طاق میں روشن دیا سا ہے یہاں 114

غزل

بلال صہیبا

تریاق چاہئے نا اکسیر مانگتے ہیں
بیمار عشق کے بس شمشیر مانگتے ہیں
کچھ لوگ کھینچتے ہیں قسمت کی خود لکیریں
کچھ عمر بھر خدا سے تقدیر مانگتے ہیں
دہلیز یار سے ہے کیسا یہ انس ان کا
وابستگی کی خاطر زنجیر مانگتے ہیں
جس خلق میں خدایا انسانیت ہو شامل
تعمیر میں کچھ ایسی تخمیر مانگتے ہیں
شیوا قلندروں کا کچھ یوں رہا ہے دائم
دیدار یار، کلہم جاگیر مانگتے ہیں
قائم یہ دو جہاں ہیں امید کی کرن پر
بے آسرا، صنم سے جَو شیر مانگتے ہیں
تلوا سمیت اپنا صہبا کرےجو روشن
ایسی چراغ میں ہم تنویر مانگتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں