حضرت ابراھیمؑ کا کردار اور وقت کا طاغوتی نظام 87

بیت المقدس اُمتِ مسلمہ کے اتنی اہمیت کی حامل کیوں….؟

شہنواز مصطفوی ۔۔۔پلہالن پٹن

بیت القدس یعنی مسجد اقصیٰ کے لئے قرآن نے جو تعارف دیا ہے وہ ان الفاظ میں دیا(مسجد الاقص لالذی بارکنا) یعنی جس کے گرد اگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں۔
Whoes Surroundings we have blessed اگر روحانی اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ مقام کتنے انبیاء اور رسل کا مدفن اور فیوض و انوار کا زر چشمہ رہا ہے دینی برکت یہ کہ وہاں بکثرت انبیاء عظام مدفون ہیں یہ وہ سر زمین ہے جس کی طرف حفرت ابراہیم علی نبینا علیہ صلواة وسلام نے بھی ہجرت فرماکر کچھ عرصہ تک یہاں قیام فرمایا حضرت موسیٰ علیہ سلام کے بعد سے لے کر حضرت عیسی علیہ سلام کی بعثت تک یکے بعد دیگرے مسلسل رسول آتے رہے حضرت موسیؑ کے زمانے سے لے حضرت عیسیؑ کے زمانے تک جتنے بھی رسول مبعوث ہوئے سب نے بنی اسرائیل کو تورات پر ایمان لانے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کا حکم دیا حضرت موسیٰ علیہ سلام نے اپنے رب سے التجاء کی کہ جب میری موت کا وقت آئے تو مجھے بیت القدس کی سر زمین میں پہنچانا یہ وہ سف زمین ہے جس پر موت کی دعائیں وقت کے پیغمبر نے اپنے
رب سے مانگی ہے
مسجد اقصی (بیت القدس) وہ عظیم سر زمین ہے جس کی طرف حضور ﷺ نے سترہ یا اٹھارہ مہینے تک نمازیں پڑھیں ہے گو کہ یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے قبلہ اول کی حیثیت بھی رکھتی ہے اسی عظیم اور مقدس جگہ پر معراج کی رات حضور اقدس ﷺ نے تمام انبیاء علیہ سلام کی امامت بھی کرائی ہے یہ عظیم سر زمین ہمارے لئے شعائر اللہ کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ جس جگہ یا جس چیز کے ساتھ بھی کسی انبیاء علیہ سلام کی نسبت ھو جائے اس کی تعظیم اور توقیر ہر مومن مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اور ان شعائراللہ کی تعظیم کو اللہ عزوجل نے تقویٰ کا حصول گردانا ہے حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ یہ امت اس سر زمین کی وارث ہے
بیت المقدس وہی عظمت والی جگہ ہے جس میں بنی اسرائیل کو عاجزی اور انکساری کے ساتھ داخل ھونے کا حکم اللہ رب العزت نے بذریعہ وہی حضرت موسیٰ ؑ کو دیا (واذ قلنا ادخلو ا ھذہ القریة) سیدنا موسیٰؑ اور ان کے قوم کی اصل منزل فلسطین اور اردن کا علاقہ تھا جہاں اس وقت طاقتور اور جابر قوم حکمران تھی سیدنا موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کو اللہ کے حکم سے ان ظالموں کے خلاف جہاد کی ترغیب دی کیونکہ اس جدوجہد کے بغیر وہ اپنے لئے ایک با وقار ذندگی کی ضمانت حاصل نہیں کر سکتے تھے لیکن ایک عرصہ دراز تک غلامی کی زندگی بسر کرنے والی قوم کے اعصاب جواب دے چکے تھے انہوں نے جہاد سے انکار کیا اور حضرت موسیٰؑ سے کہنے لگے کہ جب تک فلسطین سے جابر و قاھر حکمران نکل نہیں جاتے ہم اس میں ہرگز ہرگز داخل نہیں ھونگے گویا وہ چاہتے تھے کہ فلسطین کی آزاد ریاست کوئی انہیں طشتری میں رکھ کر انہیں پیش کردے لیکن بنی اسرائیل یہ بھول گئے تھے کہ عروس آزادی سے ہمکنار ھونے کے لئے اپنی دونوں ہتھیلیوں پر اپنے لہو کے چراغ جلانے پڑتے ہیں حضرت موسیٰؑ قرآن کی زبان میں اپنی قوم سے یوں گویا ھوئے (یا قوم ادخلو المقدسة التی کتب اللہ لکم ولا ترتدو اعلی ادبارکم فتنقلبو ا خاسرین)ائے میری قوم ملک شام یا بیت المقدس کی اس سر زمین میں داخل ھو جاو جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے اور اپنی پشت پر پیچھے نہ پلٹنا ورنہ تم تقصان اٹھانے والے پلٹو گے Oh my people Enter the holy land (of syria or Bayt al-almuqadas{jerusalem}(which Allah hasdecreed for you and do not turn back (in retreat)or you will turn back as losers بنی اسرائیل قوم ایک ضدی قوم تھی ہف بات کو اپنے مطالبات کی بجا آوری سے مشروط کردیتی تھی عجب تضادات کی حامل قوم تھی اور آج بھی پوری دنیا میں یہ قوم فتنہ و فساد کا باعث بنی ھوئی ہے آج بھی یہ قوم فلسطین کے نہتے ۔سلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہے اور دنیا کے سامنے سیکیلرزم اور امن پسند ھونے کا ڈھونگ رچا رہی ہے فلسطین کی سرزمین کے اصلی وارثوں کو وہاں سے بے دخل کرنے کی اور وہاں کے مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہے یہ لوگ امن عالم کی آڑ لے کر اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی کردار کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔اس قوم نے تب بھی اپنے پیغمبر حضرت موسیٰؑ کی تعلیمات کو ٹھکرا کر ان سے کہا کہ پس تم جاو اور تمہارا رب (ساتھ جائے) سو تم دونوں وقت کے جابروں اور ظالموں سے جنگ کرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں {فاذ ھب انت و ربک فقاتلا ھاھنا قاعدون}so you (along with your lordgo and fight we are sittinv right here اس نافرمانی کی سزا انہیں یہ ملی کہ ان یہود پر اللہ عزوجل نے چالیس سال تک فلسطین کی سر زمین کو حرام کردیا
وہ قومیں جو اپنی تلواریں نیام میں کر لیتی ہیں اور جہاد سے منہ موڑلیتی ہیں ذلت ورسوائی ان کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے جہاد کا جذبہ سرد خانے کی نظر ھو جائے اور لہو کی گردش میں جہد عمل کی روشنی نہ بنے تو قوموں پر جمود طاری ھو جاتا ہے اور وہ بے عملی کا شکار ھو کد اپنے اقتدار اعلیٰ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ بنی اسرائیل نے اللہ عزوجل کے فرمان اور اپنے پیغمبر کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ھوئے وقت کے طاغوتی نظام سے ٹکرانے سے انکار کیا تو نتیجتًا قعر ذلت میں جا گری ۔یہ وہی مقدس سر زمین ہے جس کو یہود نصاریٰ سے آزاد کرانے کے لئے خلیفہ دوم حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ نے پندرہ ہجری(15 ھ636ء) میں حضرت عمرو بن العاص ؓ کی قیادت میں ایک لشکر فلسطین کی طرف روانہ کیا اور دشمنوں نے ان سے ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کر کے انہیں شہید کرنے کی کوشش کی تھی جسے اس عظیم اسلامی چرنیل نے اپنی کمال جراءت اور ھوشیاری سے ناکام بنادیا تھا اور اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا تھا کہ ہمارا ارطبون رومیوں کے ارطبون سے ھوشیار نکلا ۔پھر سولہ ہجری (16 ھ 637) میں حضرت عمرؓ کا حکم موصول ھونے پر ابا عبیدہ بن جراحؓ بھی اجنادین پہنچ گئے اور اسلامی لشکر کی کمان اپنے ہاتھ میں لے کر یروشلم کی طرف بڑھے اور ابو عبیدہ بن جراحؓ نے القدس (یروشلم) کا محاصرہ کیا اور وہاں کے رومی گورنر ارطبون کو کچھ ان الفاظ میں خط بھیجا ہم چاہتے ہیں کہ تم لوگ اس بات کا اعلان کرو کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ عزوجل کے رسولﷺ ہیں۔نیز یہ کہ یوم الحساب برحق ہے اور اللہ عزوجل ہمیں مرنے کے بعد پھر زندہ کرے گا اگر تم ان باتوں کا اقرار کر لو اور اعلان کردو تو ہمارے لئے تمہارا خون گرانا تمہارا مال لینا اور تمہارے بچوں پر قبضہ کرنا حرام ھو جائے گا اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو خراج اور چزیہ دینے پد رضا مند ھو جاو یہ بھی منظور نہیں تو میں تم پر چڑھائی کرنے کے لئے ایسے آدمی بھیجوں گا جو موت کو اسی شوق سے قبول کرتے ہیں جس شوق سے تم شراب پیتے ھو اور سود کا گوشت کھاتے ھو اس خط کے موصول ھونے پر رومی گورنر ارطبون اور شھر کے مقدس اور ممتاز لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا تھا اور یہودیوں اور عیسائی پادریوں نے ارطبون کو بتایا تھا کہ مقدس کتابوں کی پیشن گوئیاں کہتی ہیں کہ مسلمان القدس کو فتح کر لینگے ارطبون ڈر کر مصر کی طرف بھاگ گیا تھا القدس کے ایک مذہبی شخصیت نے جس کز نام عیسائی ریکارڑ میں سفر ونیٓیس ظاہر کیا گیا ہے مسلمانوں سے مصالحت کرنے کا فیصلہ کر لیا اوف شہر سے باہر اسلامی لشکر کے کیمپ میں جا کر اپو عبیدہ ؓ سے ملاقات کی اور انہیں شہر کے مقدس ھونے کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ جو لوگ یہاں اس شہر میں معاندانہ حیثیت سے داخل ھوں گے ان پر خدا کا قہر نازل ہوکر رہے گا یہ سازش ایسی ہی ہے جیسے رجب کے مہینے میں جب مديٖنہ طیبہ کے گشتی لشکر کا سامنا مشرکینِ مکہ سے ہوا تھا اور انہوں نے مسلمانوں پر رجب مہینے کی حرمت کو پامال کرنے کا الزام لگایا تھا جس پر اللہ تعالی نے مسلمانوں کے حق میں آیت نازل فرما کر کفار کو جواب دیا تھا کہ مکہ سے مسلمانوں کو حجرت کرواکر بھلا تم کس حرمت کی بات کرتے اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے یہ فرماتے ہوئے جواب دیا تھا کہ ہم جانتے ہیں بیت المقدس انبیا کے تو لد کی جگہ ہے اور معراج بھی وہی سے ہوئی مسجد اقصیٰ میں ہمارے پیارے آقا صل اللہ علیہ وسلم نے انبیا علیہ سلام کی امامت بھی فرمائی تھی اس لئے ہم پر اس کی حفاظت کا زیادہ حق ہے بنسبت آپ کے ہم اس نظام کے منتظر ہیں جس کے زریعے ایسا ہوگا ہم محاصر اور جدو جہد جاری رکھیں گے جب سفروئنس نے مسلمانوں کا حوصلہ دیکھا ان کی غير متزلزل آواز دیکھی تو اس نے ابو عبیدہ سے کہا ہم خود مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بیت المقدس ديٖنے والے ہیں اس لئے دعوت نامہ بھی پیش کیا کسی نے کیا خوب عکاسی کرتے ہوئے فرمایا ہے
دشت تو دشت صحرا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بہرِ ظلمات میں دوڑاے ہیں گوڑھے ہم نے
حضرت عمر فاروق اعظمؓ جب بیت القدس کی طرف روانہ ھوئے تو ان کے ساتھ ایک گوڑے ،ایک غلام اور ستووٓں اور چھوہاروں کی ایک گٹھڑی ،پانی کے مشکیزے اور لکـڑی کی ایک قاب سے زیادہ کچھ نہ تھا وہ امیر المومنین خلیفتہ المسلمین جن کی فوجیں کسرائے ایران کو عراق اور قیصر روم کو ملک شام سے بے دخل کر چکی تھیں اتنی سادگی سے مدینے سے روانہ ھوئے ۔آپ نصف منزل خود گھوڑے پر سوار ھوتے اور نصف منزل اپنے غلام کو گھوڑے پر بٹھاتے اور اس غلام کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے ۔آپ نے یروشلم پہنچ کر رات اسلامی فوج کے کیمپ میں فوج کے ساتھ گزاری ۔صبح القدس کا بطریق (لارڈ پادری) دوسرے لوگوں کے ساتھ حاضر خدمت ھوا۔القدس امیرالمومنین حضرت عمر فاروق اعظمؓ کے حوالے کیا گیا اور معاہدہ مرتب ھوا جس پر جانبین نے دستخط ثبت کئے ۔یہ اللہ عزوجل کے اس فرمان کی عملی تفسیر تھی (وعداللہ الذین امنو امنکم وعملو الصالحات لیستخلفنھم فی الا رض کما ستخلف الذین من قبلھم و لیمکن لھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدلنھم من ببعد خوفھم امنا) ۔
اللہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کرتے رہے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی ان سے پہلوں کو دی اور ضرور ان کے لئے جمادے گا ان کا وہ دین جو ان کے لئے پسند فرمایا ہے اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن میں بدل دے گا۔
To those of you who believe and keep doing pious deeds Allah has given promise(whose fulfilment and implementation is obligatory for the umma {comunity} ):He will surely bestow upon them Khilafa (The trust of right to) rule those who were before them. And (through dominance and rule) He will strengthen and stabilize their Din {Religion} for them which He has Liked fof them and {By this strenght and rule } He will for sure Change their former state of fear (which was due to their POLITICAL ۔ECONOMIC and SOCIAL handicap) to that of peace and security .
اس کے بعد حضرت عمرؓ بیت القدس میں اللہ عزوجل کا شکر بجا لاتے ھو ئے داخل ھوئے اور ان مقدس مقامات کی زیارت فرمائی جو مسلمانوں کے لئے شعائراللہ کی حیثیت رکھتے ہیں قبتہ الصخریٰ کا پتھر جس پر حضرت یعقوبؑ نے تکیہ لگا کر خواب دیکھا تھا گرد غبار پڑا تھا رسول اکرم ﷺ معراج کی شب اسی پتھر پر قدم رکھ کر براق پر سوار ھوئے تھے ۔حضرت عمرؓ نے اپنے ہاتھوں سےطاس پتھر کی صفائی کی اس کے بعد امیر المومنین ؓ نے یروشلم کے لارڈ پادری سے شرائط طئے کیں اس طرح یہ عظیم سر زمین یہود و نصاریٰ کے تسلط سے حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں آزاد کرائی گئی
بیت المقدس جس کی عظمت اور حفاظت کے لئے مسلمانوں نے اپنے جانوں کے نذرانے پیش کئے تھے بد قسمتی سے اور مسلمانوں کی بے اتفاقی اور اقتدار کی خاطر غداری کرنے والوں کی وجہ سے پھر ایک باد صلیبیوں کے قبضے میں چلی گئی بیت المقدس کے اندر کے حالات مسلمانوں کے لئے غیر معمولی تھے یہاؓ مسلمانوں پر جو ظلم وتشدد ھو رہا تھا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی تھی جب صلیبی فوج شہر میں داخل ھوئی تو وہ کونسا ظلم تھا جو مسلمانوں پر نہ کیا گیا مسلمان مردوں بچوں بوڑھوں کا قتل عان کیا گیا ذندہ رہنے دیا تو صرف جوان لڑکیوں کو جو ان درندوں کی درندگی کی اذیتوں سے شہید کی گئیں ۔
ان ہی حالات میں اللہ عزوجل نے امت مسلمہ کی مدد کے لئے اور مسجد اقصیٰ کو صلیبیوں سے آزاد کرانے کے لئے حضرت سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کو اسلامی لشکر کا جرنیل بنا کر بھیجا ۔سلطان صلا ح الدین ایوبیؒ کو بیت المقدس کی بے حرمتی اور وہاں کے مسلماںوں پر وحشیانہ مظالم کی روئیداد اس کے باپ نجم الدین ایوبی نے بچپن سے سنانی شروع کی تھی یہ منظر اور حالات سلطان کے دل و دماغ اور خون میں پیوست ھو گئے تھے اس عظیم مقصد کے لئے اس عظیم مجاھد نے اپنے دس بیٹو کی خود فوجی تربیت کر کے اس عظیم مقصد کی خاطر اپنی فوج میں شامل کر لیا کیوںکہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے مسلمان بیت المقدس کو اپنا نظریاتی مرکز سمجھتے تھے ااور اب بھی ہے
15 رجب 385 ھ 20 ستمبر اتوار کی صبح تھی جب سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ حیران کن تیز رفتاری سے بیت القدس پہنچ گیا بیت المقدس کے تمام گرجوں میں گھنٹے مسلسل بج رہے تھے شہر کے باہر سلطان ایوبیؒ کی فوج پر عزم اور استقلال کے ساتھ اللہ اکبر کے نعرے بلند کد رہے تھے جن کی جبینوں پر اپنے حق پر ھونے کا غیر متزلزل یقین صاف جھلک رہا تھا دوسری طرف باطل اور طاغوتی نظام کے علمبردار صلیبیوں کو اپنی شکست صاف نظر آرہی تھی شہر کے اندر موجود مظلوم مسلمانوں کی کیفیت یہ تھی کہ وہ اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے ۔یہ اتفاق تھا یا سلطان صلاح الدین ایوبی کا پلان ہی ایسا تھا یاکہ خدائے ذولجلال کا منشاء یہی تھا کہ اسلام کا یہ عظیم جرنیل لشکر اسلام کا یہ مایہ ناز سپہ سالار بروز جمعہ 2 اکتوبر بمطابق 27 رجب 385 ھ بیت المقدس کے اس عظیم شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ھوا ۔سلطان صلاح الدین ایوبیؒ سب سے پہلے مسجد اقصیٰ گیا جذبات کی شدت یہ تھی کہ مسجد کی دہلیز پر گھٹنوں کے بل جیسے گرپڑا ھو اور سجدہ ریز ھو کر اللہ کی بارگاہ میں شکر ادا کیا اور حالت یہ تھی کہ آنکھوں سے آنسوں اس طرح بہہ رہے تھےکہ جیسے مسجد کی دہلیز کو اپنے آنسووں سے دھو رہیں ہوں اب ضروت اس بات کی ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ بیت المقدس ہماری لئے کتنا اہم ہے اور یہ مسجد آج بھی اسی انتظار میں ہے کہ اس دور کا کوئی ایوبی آجائے اور مجھے ان صلیبیوں سے آزاد کرائے جو ہر روز میرے تقدس کو پامال کرتے ہیں اور جو ہر روز مجھے اپنی جبینوں کے سجدے سے آباد کرنے والے نہتہے مسلمانوں کا لہو پانی کی طرح میرے سینے پر بہاتے ہیں جو ہر روز امت مسلمہ کی معصوم کلیوں کو روند کر میری چھاتی پر دھندناتے پھرتے ہے میرے ارد گرد مومنین کو عزاب دے رہیں ہے اس بات سے قطعی انکار کی گنجائش نہیں کہ مسلمانوں کو اٹھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے اور کھڑا ہوکر حضرت عمر جیسی حکمت ایوبی جیسا دبدبہ اور ارتغل غازی جیسا جنون پیدا کرنا ہوگی تاکہ بیت المقدس پھر سے مسلمانوں کی میراث بن سکے کیوں کہ یہ مقدس جگہ آج بھی اسی انتظار میں ہے کہ ان صلیبیوں کے ہاتھ روکنے والا اللہ کا عظیم آے اور مجھے راحت دے……

شہنواز مصطفوی ۔۔۔پلہالن پٹن
فون نمبر 6006488850
�����

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں