88

آہ ! سارے راز وہ ہم سے چھپا کر لے گیا

منظر زیدی

آہ ! سارے راز وہ ہم سے چھپا کر لے گیا
اپنی ہستی کو بھی وہ ظالم بچا کر لے گیا
خانۂ دل میں مرے برسوں رہا مہمان جو
نیند آنکھوں سے وہی اک دن چراکر لے گیا
دورِ حاضر کا یہ بچہ کس قدر چالاک ہے
میرے ہی ہاتھوں کے جو طوطے اڑاکر لے گیا
جانے والے کو کہا میں نے خدا حافظ تو وہ
اپنی پلکوں پر مرے آنسو سجا کر لے گیا
شہر کے دنگوں میں اسکے کام آئینگے بہت
اس لئے وہ راہ کے پتھر اُٹھا کر لے گیا
اب فراقؔو فیضؔو ساحرؔ ہیں نہ جوشؔ
موت کا طوفان ہی سب کو بہا کر لے گیا
وقت کی دُکھتی رگوں کو جس نے منظر ؔ چھو لیا
آج دنیا میں وہی عزت بچا کر لے گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں