یہ ہم جو راہ میں پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں 128

یہ ہم جو راہ میں پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں

نعت شریف

منظور نونہ مئ ۔۔کولگام کشمیر

یہ ہم جو راہ میں پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں
وہ آئیں گے اِسی خواہش میں آئے بیٹھے ہیں
اُنھیں خوش آتا نہیں ذائقہ کسی شے کا
تمھارے در کی جو خیرات کھائے بیٹھے ہیں
قبول ہو گی عبادت انہی کی دُنیا میں
تمھارے در پہ جو سر کو جھکائے بیٹھے ہیں
تمھارے روضے کی جالی ہے روشنی کی امیں
اِسی کی لو سے مقدر جگائے بیٹھے ہیں
یہی سخن ہے ہمارا یہی ہنر داری
تمھارے نام سے کاغذ سجائے بیٹھے ہیں
وہ آئیں گے کبھی دیدار کے لیے منظور
ہم اپنے قلب کو کعبہ بنائے بیٹھے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں