کتنی بڑی ہو گئی۔ میں بس روتا رہا ۔میں نے سنا تھا کہ ماں اگر پاگل بھی ہو جائے تو پھر بھی اسے اپنے بچوں کے نام یاد رہتے ہیں آج یہ منظر دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔۔اتنے میں نجمہ روتے روتے گر پڑی اور بے ہوش ہو گئی ۔میں نجمہ کو پانی پلانے کی کوشش کر رہا تھا اور اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا۔میں نےمڑ کے دیکھا تو لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد جمع ہو چکی تھی۔کچھ لوگ مجھے دیکھ کر حیران تھے۔اور کچھ لوگ سرگوشیاں کر رہے تھے کہ یہ پاگل عورت ۔۔.۔۔۔۔۔میں نے چیخ چیخ کر لوگوں سے کہا .کیا دیکھ رہے ہو یہی نا کہ یہ پاگل عورت اس قدر سنجیدہ کیوں کر ہوئی؟ میں نے اس میں ایک ماں کو دیکھا ہے ۔لیکن آپ لوگوں نے کبھی اس کا درد محسوس نہیں کیا ہے۔ یہ آپ کی طرح ایک انسان ہے ۔بس حالات نے اسے ایسا بنا دیا۔میں نے چیخ چیخ کر لوگوں سے کہا کہ کاش تم سب نے اس عورت کا درد محسوس کیا ہوتا ! تو آج آپ سے نفرت بھری نظروں سے نہیں دیکھتے۔میرے لیے یہ ایک ماں ہے ماں ۔جبکہ تمارے لیے یہ صرف ایک پاگل عورت ہے ۔صرف ایک پاگل عورت ۔ہاں ہاں صرف ایک پاگل عورت!!!!! “”
سبزار احمد بٹ
اویل نورآباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں