طلحہ ( جنید رشید راتھر )۔۔۔آونورہ شوپیان
چوری چھپے ادھار لیتے ہیں یہ غدار
جگر کا چین وقرار لیتے ہیں یہ غدار
بسمل انِکو پہچانا بڑا دشوار ہوتا ہے
ہزار روپ دھار لیتے ہیں یہ غدار
چالوں کا اک ڈھیر لئے پھرتے ہے یہ
نرم لہجوں سے مار لیتے ہے ہیں یہ غدار
کچھ بھی کریشمہ کر دیکھاتے ہے یہ
اپنے ہی صفوں کا سہار لیتے ہیں یہ غدار
ملبوس بڑے عجب رنگ میں ہوتے ہیں یہ
آنکھوں کے پر سے ہی اظہار لیتے ہیں یہ غدار
ہوتی نہیں انکو ججک کسی کا دل توڑنے میں
بڑے سنگ دل لوہار لیتے ہیں یہ غدار
میدان عشق میں طلحہ بھی جھک جاتا ہے
پر مقتل سجا کے دلدار لیتے ہیں یہ غدار
