بلال صہبا
طاق میں روشن دیا سا ہے یہاں
اس طرح تشریف فرما ہے یہاں
نور ظاہر ہے یہی سے ہر طرف
سب عیاں ہے جو بھی دیکھا ہے یہاں
ایک منبع سات دریا ہیں رواں
پار ہوں تو یار ہر جا ہے یہاں
چھوڑ غفلت کھول آنکھیں قلب کی
دیکھ لے جلوہ خدا کا ہے یہاں
کیوں نہ میری میکشی سے ہو خفا
راز مے کا جو نہ پایا ہے یہاں
ہے یہیں پر ہے چھپا ہر آنکھ سے
“کُن” کا ہی یہ امر گویا ہے یہاں
ڈھونڈتا ہے روز تو جو حرم میں
اصل مظہر اس کا صہبا ہے یہاں
