غزل
منظر زیدی
اڑتی ہوئی پتنگ کی صورت جو کٹ گیا
میرا وجود سینکڑوں حصّوں میں بٹ گیا
مدّت کے بعدسامنے پھر انکو دیکھ کر
برسوں پرانی یاد کا ناسور پھٹ گیا
پہلے کبھی تو پیاس کا عالم نہ یہ ہوا
اب پیاس بڑھ گئی ہے کہ دریا سمٹ گیا
مٹّی سے جسکو بھرنے میں برسوں گزر گئے
لاشوں سے کتنی جلد وہ تالاب پٹ گیا
جب تک تھا وہ حیات کوئی پوچھتا نہ تھا
مرنے کے بعد سبکو اسکا نام رٹ گیا
رکھا تھا اسکا فوٹو بڑی احتیاط سے
لیکن سمے کی دُھول سے منظرؔ یہ اٹ گیا
