سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ‎ 79

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ‎

تحریر:- اعجاز مجید
پاندوشن شوپیان

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ مسلمانوں کے لیے بالخصوص اور باقی مذاہب کے لوگوں کے لیے بالعموم نہایت ہی زیادہ فائدہ مند ہے۔تمام انسانیت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ایک ایسی روشنی فراہم کرتا ہے کہ جس کی کرنوں سے انسان کی زندگی روشن اور تابناک ہوتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے ہر ذی فہم اور ذی شعور شخص کے اندر ایک ایسا جذبہ ازخود جنم لیتا ہے کہ وہ برائیوں سے دور اور اچھائیوں کے قریب آتا ہے۔اس کے اندر خرابیوں سے نفرت اور نیک کاموں سے محبت و الفت پیدا ہوجاتی ہے۔سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ میں ایک ایسی کشش اور اثر ہے کہ اس سے انسان کے کردار پر مثبت اثر پڑتا ہے۔آپ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ انسان کے دل و دماغ کو متاثر کئے بغیر نہیں چھوڑتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرکے آپ کے اخلاق ، دیانتداری ، راست بازی، وفا پرستی ، سچائی ، مہمان نوازی کے واقعات پڑھ کر دنیا کے بے شمار لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے ہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی مکمل رہنمائی فرماتی ہے۔عہد رسالت سے پہلے جب عرب جہالت کے دور میں اس قدر ڈوبا ہوا تھا کہ چاروں اطراف ظلمت و تاریکی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی روشن و تابناک تھی اور اسی روشنی سے عرب آہستہ آہستہ اندھیرے سے روشنی کی طرف آ گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہالت کے اس دور میں بھی ایک امانت دار تاجر ، شرم و حیا کے پاسدار ، یتیموں ، مسکینوں ، محتاجوں کے غمخوار، وفا پرست بہترین شوہر ،اچھے ساتھی، امانت و صداقت کے علمبردار غرض ایک بہترین انسان ابھر کے سامنے آگئے۔ اپنے تو اپنے غیر بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ وسلم ایک نہایت ہی بہترین اور ممتاز شخصیت کے طور پر اس دور میں رونما ہوئے جہاں شاذ و نادر ہی کہیں روشنی نظر آتی تھی۔
بعثت نبوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس حوصلہ اور جذبہ کے ساتھ مخلوق خدا کو اپنے خالقِ حقیقی اور معبود برحق سے جوڑنے کی کوشش کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔دنیا کی تاریخ ایسی جدوجہد ،محنت و مشقت اور صبر کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم الشان دعوت نے صحرا کو گلستاں بنایا ، اندھیرے کو روشن اور تابناک کیا اور دشمنوں کو دوست بنایا ۔ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے تھے وہ آپ کی نورانی تعلیم و تربیت سے ایک دوسرے پر مر مٹنے والے بنے۔آپ کے راستے میں بہت رکاوٹیں آئیں، بہت تکالیف سے آپ کا سامنا ہوا ، مشکل ترین دور سے آپ کا گزر ہوا لیکن آپ مسلسل صبر کے دامن کو تھامے ہوئے رہے آپ نے کبھی بھی اپنے حوصلہ کو کم نہیں ہونے دیا آپ برابر اپنے اللہ سے جڑے رہے، تو کل کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا ۔ ان صفات کی بنا پر آپ کی محنت اتنی کامیاب رہی کہ بہت جلد اس محنت نے وہ رنگ دکھائے جو ناقابل یقین تھے۔
سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
ہجرت سے پہلے والا دور ہو یا ہجرت کے بعد والا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ادوار میں بے مثال کردار ادا کیا آپ ایک شفیق و رفیق معلم اور رہبر بن کر اپنے اصحاب کی رہنمائی کرتے رہے ۔آپ نے ریاست مدینہ کا قیام اس طرح فرمایا کہ آج بھی لوگ جب فلاحی ریاست کی بات کرتے ہیں تو مدینہ کا نام ان کی زبان پر پہلے آ جاتا ہے ۔ وہ ریاست ایسی تھی کہ جہاں غریب ، مسکین ، محتاج اور کمزور بھی عزت و راحت کی زندگی گزارتے تھے ۔ جہاں انصار و مہاجرین نے آپسی محبت اور بھائی چارہ کی ایسی مثال قائم کی کہ تاریخ آج تک بھی ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔عدل و انصاف اور امن اس ریاست کی ایک خاص پہچان تھی ۔غرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم ریاست مدینہ میں ایک کامیاب ترین سربراہ بن کر سامنے آئے۔
سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی عملی تفسیر ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اس قدر اللہ تعالی کے ہاں مقبول ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا “درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے” اتنا ہی نہیں بلکہ جگہ جگہ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ”جو شخص رسول اللہ سلم کی اطاعت کرے گا بے شک اس نے خدا کی اطاعت کی” جناب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ تمام عالم انسانیت کے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔
دنیا کے بڑے بڑے ادیبوں ، دانشوروں ، قلمکاروں اور مفکروں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔بہت ایسے بھی مفکر ہیں جو مسلمان نہیں تھے لیکن انہوں نےحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا اور اس سے اس قدر متاثر ہوئے ہیں کہ آپ صلی اللہ وسلم کی بہت تعریفیں بیان کیں اور اپنی تصانیف میں ان کا ذکر خیر بڑی دیانت داری سے کیا ہے۔اسی طرح کے ایک مفکر پروفیسر راماکرشنن راؤ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ہر ایک پہلو کی بہت ہی خوبصورت تعریف کی ہے۔ وہ ایک جگہ اس طرح رقمطراز ہیں:-
“The personality of Muhammad(may peace be upon him), it is most difficult to get into the whole truth of it. Only a glimpse of it I can catch. What a dramatic succession of picturesque scenes!
There is Muhammad, the Prophet; there is Muhammad, the Warrior; Muhammad, the Businessman; Muhammad, the
Statesman; Muhammad, the Orator; Muhammad, the Reformer; Muhammad, the Refuge of Orphans; Muhammad, the Protector
of Slaves; Muhammad, the Emancipator of Women; Muhammad, the Judge; Muhammad, the Saint. All in all these magnificent roles, in all these departments of human activities, he is like a hero.”
انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر میدان کا کامیاب سپاہی گردانا ہے۔حق تو یہ ہے کہ جس کسی نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا اس کی زبان سے بے ساختہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تعریفیں نکلیں۔ قابل تحسین ہیں وہ لوگ جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سیرت کا مطالعہ کیا اور ان کی مبارک تعلیمات کو اپنی زندگی میں عملانے کی کوشش کی ۔ان پر یہ حق بنتا ہے کہ وہ اپنی تحریر و تقریر سے دوسرےلوگوں کو اس بات پر ابھاریں کہ وہ بھی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں۔خاص کر امت مسلمہ کے نوجوان نسل کو اس بات کی طرف مائل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
کی محمداﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں​
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں