نظم
روبی نسا
لو پہن لی چوڑیاں
چھوڑ دی ہے سادگی
نہیں کہیں گے
بوڑھے ہوئے ہیں
نہ ہی ہیں عابد نہ ہی عارفہ
تیری پسند کی چادر ہے اوڑھی
قلم رکھ دیا ہے کتابیں بھی چھوڑی
مُڑ کر تو دیکھو کہا جارہے ہو
نہیں کہیں گے
تھک سے گئے ہیں
نہیں کہیں گے
بوڑھے ہوئے ہیں
