بلال صہیبا
تریاق چاہئے نا اکسیر مانگتے ہیں
بیمار عشق کے بس شمشیر مانگتے ہیں
کچھ لوگ کھینچتے ہیں قسمت کی خود لکیریں
کچھ عمر بھر خدا سے تقدیر مانگتے ہیں
دہلیز یار سے ہے کیسا یہ انس ان کا
وابستگی کی خاطر زنجیر مانگتے ہیں
جس خلق میں خدایا انسانیت ہو شامل
تعمیر میں کچھ ایسی تخمیر مانگتے ہیں
شیوا قلندروں کا کچھ یوں رہا ہے دائم
دیدار یار، کلہم جاگیر مانگتے ہیں
قائم یہ دو جہاں ہیں امید کی کرن پر
بے آسرا، صنم سے جَو شیر مانگتے ہیں
تلوا سمیت اپنا صہبا کرےجو روشن
ایسی چراغ میں ہم تنویر مانگتے ہیں
