سبَدر شبیر۔۔اوٹو اہربل
غفلتوں میں سوۓ ہوے ہے جگا دے
دل کی ظلمتوں کو الہٰی مٹا دے
خیال یار میں محفل سجی ہوئی ہے
جامِ عشق ہم کو بھی پلا دے
رنج و غم نے گھیرا ہوا ہے
رحمتوں کی بارش الہٰی برسا دے
تیری رحمت کی نظر ہو قدم بہ قدم
ہر پل زندگی کا خوشگوار بنا دے
گناہوں، خطاؤں سے دامن بھرا ہوا ہے
تو اپنے کرم سے معاف فرما دے
ہر پل تیری یاد میں گزر جاے مولا
خلوت میں اپنا جلوہ دکھا دے
میرے دل میں بس اک تمنا ہے
یارب مدینہ ہم کو بھی دکھا دے
تو نے کانٹوں کو پھولوں میں جگہ دی
میرے عیبوں کو بھی ایسا ہی چھپا دے
جوانی سبَدر کی گزرگی لغزشیں بہت ہیں
باقی جو زندگی ہے راہ حق پہ مٹا دے
