میرا محبوب روٹھا ہے بہارو تم منالاؤ 98

ہاں……. میں نہ روک سکا اِسے “۔۔۔۔

فردوس تسلیم رحماؔنی
باغ ماہتاب سرینگر

“لگتا ہےکہ یہ ایک وباء ہے۔جسے اگر روکا نہ گیا تو ہوا کی رفتار سے کسی دن یہاں کشمیر کیا ہمارے گھر تک بھی پہنچ جائے گی ۔”
اپنی شریک حیات سے کہے ہوئے یہ الفاظ اُسے یاد دلائے جو گزشتہ ابتدائی ایام میں چین میں رونما ہوئے(COVID -19) کورونا مرض شروع ہونے کے وقت میں نے اُس سے کہے تھے۔۔۔۔ ہاں بالکل جیسے کل ہی کی بات ہے ۔ کہا نہ تھاکہ بات بولئے تو شُبھ شُبھ بولا کرئے ۔۔۔۔۔۔۔آہ
۔۔۔۔ برق رفتاری کچھ ایسی کہ آناً فاناً سارے جہاں کو اپنی لپیٹ میں لئے حضرت انسان کو کیا کیا نہ دیکھنے پر مجبور کردیا۔ شہر خالی، خانہ خالی ، راہ خالی ، باغ خالی ، مکتب ومدارس خالی، کلیسہ و مساجد خالی ۔۔سب خالی۔۔الغرض ہر ایک شئے کو اپنی گرفت میں لےکر انسان کو مجبور و محکوم کر کے رکھ دیا۔۔۔ بہرکیف ہر ایک اس سب سے بخوبی واقف ہے۔
کبھی کبھی انسان کی اپنی کہی ہوئی بات کتنی صحیح ثابت ہوتی ہے بس وقت معین کا انتظار رہتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔۔۔۔ آخر وہ دن آہی گیا۔۔۔۔ میرے گھر بھی اس کی دستک ہوئی۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اس ناپسندیدہ مہمان کو اندر آنے دینا پڑا کیونکہ اِس کو روکنے میں شاید مجھ سے ہی کوئی کمی رہ چکی ہوگی۔اور طاق میں بیٹھا یہ انچاہا مفت خور میرے اندر سرایت کرگیا۔
ڈر، خوف، غم، وہم، گھبراہٹ ، وسوسے، مصیبت ، گھٹن موت کا ڈر غرض سب ہتھیار ساتھ لےکر میرا مہمان وارد ہوا ۔۔۔۔ اپنی بگڑتی حالت اور کیفیت دیکھ کے ہی میں سمجھ گیا کہ معاملہ کیا ہے۔ 14-اپریل2021ء کو معاملہ صاف ہوگیا اور مہمان کی آمد کی تصدیق مثبت(+) ٹیسٹ آنے سے ہوئی۔
سارا ماحول سٗونا سٗونا سا ہوگیا۔۔۔ سامنے دکھ رہی منزلیں ماند سی پڑنے لگیں۔۔۔ سارے ارمان چِکناچٗور ہوتے دکھائی دینے لگے۔۔۔ تا حدِ نظر گھٹا ٹوپ اندھیرے سمانے لگے۔۔۔۔ بیوی بچوں ، عزیز واقارب کا خیال آتا تو کلیجہ منہ کو آنے لگا۔۔۔ سوچتا رہتا کہ ابھی تو ڈھیر سارے کام باقی ہیں۔۔۔کہاں چوٗک ہوئی کہ یہ سب دیکھنے کو مل رہا ہے۔۔۔ قریب دکھائی دینے والی موت کا عجیب ڈر۔۔۔ ابھی وہاں جانے کی تیاری بھی تو نہیں۔۔۔۔ غرض ہر محاذ پر اپنے آپ کو نامکمل پاتا رہا۔۔۔۔
درد شروع ہوکر وقت کے ساتھ بڑھتا رہا۔ روائتی علامات جیسے بخار کھانسی اور زکام سے ھٹ کر ایک نیا ہی انداز لئے پہلا حملہ سر پر ۔۔۔ سردرد برداشت سے باہر۔ پہلی بار ایسا سردرد ملا کہ سر پھٹا جارہا تھا۔ آنکھ لگتی تو خواب میں بھی سر پٹختے نہ تھکتا۔۔۔۔ احساسِ محرومی و مجبوری ہونے لگا۔ دوسرے دن شریکِ حیات کا بھی مثبت ٹیسٹ ملا تو رہی سہی اُمید بھی زائل ہوتی نظر آنے لگی۔ الگ الگ کمروں میں آیسولیشن۔۔۔
اتفاقاً میری بیٹی کا ٹیسٹ منفی کہا گیا ۔ حالانکہ اس میں بھی وہ سارے علامات تھے جو میرے تھے۔ شاید اللّہ تعالیٰ ہماری مدد اسی کے ذریعے کرنا چاہ رہا تھا۔ مثبت ہوکے بھی اسکا ٹیسٹ منفی ملا تو اپنا درد چھپا کر ہماری خدمت میں ایسی محو ہوئی کہ سامنے تک آجاتی اور کہتی کہ جو ہونا ہے ملکر ہی سہہ لیں گے ورنہ بھی ماں باپ کے بغیر ہماری کیا وقعت۔۔۔ بیٹا دوائی لاتا تو بیٹی کھلاتی پلاتی۔ مصالحہ دار قہوے ، نیم گرم مشروبات، سُکھائے میوے (dry fruits)وغیرہ حاضر رکھتے۔۔۔۔ الغرض اس النفسی عالم میں بھی ہمارے مسیحا بنے یہ معصوم بھائی بہن۔۔۔۔۔
بہر حال میرا درد ہر نئے انداز میں پنپتا رہا۔ پھونک جھاڈ، دم اور دوا سے سردرد میں کمی ہوئی تو جوڑوں اور کمر و بدن درد زوروں پر۔۔۔۔ اس میں ابھی افاقہ بھی نہ تھا کہ پیٹ میں چبھن ایسی کہ سارا گوشت و پوست جیسے بوسیدہ ہوا جارہا تھا۔ پیٹ کو چھولینے سے درد بڑھتا اور ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ جاتا تھا۔ اپنی یہ حالت دیکھ کر میں سمجھ جاتا کہ چلے جانے کا وقت قریب آتا جا رہا ہے۔ مہمان تو اپنا کام اندر اندر سے بلا روک ٹوک کر رہاتھا ۔ بچوں سے یہ غم چھپانے کی از حد کوشش کرتا رہا۔ اپنوں سے محسوس ہو رہی جدائی اور موت کا منڈلاتا سایہ میری نس نس میں نِشترکی مانِند جیسے پیوست ہوتا جارہا تھا۔۔۔ یقین مانیے زندگی کی سحر کا نام ونشان باقی نہ لگتا ، بس فقط شام ہی شام نظر آتی رہتی۔ موت کا ڈر اتنا نہیں جتنا یہ کہ آیا دفنایا جاؤں گا بھی کہ نہیں مگر ساتھ ہی یقین ہوتا کہ میرے چھوٹے بھائی (اللّہ انکو زندگی دے )مجھ سے اور ہم سب سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔۔
سینے کی جلن ،سانس کی گھٹن اور آنکھوں کا خمار ایک ہیجانی سی کیفیت پیدا کیے مجھے غم و اندوہ میں مبتلا کر دیتا۔ جسم کی قوت مدافعت ختم ہو رہی تھی، ہمت جواب دے رہی تھی۔ عجیب قسم کی تھکان پیش آرہی تھی۔ ایکسرے نے انفیکشن کا اشارہ پہلے ہی دیا تھا۔ آکسیجن کی کمی اور سانس لینے کی رکاوٹ ایک رات کچھ زیادہ ہی محسوس ہوئی۔ لیول چیک کی تو 9 8 اور 88تک گر آئی تھی۔ رات کے دو بجے تھے ۔ اللّہ تعالیٰ سے رجوع کیا کہ کسی طرح صبح تک اور کمی نہ ہو ۔ کسمپرسی کی حالت میں گرم پانی کے بخارات لیے۔ یہ کافی بہتر رہا۔ معالج بیٹی کی بات یاد آئی کہ آکسیجن کی کمی میں پیٹ کے بل اوندھے منہ سونے اور لمبی لمبی سانسیں لینے سے اس کمی کو دور کیا جاسکتا ہے۔ یہ نسخہ صحیح ثابت ہوا اور آدھے گھنٹے میں آکسیجن لیول 92تک اور صبح 94 تک اچھل چکی تھی۔
دن میں ڈاکٹر صاحبان اور ہمدرد وں سے مشورہ کیا تو سب نے متواتر گرم پانی پینے کے استعمال کا مشورہ دیا۔ مرتا کیا نہ کرتا ۔۔۔۔ گرم پانی لیتا رہا۔ یقین مانیے یہی وہ علاج تھا جس نے میرے اندر زندگی کی نئ روح پھونک دی۔۔۔ بوسیدہ محسوس ہورہا گوشت اور پوست آہستہ آہستہ واپس اپنی اصل حالت کی طرف آنے لگا۔ میرے بے حس پڑے جسم میں نئ جان پروان چڑھنے لگی۔ رفیقوں اور معالجین کے آزمودہ مشوروں اور نسخوں پر یقین اور عمل کرنے کا حوصلہ ملا۔۔۔یا شافی یا اللّہ کا ورد اور سورہ الرحمٰن کی تلاوت کرنے کا مفید نسخہ بھی ملا ۔۔۔۔ اپنی شریک حیات کو بھی یہ نسخے بتاتا رہا ۔ اسکی علامات میں بخار آنا اور زکام علاوہ تھا ۔۔۔ اسکی حالت کئی دن تک کافی مشکلات بھری رہی ہیں۔ لیکن ہمت اور حوصلے میں وہ مجھ سے کافی آگے ہیں انشاء اللہ شفایاب ہونگی۔۔۔۔ اپنی پہلے سے بیمار بیٹی پر ترس آرہا تھا۔ جسکی آنکھوں سے صاف واضح ہوتا کہ درد اور غم کی وجہ سے چُھپ چُھپ کر کتنا رویا ہے اس میری نور چشم نے ۔۔۔ اس بیٹی کا جسے میں نے ابھی پرائے گھر بھیجنا باقی ہے، میرے ذمے اُسے آرام و قرار دینا تھا ، اسے سجائے سنوارے رکھنا تھا لیکن کتنی کوفت اور تکلیف ملی میری وجہ سے۔۔ یہی حالت میرے بیٹے کی بھی تھی۔ کچھ دن بعد میرے بیٹے کا ٹیسٹ بھی اب مثبت آیا ہے۔ جسکے لیے آپ سے دعا کی درخواست ہے۔ یااللّہ یا شافی اس معصوم کو اور ہم سب کو شفاء کاملہ سے نواز لیں اور عوام الناس کواس مہلک مرض سے محفوظ رکھیں۔
میری ذہنی کوفت کو میرے خیر خواہوں کے پیغامات اور فون کالز نے کچھ ایسے اطمینان اور سکون میں بدل دیا کہ موت کا ڈر جاتا رہا اور جینے کی چاہ اجاگر ہوتی رہی۔منفی خیالات کو مثبت روجہان نے آدبوچا۔۔۔ میری شریک حیات کے ایک ڈاکٹر ماموں نے لندن انگلستان سے یہ کہہ کر ہماری حوصلہ افزائی کی کہ یہ ایک وباء ہے، جو اس کی وجہ سے رحلت کر گیا وہ شہید ہے ،اور جو اس سے صحتیاب ہوا وہ غازی بنا۔ دونوں صورتوں میں بہتری بندے کی ہی ہے ماشاءاللہ۔۔۔
ایک اور بات کا احساس بھی ضرور ہوا کہ انسانیت ، دوست داری، رشتہ داری اور اقرباء نوازی ابھی مری نہیں بلکہ زندہ و جاوید ہے۔میرے دفتری ساتھیوں نے میرے لئے نوافل پڑھیں، دوستوں نے دعاؤں سے نوازا، عزیز بچوں نے روروکر جاےنمازیں تر کیں،رشتہ داروں اور اقرباء نے نذر و نیاز چڑھائے۔ کئی ایٔمہ حضرات نے مساجد میں خصوصی دعائیں کیں، نزدیک رہ رہے رشتہ داروں نے پکے پکائے لذیذ پکوان ہم تک پہنچائے۔ جن کی مٹھاس سے اور مقوی ہونے سے ہماری کھوئی ہوئی سونگھنے کی حس واپس آئی۔ ہر ایک کا بے حد شکر گزار اور مرحونِ منّت ہوں۔ اللّہ آپ سب کو جزائے نیک دے اور اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔
اللّہ عزوجل کےبے پناہ کرم اور آپ سب کی ان کاوشوں اور دعاؤں سے ہم آج بہت بہتر محسوس کر رہے ہیں ۔
حالانکہ یقین مانیے ابھی میری حالت ایسی نہیں کہ محنت بھرا کام کروں، ہاتھوں میں لکھنے کی طاقت نہیں آنکھوں میں نظر جمانے کی سکت نہیں لیکن یہ اقتباس آپ تک پہنچانے کی از حد ضرورت محسوس کر رہا ہوں، گزارش کرنا چاہتا ہوں اور ہاتھ جوڑ کر التماس کر رہا ہوں کہ اس مرض کو معمولی نہ سمجھیں ۔ یہ بہت ہی خطرناک اور مہلک وباء ہے۔ اسکی شدت میں نے محسوس کی ہے۔ اسکا درد دینا میں نے سہا ہے۔ اسلئے احتیاط برتیں۔ ماسک ، سماجی دوری کا، منہ آنکھ یا ناک کو نہ چھونے کا اور کھانے سے پہلے صابن سے ہاتھ ضرور دھونے کا اہتمام جاری رکھیے۔ اللّہ بچائے اگر کسی کو ضرورت پڑی تو ڈاکٹروں کے مشوروں اور میرے آزمودہ علاج سے مستفید ہوں۔ ہماری جلد شفایابی کیلئے دعا کرتے رہیں۔ یہاں اس بات کا اعتراف ضرور آپکے سامنے کرنا چاہوں گا کہ ہاں کمی مجھ میں ہی رہی کہ اس بیماری کو حاوی ہونے سےنہ روک سکا لیکن آپ چاہیں تو ضرور اس انچاہے مہمان کو آنے سے روک سکتے ہیں۔ بس احتیاط لازم ہے۔ورنہ یہ مہمان ہر گھر میں دستک دینے کی طاق میں بیٹھے ہوئے ہےاور آپکی ذرا سی لاپرواہی کا موقع تلاش رہا ہے۔
اللّہ ہمارا اور آپ سب کا شافی و کرم فرما ہو۔ آمین ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں