افسانہ نگار: حیدر ندیم
ترجمہ کار :پرویز مانوس
میری خوب پٹائی ہوئی تھی، اُس کی تو بات ہی نہیں۔ اَبّا جان نے بھی مجھے اتنا پیٹا کہ میرے جسم کا ایک ایک انگ دُکھ رہا تھا ، کئی ہفتے ، مہینے اور سال گُزر گئے، میرے جسم پر لگے ہوئے زخم تو بھر گئے لیکن روحانی زخموں کا کوئی علاج نہ ہو سکا۔
میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کتابوں میں اِس دُنیا کے صاحبِ ثروت اور صاحبِ اقتدار لوگوں کو غریب غُرباء اور محتاج عوام کا سہارا کہا جاتا ہے، لیکن یہ دُنیا۔۔۔۔۔۔۔،
یہ کیسی دُنیا ہے، آج کی دُنیا۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح کھیت کو حفاظت کے لئے باڑ لگائی جاتی ہے اِسی طرح یہ لوگ تو غریب غرباء اور محتاج افراد کی باڑ سمجھی جاتی ہے،
لیکن یہ باڑ تو فصلوں کو کھانے کے در پر ہے____
اور اتنی بھوکی باڑ۔۔۔۔!
ولی جُو صاحب ہمارے گائوں کے ایک بُزرگ ، با عزت اور با عظمت انسان تھے۔ جس دور میں انہوں نے دسویں جماعت پاس کی، اُس دور میں پورے گائوں میں چند ہی لوگ پڑھے لکھے تھے اور وہی ملازم بھی تھے، ولی جو صاحب بھی محکمہ تعلیم میں بطورِ اُستاد تعینات ہو گئے، انہوں نے دوران سروس انتھک محنت کی اور اپنے گائوں میں بالخصوص تعلیم کی روشنی میں بے حد اضافہ کیا۔ اُن کی شرافت، متانت، دیانتداری اور ایمانداری کے چرچے ہر جگہ ہونے لگے۔ بازار میں نکلتے ، ڈیوٹی کے دوران، نماز کے وقت، کھلیانوں میں کام کے دوران۔ گائوں کی مجالس میں، خوشی اورغم میں، لوگ اُن کا بے حد احترام کرتے تھے، اُن کی ہر بات کو اقوالِ زریں کی اہمیت حاصل تھی۔ وہ تھے بھی اِسی احترام کے قابل۔
گائوں کے ہر شخص کے دُکھ دَرد میں شریک رہتے تھے۔
ہنسنے والوں کے ساتھ ہنستے اور رونے والوں کے ساتھ روتے۔ اُن کے اہل خانہ بھی کافی شائستہ اور انکساری میں رہتے۔
اُن کے بیٹی نہایت ہی خاموش طبیعت، سنجیدہ اور لوگوں کے ہمدرد، اُن کی بیگم کا تو جواب ہی نہیں تھا، وہ پورے گائوں کے لئے شرینی کی طرح تھیں،
ولی جُو صاحب تو ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی لوگوں کی آنکھوں کا تارا تھے۔
حکومتِ وقت کی طرف سے اچانک پنچایتی الیکشن کا اعلان ہو گیا۔ اِس بار پنچایتوںکو زیادہ اختیارات دے کر خود مختار بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ نئی نئی اسکیموں کے تحت کافی رقومات دستیاب رکھی گئی تھیں۔ پوری ریاست میں پنچایتی الیکشن کی سر گرمیاں تیز ہو گئیں، ہمارے پنچایت حلقے میںایک طرف سے ریٹائرڈ بی ڈی او احد صاحب اُمیدوار تھے، ٹھیکیدار ملک صاحب اور ریٹائرڈ گرداور کریم صاحب نے بھی فارم بھر دئیے، لیکن حلقے کے لوگ اِ ن سب اُمیدواروں کو کافی اچھی طرح جانتے تھے کہ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران کیسے کیسے کارنامے انجام دئیے ہیں، لہذا حلقے کے لوگوں نے مشورہ کیا کہ ولی جُو کو سر پنچ کے لئے تیار کیا جائے، کافی مِنت سماجنت کے بعد ولی جُو لوگوں کی خدمت کے لئے تیار ہو گئے اور ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں فارم بھر دیا، الیکشن ہوا لوگوں نے بڑی تعداد میں جمہوریت کے حق میں ووٹ ڈالے، نتیجے ظاہر ہوئے تو ولی جُو صاحب اکثریت کے ساتھ جیت گئے اور باقی تمام اُمیدواروں کی ضماتیں ضبط ہو گئیں، لوگ بھی بے حد خوش ہو گئے کہ اُنکی عزت، اُنکی عصمت اور ڈیولپمنٹ مضبوط اور دیانتدار ہاتھوں میں پہنچ گئی۔ یہی دیانتداری اور ایمانداری کی باڑ ہمارے سماج کو، ہماری حقوق کو محفوظ رکھے گی لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا۔۔۔!
اقتدار انسان کو اندھا بنا دیتا ہے، دیکھتے ہی دیکھتے ولی جُو صاحب کا روّیہ بھی بدل گیا۔
پنچایتی فنڈس، نریگا فنڈس اور آئی ۔اے۔ وائی کی تقسیم چند گھروں بلکہ اُنکے رشتہ داروں تک ہی محدود رہ گئی۔
ایم ۔ایل۔اے ، تحصیلدار، تھانیدار، بی ڈی او، ایگزیکٹیو انجنئیر اور بڑے بڑے افسر سر پنچ صاحب کے دوست ہو گئے۔
تمام سرکاری اور غیر سرکاری مٹینگوں میں سر پنچ صاحب کو مدعُو کیا جانے لگا۔ اب سر پنچ صاحب حلقے کے عام آدمیوں کے ساتھ سیدھے مُنہ بات کرنا بھی گوارا نہ کرتے تھے۔ سرکاری فنڈنگ کے خرچ کرنے کے بارے میں پوچھنے والے کوکوئی نہ کوئی جھوٹا معاملہ بنوا کرتھا نیدار سے بلوا لیتے پھر اِس خوف سے لوگوں کے ہونٹ سِل گئے۔ سر پنچ صاحب کے بیٹے جنہیں لوگ فرشتہ صِفت سمجھتے تھے، شیطان سے بھی بدتر ہو گئے، اب تو گائوں میں شریف لوگوں کا سر اُٹھا کر چلنا محال ہو چُکا تھا۔
میں نے اُس سال باررویں جماعت کا امتحان امتیازی نمبر ات کے ساتھ پاس کیا تو میری خالہ نے مجھے تحفتاً پھکاری والاکمبل اوڑھا دیا۔ میں وہی کمبل اوڑھ کر مسجد کے پاس اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ محوِ گفتگوتھا کہ دفعتاً سر پنچ کے دونوں بیٹے وہاں سے گُزرے، میں نے اُنھیں دیکھ کر ان دیکھا کر دیا۔ ہمارے قریب سے گزر کر وہ تھوڑا دور جا کر کھڑا ہو گئے اور مجھے ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بُلایا، میں خراماں خراماں چلتے ہوئے اُن کے پاس پہنچا اور ادباً سلام کیا کہ اتنے میں ایک نے میرے کاندھوں سے کمبل کھینچ لیا۔۔ آہا۔۔ آہا کتنا خوبصورت پھلکاری والا کمبل ہے یہ تمہارے کاندھوں پر زیب نہیں دیتا، اسے میرے کاندھوں پر ہونا چاہیے! دوسرے بھائی نے جھپٹ کر کہا،، نہیں بھائی یہ میں اوڑھوں گا۔۔! میں اُن کا یہ روّیہ دیکھ کر آگ بگولہ ہو گیا،، یہ تم لوگ کیا کر رہے ہو؟ لائو واپس کرو میرا کمبل، میں یہ کسی کو نہیں دونگا۔ یہ میری خالہ نے مجھے تحفہ دیا ہے، بس اتنا کہنا تھا کہ وہ دونوں مجھ پر جھپٹ پڑے، تمہاری اوقات ہے یہ اوڑھنے کی؟ میں نے زور زور سے چلانا شروع کیا تو شور سُن کر لوگ اکھٹے ہو گئے دریں اثنا مسجد سے ابّاجان بھی نِکل آئے اور دریافت کیا کہ ماجرا کیا ہے؟ وہاں موجود لوگ کہنے لگے،،
آپ کا بیٹا نہایت ہی مغرور اور بدتمیز ہے اِس نے سر پنچ صاحب کے صاحبزادوں کے ساتھ بدتمیزی کی، اُن سے پھلکاری والا کمبل واپس مانگ رہا ہے، اُنھیں پسند آگیا تو خوشی خوشی دے دو،،
یہ بات سُنتے ہی ابّا جی نے مجھے پیٹنا شروع کر دیا،،
دو لفظ کیا پڑھ لئے تو نے سر پنچ صاحب کے صاحبزادوں کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرنا اپنا حق سمجھ لیا، اُن سے کمبل واپس مانگ رہا ہے۔
واقعی یہ پُھلکاری والا کمبل اُن پر ہی سجتا ہے۔
میرا پُھلکاری والا کمبل تو وہ لے گئے لیکن میں ابھی تک سوچ رہا ہوں کہ یہ جبر اور ظلم کیسا ہے۔
بادشاہوں کے بیٹے شہزادے بن کے اور انگریز لاٹ صاحب بن کر غُنڈا گردی کرتے رہیں۔
نوابوں کے بیٹے نواب زادے اور مہاراجے کے بیٹے راجکمار بن کر استحصال کرتے رہیں۔
غریب عوام نے آزادی کی جنگیںلڑ کر اُن ظالموں سے نجات حاصل کی، اپنا لہو بہایا ، اولاد کی قربانی دی پھر جمہوریت لائی۔ جمہوریت۔۔ ہاں یہ جمہوریت جس میں منتری کا خاندان ساری ریاست کے غریب لوگوں کی کھال اُتارنے میں لگا ہوا ہے۔ ایک ایم ایل اے کا خاندان اپنے علاقے میں لوگوںکی عزت و عصمت کی کھلی اُڑاتا پھرتا ہے کیونکہ اُس کے پاس جمہوری حقوق ہیں اب نوبت پہ آگئی کہ سر پنچ کا عیال غریب لوگوں کے کاندھے پر پُھلکاری والا کمبل بھی برداشت نہیں کرتا وہ بہو بیٹیوں کی اوڑھنی کو کیا دیکھیں گے۔ میرے چھینے ہوئے کمبل کا کیا ہوگا،یہ دوسری بات ہے لیکن کب تک جمہوریت کے نام پر ہم تماشہ دیکھتے رہیں گے۔
