ڈیسک 91

کویڈ کی نئی لہرہمارا فرض کیا ہے؟

کویڈ کی نئی لہر پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ متاثر ہونے والے افراد کی تعداد دن بہ دن بڑتی جارہی ہے ۔ اور اموات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ حکومت نے ٹیکے لگوانے کے کام میں بھی محکمہ صحت کو پوری طرح سے متحرک کر دیا ہے۔ مگر کیا ہم عام انسان اس خطرناک بھلا کو سمجھنے سے قاصر ہیں یا ہم سنجیدہ نہیں؟ اس سے پہلے بھی جب کویڈ کی لہر شروع ہوگئی تھی تو پہلے پہل ہم نے ٹھیک اسی طرح کی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اور نتیجہ ہماری آنکھوں کے سامنے۔ ان گنت لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ گویا انسان بالکل جیسے کسی اندھیرے کمرے میں بند ہوگیا تھا۔ اب تھوڑی سی نرمی کیا آگئی تھی کہ ہم اُس طوفان کو بھول ہی گئے تھے کہ کیا ہوا تھا ہمارے ساتھ۔ اور پھر یہ لہر ایک خطرناک وبا کی طرح شروع ہوگئی۔ مگر لوگ آج بھی ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔ بازاروں میں لوگ ایسے چلتے ہیں جیسے کسی کو کچھ علم ہی نہ ہو۔ سوشل ڈسٹنس تو دور کی بات ہے ماسک تک نہیں پہنتے ہیں۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ جب بھی ایسا کچھ ہوتا ہے تو پہلے ہم اسی طرح سے اپنی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں اور پھر جب سمجھ آتا ہے کہ موت نزدیک آگئی ہے تو الزام حکومت اور انتظامیہ پر ۔ کب تک ایسا کریں گے ہم؟ کیا ہم پر یہ فرض عائد نہیں ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا خود خیال رکھیں۔ آئو ابھی سے شروع کرتے ہیں ماسک پہنیں گے، سوشل ڈسٹنس قائم کریں گے اور احتیاط برتیں تاکہ اپنے ساے ساتھ ہم دوسروں کے جان کی بھی حفاظت کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں