افسانہ۔۔۔’’ پِیروں کے پِیر ‘‘ 91

امریکی فوجی انخلاء سے فکر مند کون اور کیوں ؟

ر شید پروین ؔسوپور
’’آپ اپنے حرب و ضرب ، فوجی سازو سامان ، انتہائی خطر ناک تینکنالوجی، کیمیکل اور اٹامک ویپن کے ساتھ کسی بھی ملک کی زمین کو تحس نحس کرسکتے ہیں ، گلستانوں اور سر سبز و شاداب سر زمینوں کو ریگستانوں میں تبدیل کرسکتے ہیں ، سبزہ ذاروں اور کہساروں کو ہیرو شیما اور ناگاسا کی ، شہروں کی طرح جہنم زار بناسکتے ہیں لیکن اگر اس قوم کے افراد میں خوئے غلامی نہیں ،اور جذبہ جہاد کو عبادت سمجھ کر مسلسل کشمکش اور انتھک جدوجہد میں یقین کامل رکھتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت بہت زیادہ یا طویل عرصے تک انہیںنہ تو مغلوب اور نہ ہی شکست سے دوچار کرسکتی ہے ،، اور یہ اصو ل یکساں طورپرسبھی اقوام کے لئے انہی نتائج کا حامل رہا ہے جب اس عمل پیہم، اور جہاد زندگی کامظاہرہ کسی بھی قوم سے ہوا ہے تو وقت کی سپر پاورس اس عزم کے سامنے ریت کی دیواریں ہی ثابت ہوئیں ہیں ، ماضی بعید کی بات نہیں کریں گے لیکن ویت نام کی مثال ابھی دھند میں غائب نہیں ہوئی ہے ، حالیہ دور میں عراق اور اس کے بعد ْ/ 11۹ ، ۲۰۰۱؁ئواقعے کے رد عمل میں جو افغانستان پر بیتی ہے اور جس انداز میں امریکی قوت کے ساتھ ساتھ یورپی اتحادی افواج نے پورے ملک کو صفحہء ہستی سے مٹانے کی قسم کھاکر ، بھر پور مادی ،فوجی اور الیکٹرانک میڈیا کی طاقت سے اس سر زمین کو اپنی بے انتہا بمباری سے ر وئی کی طرح دھنک دیا اس نے دور بیٹھے ہوئے تمام دنیا کے ممالک اور انصاف پسندوں کو نہ صرف لرزہ بر اندام کیا بلکہ ’صم بکم ‘‘ اور خوف و ڈر سے اپنے ہونٹ سینے پر مجبور کردیا ، ،،امریکی غرور ویت نام میں بھی چکنا چور ہوا تھا ، اور افغانستان میں بھی امریکی گھمنڈ اور تکبر کے شیش محل ٹوٹنے کی صدائے باز گشت اس وقت ساری دنیا میں گونج رہی ہے جو آج بھی مادی قوتوں پر انحصار اور ایمان رکھنے والوں کے لئے حیران کن ، ناقابل یقین ا ور تعجب خیز ہے ،،،، پہلے /11۹ ،، ستمبر گیارہ ۲۰۰۱؁ء صبح کے آٹھ بج کر پنتالیس منٹ پر امریکہ کے اندر نیو یارک میں واقع ۱۱۰ منزلہ ٹریڈ سنٹر پر کئی جہازوں سے حملہ ہوا ، ٹریڈ سنٹر کی ساری عمارت گردوغبار بن کر لمحات میں ڈھ گئی ٹریڈ سنٹر میں لگ بھگ ۳۰۰۰ امریکی اس حملے میں مارے گئے ، لیکن اس دن حیر ت انگیز طور پر تمام اسرائیلی ملازم لیو پر تھے ،، امریکی اور یہودی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا نے کمال منصوبہ بندی سے اس دہشت گردی کا ذمہ دار اسامہ بن لادن کو ٹہھرایا ، آسٹریلیا کے اخبار نے باضابطہ اس منصوبے کو انسائڈ جاب کہہ کر اسرائیل کی طرف انگشت نمائی کی تھی لیکن افغانستان پر چڑھ دوڈنے اور اس سر زمین کو ریگستانوں میں تبدیل کرنے کی جلدی اتنی تھی کہ کہیں سے اور کسی بھی ملک کو اپنے شبہات کے اظہار کا موقع نہیں ملابلکہ چار و ناچار ساری دنیا امریکی اور اسرائیلی نریٹو کے ساتھ چلنے پر مجبور ہوئی اورکسی میں اس نریٹیو اور بیانیہ سے اختلاف رکھنے کی ہمت اور سکت نہیں ہوئی ، یہ دنیا کی وحشی ترین قوم ہے اور آپ کو یاد ہوگا کہ عراق کو مکمل تباہ و برباد کرنے اور لاکھوں معصوموں کا قتل کرنے کے بعد اتنا کہتے ہیں کہ ،’’ سوری، ہماری اطلاعات غلط تھیں ،‘‘کیا اس طرح کے ملک کو بین الاقوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا نہیں ہونا چاہئے ؟ افغانستان کے خلاف منصوبے بن چکے تھے ویسے ہی عراق ، شام وغیرہ کے خلاف آج بھی جاری ہیں اس لئے صرف کچھ دنوں بعد امریکی اور یورپی اتحادیوں نے اکتوبر ۷ ۲۰۰؁ء سے افغانستان پر بے انتہا بمباری شروع کی جہاں طالبان کی حکومت مستحکم ہوچکی تھی اور سب سے بڑا مسلہ ساری دنیا کے حکمرانوں کے لئے یہ تھا کہ طالبان بڑی حد تک اسلامی نظام حکومت مستحکم کر چکے تھے اور آج بھی وہ اپنے اسی موقف پر ڈٹے ہیں کہ افغانستان میں یہ نظام نافذہوکر رہے گا چاہئے اور تیس برس بھی جہاد کا سلسلہ جاری رکھنا پڑے کیونکہ طالبان سمجھتے ہیں کہ جہاد ان کی عبادات کا ایک حصہ ہے ،، اس پسِ منظر میں اب بیس برس بعد امریکہ نے افغانستان چھوڈنے اور افغان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے اگر چہ طالبان کے ساتھ معاہدے میں یہ انخلا ء مئی میں ہی ہونا تھا لیکن اب انہوں نے تین مہینے کی تاخیر کے ساتھ ستمبر تک اپنی ساری افواج افغانستان سے واپس بلانے کا اعلان کیا ہے جس کے ساتھ ہی یورپی اتحادی بھی اپنی افواج واپس بلائیں گے ،،، کیا اس سے آپ ایک معجز ے سے کم سمجھ سکتے ہیں؟ ،، ، اس جنگ کے نتائج سے ہی علامہ کے اس شعر کا مفہوم اور حقانیت سمجھ میں آسکتی ہے (کافر ہوتو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ ۔ مومن ہوتو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ۔) اس انخلا ء سے جو ،اب اعلان کے مطابق ستمبر تک مکمل ہونا ہے دنیا کے بہت سارے ممالک پریشاں ہیں لیکن کچھ نزدیکی اور افغانستان کی سرحدوں کے ساتھ ہمسایہ ممالک کچھ زیادہ ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ پراگندہ اور اضطراب جھیل رہے ہیں ،اصل وجوہات پر آنے سے پہلے اس لاحاصل امریکی اور یورپی جنگی اتحاد کا ایک مختصر سا جائزہ بہتر رہے گا ، امریکہ میں’’ کوسٹ آف وار پراجیکٹ‘‘ نے انہی دنوں اپنی رپورٹ یوں شائع کی ہے ، افغانستان میں پچھلے بیس برس کے دوران جنگ میں دو لاکھ اکتالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں ، جن میں اکہتر ہزار تین سو چوالیس شہری ، ۲۴۴۲ امریکی فوجی ،۷۸۳۱۴افغانی سیکورٹی ،۸۴۱۹۱ طالبان، شہید ہوئے، اس رپورٹ کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بلکل درست ہے براون یونیورسٹی امریکہ کے ’’واٹسن ا نسٹیٹیوٹ ا ور بوسٹن یونیورسٹی کے پارڈی سنٹر نے ایک مشترکہ رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس لایعنی اور لاحاصل جنگ پر امریکہ نے ۲۲کھرب ڈالرز خرچ کئے ہیں ، ان اخراجات کو بھی حتمی نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ امریکی سرکار شروع سے ہلاکتوں اور اخراجات کو گھٹا کر پیش کرتی رہی ہے ، ظاہر ہے کہ وقت کے فرعون اور فرعونی ممالک یہ سارے وسائل انسان اور انسانیت کی بہتری پر خرچ کرتے تو دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا ، امریکیوں نے اپنے اس بہترین اور سائنسی لحاظ سے عروج کے دور میں اپنی انا ، خود پرستی اور تکبر و غرور میں دنیا کے کئی کمزور ممالک کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بھرپور لیکن لا حاصل کوششیں کی ہیںاور تاریخ گواہ ہے کہ بہت جلد زمانہ ان باطل قوتوں کا بھی محاسبہ کرکے انہیں ایک خاص مدت کے بعد زمانوں کی گردو غبار میں پنہاں کرے گا ، اب اس بات پر آتے ہیں کہ ساری دنیا کو عمومی اور کچھ ممالک کو خصوصی پریشانی کیا ہے ؟، پاکستان کی کوششوں سے ہی طالبان نہ صرف امریکہ کے ساتھ میز پر بیٹھے ہیں بلکہ کئی بار ڈیڈ لاک پیدا ہونے کے باوجود طالبان پر پاکستانی اثر و رسوخ نے ا نہیں مذاکرات پر آمادہ کیا اس سارے دور میں پاکستان کئی تلخیوں کے باوجود طالبان کو سپورٹ کرتا رہا ، پاکستان بھی افغانستان کی جنگ میں ساری مدت کئی لحاظ سے براہ را ست ملوث رہا ،دوئم یہ کہ افغان مہاجرین کی ایک کثیر تعداد پاکستان میں روسی فوج کشی سے یہاں موجود ہے، تیسری اہم بات یہ کہ کئی اور ممالک نے ان مہاجرین کے اندر پاکستان مخالف کیمپ بھی قائم کئے ، جنہوں نے پاکستان میں وقتاً فوقتاً دہشتگردیوں کے بڑے بڑے کارنامے انجام دئے جن کا مقصد ہی پاکستان کو ڈی سٹبلائز کرنا تھا اور جس کی وجہ سے اس مدت کے دوران پاکستان کی چولیں بھی ہل گئیں ، آن ریکارڈ پاکستان نے کئی بار ایسے مواقعہ پر بھارت کو مورد الزام ٹھہرایا ،اور بین ا لاقوامی سطح کے اداروں تک بھی یہ بات پہنچا دی ، آرمی اور سماجی سدھار کے نام پر بھارت نے بھی ان بیس برسوں کے دوران اشرف غنی اور اس جیسے دوسرے امریکی کٹھ پتلی حکمرانوں کے ساتھ زبردست تعاون جاری رکھتے ہوئے اپنا بہت ہی بڑا سرمایہ لگا دیا ہے ، اور طالبان کے برسر اقتدار آنے کی وجہ سے اس سب پر نہ صرف پانی پھر جائے گا بلکہ یہ امداد کہیں قابل ذکر بھی نہیں رہے گی دوئم یہ کہ بھارت سمجھتا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں عدم استحکام ہوگا جو کشمیر پر اثر انداز ہوسکتا ہے ،، ایران کے ساتھ بھی طالبان کی نہیں بنتی لیکن یہاں جنگ کا کوئی خطرہ نہیں ، روسی ریاستوں میں طالبان کی جہاد ی کامیابی سے نزدیکی مسلم ریاستوں میںاس خیال کو تقویت حاصل ہوسکتی ہے کہ مسلم دنیا کی منزل اسی جہادی راستے سے ہوکر گذرتی ہے سامان عیش و عشرت اور ڈر و خوف سے۔ سرنڈر میں نہیں ،، ، تیس برس روس و امریکہ سپر پاورس اور سارے یورپ کے ساتھ بر سر پیکار رہنے اور انہیں شکست سے دوچار کرنے کے بعد طالبان کے لئے ملک کی ٹوٹ پھوٹ ، انتشار ، غربت ، اداروں کی بحالی ا ور ایک درست سمت میں متحد ہوکرگامزن ہونا ایک چلینج ہوگا ان سارے محاذوں کے ہوتے ہوئے وہ اپنے ملک سے باہر جھانکنے اور اپنی سرحدوں سے باہر کسی کے لئے خطرہ بننے کے متحمل نہیں ہوسکتے ،، پھر اصل تحفظات کیا ہیں ؟جنہیں کئی ممالک الگ الگ انداز اور نریٹیو سے بیان کر رہے ہیں ، ، طالبان اس وقت بھی افغانستان کی سٹھ فیصد زمین پر قابض ہیں ، بلکہ یہاں آزاد ذرائع کے مطابق اطمینان کے ساتھ ان کی حکمرانی جاری ہے جہاں لوگوں میں کسی قسم کا خوف اور ڈر نہیں ، بلکہ انصاف اور عدل پر شریعت کے مطابق سسٹم چل رہا ہے ،، لیکن اس تحریک کی کامیابی بر صغیر ہند و پاک اور خطہء جنوبی ایشیاء پر ہی نہیں بلکہ ساری دنیا پر اپنے اثرات یقینی طور پر مرتب کرے گی جس کے اثرات پہلے ہی محسوس کئے جارہے ہیں ، پاکستان میں بھی شرعی نظام کے نفا زکا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے ، اور بھارت خود سیکولر اور سوشلزم جیسی اصطلاحات کا مذاق اڑاکر ’’ہندوتوا ‘‘کی جانب گامزن ہوچکا ہے ، یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ روسی سرحدوں کے ساتھ مسلم ریاستیں ،پاکستان اور شاید آگے بنگلہ دیش میں بھی شرعی نظام حیات کا مطالبہ کوئی بڑی بات نہیںہوگی ، دنیا کی ساری طاغوتی طاقتوں نے متحدہو کراس ملک کے سارے ڈھانچے ہی کو زمین بوس تو کردیا لیکن اس جذبے کو فنا نہیں کرسکا جس کے سامنے اتنی بڑی طاقتیں بے بس اور لاچار ہوچکی ہیں ،اصل میں افغانستان سے امریکی انخلاء کسی دوسرے ملک کی سالمیت کے لئے کوئی خطرہ نہیں لیکن غیر مستحکم ،شورش زدہ اور خانہ جنگی کا شکار افغانستان کسی بھی ملک کے مفادات میں نہیں بلکہ شدید خطرات اور تشویش کا باعث بن سکتا ہے ، اس لئے پاکستان ، ایران ، روس چین ،ترکی،ہندوستان سب ممالک کے لئے اس پیچیدہ صورتحال کو اپنے درست تناظر میں سمجھ اور دیکھ کر افغانستان میں امن کو فروغ دینا ہی بہتر رہے گا بہ نسبت اس کے کہ اپنے اپنے اہداف کے تعاقب میںیہ ممالک اپنے لئے نئے محاذ کھول دیں ،،،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں